سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی سزا معطلی کی درخواستوں کی سماعت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ کا نیا بینچ تشکیل دے دیا گیا۔

جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ آئندہ ہفتے درخواستوں کی سماعت کرے گا۔

قبل ازیں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی درخواست پر سماعت کی تھی۔

العزیزیہ اسٹیل مل اور فلیگ شپ ریفرنسز کی دوسری عدالت کو منتقلی کے لیے درخواست بھی جسٹس عامر فاروق اور میاں گل حسن اورنگزیب نے سنی تھی۔

تاہم گرمیوں کی تعطیلات کے باعث جسٹس عامر فاروق آئندہ ہفتے دستیاب نہیں ہوں گے، جس کے بعد رجسٹرار آفس نے نئے بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو بھجوا دیا تھا۔

سزا معطلی کی درخواستوں پر ابتدائی سماعت جسٹس محسن اختر اور میاں گل حسن نے کی تھی، لیکن جسٹس محسن اختر بھی رخصت پر چلے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ایون فیلڈ ریفرنس سزا کےخلاف درخواست کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا

یاد رہے کہ 6 جولائی کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو مجموعی طور پر 11 سال قید، مریم نواز کو مجموعی طور پر 8 سال قید اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔

سزاؤں کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں بھی اپیل دائر کی گئی تھی جس کی سماعت کے لیے جسٹس شمس محمود مرزا، جسٹس ساجد محمود سیٹھی اور جسٹس مجاہد مستقیم احمد پر مشتمل فل بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔

تاہم فل بینچ کے سربراہ جسٹس شمس محمود مرزا نے سماعت سے معذرت کر لی تھی جس کے باعث بینچ ٹوٹ گیا تھا۔