لاہور کی سیشن عدالت میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سربراہ شہباز شریف کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر ماڈل ٹاؤن تھانے کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی۔

سیشن عدالت میں ایڈیشنل سیشن جج اظہر اقبال رانجھا نے شہری کی درخواست پر مولانا فضل الرحمٰن اور شہباز شریف کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت کی۔

عدالت نے ایس ایچ او ماڈل ٹاؤن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی۔

مزید پڑھیں: 56 کمپنیوں میں مبینہ کرپشن: شہباز شریف سپریم کورٹ میں پیش

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل سلیم چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے 8 اگست کو الیکشن کمیشن کے باہر اشتعال انگیز تقریر کی۔

ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے تقریر میں کہا تھا کہ ہم 14 اگست نہیں منائیں گے جس سے عوام کے جذبات مجروح ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی تقریر بغاوت کے زمرے میں آتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نازیبا زبان کا استعمال، ایاز صادق، فضل الرحمٰن، پرویز خٹک بھی طلب

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے بھی عوام کو آزادی کا دن نہ منانے کی تقلید کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ایک آزاد ملک میں رہتے ہیں، اگر کوئی رہنما پاکستان کی بقا اور وجود کے خلاف بیانات دے گا تو اس کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ درج ہونا چاہیے۔'

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے مولانا فضل الرحمٰن اور شہباز شریف کے خلاف ماڈل ٹاؤن تھانہ میں مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی تاہم اس کی شنوائی نہیں ہوئی۔

مزید پڑھیں: ڈیڑھ دہائی بعد مولانا فضل الرحمٰن سرکاری رہائش گاہ سے ’محروم‘

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ مولانا فضل الرحمٰن اور شہباز شریف کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دے۔

بعد ازاں عدالت نے درخواست گزار کا موقف سننے کے بعد احکامات جاری کیے۔