اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان کی جانب سے ووٹ کی رازداری افشا کرنے کے معاملے میں پی ٹی آئی چیئرمین کی معافی کی درخواست منظور کرلی۔

الیکشن کمیشن نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کے خلاف جاری کیا گیا راز داری افشا کرنے کا نوٹس واپس لے لیا۔

الیکشن کمشنر سردار رضا کی سربراہی میں کمیشن کے بینچ میں شامل ایک رکن نے عمران خان کی معذرت قبول کرنے کی مخالفت کی جبکہ دیگر 3 ارکان نے عمران خان کی معافی قبول کرلی۔

مزید پڑھیں: ووٹ کی رازداری افشا کرنے کا معاملہ، عمران خان کے وکیل کا جواب مسترد

ذرائع کے مطابق چیف الیکشن کمشنر نے پی ٹی آئی چیئرمین کی معافی قبول کرنے کی مخالفت کی تھی اور اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ووٹ کی حرمت پامال کرنے کے حوالے سے شواہد ریکارڈ ہونے چاہیے۔

تاہم الیکشن کمیشن کے سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ارکان نے نوٹس واپس لینے کا فیصلہ دیا۔

جس کے بعد قومی اسمبلی کے این اے 53 سے عمران خان کی کامیابی کا نوٹیفکیشن آج کسی بھی وقت جاری ہونے کا امکان ظاہر کیا جارہا تھا۔

بعد ازاں الیکشن کمیشن نے غیرمشروط معافی قبول ہونے پر این اے 53 سے عمران خان کی کامیابی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے خلاف ووٹ کی رازداری افشا کرنے کے معاملے پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں بینچ نے عمران خان کی جانب سے ووٹ کی رازداری افشا کرنے سے متعلق لیے گئے نوٹس پر کیس کی سماعت کی تھی۔

دوران سماعت عمران خان کے وکیل بابر اعوان کمیشن کے سامنے پیش ہوئے اور عمران خان کا تحریری جواب دوبارہ جمع کرایا، جس میں چیئرمین تحریک اںصاف نے الیکشن کمیشن سے غیر مشروط معافی مانگ لی تھی۔

ای سی پی میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں کہا گیا کہ عمران خان الیکشن کمیشن اور انتخابی قوانین کی قدر کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کا 'وزیراعظم' کے طور پر پنجاب ہاؤس میں رہائش اختیار کرنے کا فیصلہ

عمران خان کے جواب کے مطابق ووٹ کاسٹ کرتے وقت پولنگ اسٹیشن لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا تاہم وہ ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے پولنگ اسٹیشن میں اکیلے گئے اور پولنگ عملے سے پوچھا کہ مہر کہاں لگاوں۔

تحریری جواب میں کہا گیا کہ پولنگ اسٹیشن میں فرنیچر بکھرا پڑا تھا، ایک ٹیبل پر بیلٹ پیپر رکھ کر مہر لگانے کا کہا گیا جبکہ میڈیا نے میری مرضی کے بغیر میرے ووٹ کاسٹ کرنے کی ویڈیو بنائی۔

عمران خان کی جانب سے کہا گیا کہ انہوں نے جان بوجھ کر قانون کی خلاف ورزی نہیں کی لیکن میں وہ اپنے غیر ارادی اقدام پر غیر مشروط معافی مانگتے ہیں۔

اس موقع پر عمران خان کی جانب سے الیکشن کمیشن سے استدعا کی گئی کہ ان کے خلاف نوٹس کو نمٹایا جائے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وکیل کی جانب سے ووٹ کی رازداری افشا کرنے کے معاملے میں جمع کرائے گئے جواب کو مسترد کرتے ہوئے دوبارہ دستخط شدہ جواب جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے اعتراض لگایا تھا کہ اس معافی نامے پر عمران خان کے دستخط نہیں جبکہ وہ اپنا دستخط شدہ تحریری جواب الیکشن کمیشن میں جمع کرائیں۔

یاد رہے کہ 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں عمران خان اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے اسلام آباد کے ایک پولنگ اسٹیشن میں پہنچے تھے تو انہوں نے اپنا ووٹ کیمرے کے سامنے ہی کاسٹ کردیا تھا۔

مزید پڑھیں: عمران خان،ایاز صادق،فضل الرحمٰن،پرویز خٹک کی معافی قبول

عمران خان کی جانب سے میڈیا کے کیمروں کے سامنے اپنا ووٹ کاسٹ کرنے پر الیکشن کمیشن کے سیکریٹری نے افسوس کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے ووٹ دکھانے کا جرم ثابت ہوا تو انہیں سزا بھی ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ ووٹ کی رازداری کو افشا کرنے پر 6 مہینے قید اور ایک ہزار روپے جرمانہ کی سزا مقرر ہے۔