سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جنوری سے اگست کے پہلے ہفتے تک پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں بچوں کے ریپ کے 141 مقدمات درج کیے گئے لیکن ایک بھی مجرم کو سزا نہیں ہوسکی۔

لاہور میں کم عمر لڑکوں اور لڑکیوں کے ریپ کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے، آئے روز ایسے واقعات سامنے آرہے ہیں لیکن پولیس کی جانب سے ناقص تفتیش اور مجرموں کو سزا نہ ہونے پر وہ قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں۔

قصور میں 8 سالہ زینب کے ریپ اور قتل کے کیس میں چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیا تھا تاہم اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے نوٹس لیے جانے کے باوجود ان جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔

لاہور میں بچوں پر ہونے والے جنسی حملوں کے خطرناک حد تک بڑھتے ہوئے اعداد وشمار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے جرائم پولیس حکام کی ترجیحات میں شامل نہیں۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گنجان آبادیوں میں کھیل کے میدان، گلیوں، مارکیٹ اور دکانوں میں بچوں کو ریپ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: لاہور 2016-17 میں بچوں سے زیادتی کے حوالے سے سرفہرست شہر

ماہر نفسیات کے مطابق بچپن میں کیے گئے جنسی حملے کے اثرات متاثرین کو زندگی بھر پریشان کیے رکھتے ہیں، جس سے ان کی جسمانی اور ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ جنسی حملوں کے متاثرین میں سے اکثر کو ڈپریشن، پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر، بے چینی اور دیگر نفسیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ان میں بیشتر متاثرین تنہا زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں اور رشتہ داروں، دوستوں اور کلاس فیلوز سے رابطہ رکھنے سے گریز کرتے ہیں، انہوں نے مزید بتایا کہ کچھ متاثرین بڑے ہونے کے بعد خود بھی اس جرم میں ملوث ہوجاتے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جنوری 2018 سے اگست کے پہلے ہفتے تک لاہور میں کم عمر لڑکیوں کے ساتھ ریپ کے 77 مقدمات درج ہوئے۔

جن میں سے 31 لڑکیوں کا ریپ شہر کے کنٹونمنٹ ڈویژن میں، 16 کا ماڈل ٹاؤن اور 12 کا ریپ شہر کے دیگر حصوں میں کیا گیا تھا۔

اعداد و شمار کے مطابق ایسے ہی 11 مقدمات صدر، 5 لائنز ایریا اور 2 اقبال ٹاؤن ڈویژن میں درج ہوئے تھے۔

ان 77 مقدمات میں 8 کو پولیس نے ثبوت کی کمی کے باعث منسوخ کردیا تھا جبکہ باقی مقدمات عدالتوں میں زیرِ التوا ہیں۔

اس سے ملتے جلتے اعداد وشمار ان مقدمات کے بھی ہیں جو کم عمر لڑکیوں پر حملے سے متعلق ہیں۔

پولیس کے اعدادو شمار کے مطابق جنوری 2018 سے اگست 2018 کے دوران لاہور کے مختلف علاقوں میں 79 لڑکوں کو ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔

اکثر کیسز میں لڑکوں پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ رہائشی علاقوں میں موجود دکان پر گئے یا گلی میں کھیل رہے تھے، ان کیسز میں سب سے زیادہ 25 کیس کنٹونمنٹ ڈویژن میں، 20 صدر میں اور 17 ماڈل ٹاؤن میں درج کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں : قصور:کمسن بچی کے مبینہ ریپ، قتل پر احتجاج، توڑ پھوڑ

لاہور کے دیگر علاقے جہاں سے اس قسم کے مقدمات درج ہوئے ان میں اقبال ٹاؤن سے 8، سٹی سے 6 اور سول لائنز سے 3 مقدمات درج کروائے گئے۔

اعدادوشمار کے مطابق ان 79 میں سے 8 مقدمات کو ثبوت کی کمی اور دیگر وجوہات کی بنیاد پر منسوخ کردیا گیا تھا۔

حیران کن بات یہ ہے کہ ان تمام مقدمات کے مجرموں میں سے کسی اور کو بھی اب تک سزا نہیں دی گئی اور ان 141 مقدمات میں ملوث تمام مجرم عدالت سے ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب پولیس ذرائع نے بتایا کہ غریب خاندانوں سے تعلق ہونے کے باعث شہر میں کم عمر بچوں کے ساتھ ہونے والے ریپ کے بیشتر واقعات رپورٹ ہی نہیں کروائے جاتے۔

انہوں نے کہا کہ اکثر کیسز میں لوگ میڈیا، سوسائٹی اور حکام کی جانب سے تنقید کے باعث ایف آئی آر درج کروانے سے بھی کتراتے ہیں۔

ڈی آئی جی آپریشنز شہزاد اکبر کا ماننا ہے کہ بچوں کے ساتھ ریپ کرنے والے مجرموں کو ایک فیصد رعایت بھی حاصل نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ’میں ایسے مجرموں کو درندہ قرار دیتا ہوں اور معصوم بچوں کی حفاظت ہی میرا اولین فرض ہے'۔

انہوں نے کہا کہ لاہور میں بچوں سے ریپ کے گھناؤنے جرم میں ملوث مجرموں کے لیے ایک خصوصی سیل بنائے جانے کی تجویز زیر غور ہے جہاں انہیں قید کرکے سخت ترین سزائیں دی جائیں گی۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ پولیس بچوں سے ریپ کی لعنت کو معاشرے میں جڑ سے ختم کرنے کے لیے مزید کوششوں کو بروئے کار لانے پر غور کررہی ہے۔‘


یہ خبر ڈان اخبار میں 10 اگست 2018 کو شائع ہوئی