قومی ٹیم کے کھلاڑی شاہ زیب حسن کی پاکستان سپرلیگ (پی ایس ایل) کے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے فیصلے میں عائد 10 لاکھ روپے جرمانے کے خلاف اپیل کو مسترد کردیا گیا جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی درخواست قبول کرتے ہوئے پابندی کو بڑھا کر 4 سال کر دیا گیا۔

پی ایس ایل اسکینڈل کے فیصلے کی اپیل کی سماعت کے لیے مقرر جسٹس حامد فاروق نے دونوں جانب سے دلائل سننے کے بعد نظرثانی اپیلوں پر فیصلہ سنایا۔

یاد رہے کہ پی سی بی کی جانب سے قائم انسداد کرپشن ٹربیونل نے رواں سال 28 فروری کو شاہ زیب حسن کو جرم ثابت ہونے پر ایک سال کی پابندی اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

انسداد کرپشن ٹربیونل نے شاہ زیب حسن کو پی سی بی کے آئین کی تین شقوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہرایا تھا۔

مزید پڑھیں:شاہ زیب حسن پر ایک سال کی پابندی اور دس لاکھ روپے جرمانہ عائد

شاہ زیب حسن پہلے ہی ایک سالہ پابندی مکمل کرچکے تھے تاہم انھوں نے جرمانے کے خلاف اپیل دائر کی تھی جبکہ پی سی بی نے ٹریبونل کے ایک سالہ پابندی کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔

جسٹس حامد فاروق نے پی سی بی کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے شاہ زیب حسن کی سزا ایک سال سے بڑھا کر چار سال کر دی جبکہ شاہ زیب حسن کی اپیل مسترد کرتے ہوئے 10 لاکھ روپے جرمانے کو بھی برقرار رکھا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شاہ زیب حسن پر عدم تعاون اور کھلاڑیوں کو اکسانے کا جرم ثابت ہوا جبکہ شاہ زیب حسن ایک سال کی سزا کاٹ چکے ہیں۔

پی سی بی کے وکیل تفضل رضوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے شاہ زیب کی پابندی میں توسیع کی درخواست کی تھی جس کو منظور کرلیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمارا موقف تھا کہ شاہ زیب کو تین شقوں کی خلاف ورزی پر ایک سال سے زائد سزا ہونی چاہیے اور آج ہمارے موقف کو تسلیم کیا گیا۔

خیال رہے کہ شاہ زیب حسن کو گزشتہ برس 18 مارچ کو معطل کیا گیا تھا اس لیے ان کی سزا 17 مارچ 2018 کو ختم ہو جائے گی۔

شاہ زیب حسن کیس کی اینٹی کرپشن ٹریبونل میں گزشتہ سال 21 اپریل سے سماعت شروع ہوئی اور ان کے خلاف اسپاٹ فکسنگ کیس کا فیصلہ 31 جنوری کو محفوظ کیا گیا تھا۔