دیامر میں طالبات کے اسکولوں کو نذرآتش ہونے سے بچانے میں ناکامی اور مبینہ طور پر غفلت برتنے پر ڈپٹی انسپیکٹر جنرل (ڈی آئی جی) گلگت بلتستان گوہر نفیس نے 4 پولیس افسران کو معطل کر دیا۔

ڈی آ ئی جی گلگت بلتستان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ معطل ہونے والے افسران میں گریڈ 16 اور 17 کے 2 افسران، داریل اور تانگیر کے ایس ایچ اوز شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2 افسران کو اس شرط پر بحال کیا جائے گا کہ وہ مطلوب ملزمان کو گرفتاری کو یقینی بنائیں۔

مزید پڑھیں: دیامر میں شرپسندی سے سی پیک پر منفی اثرات مرتب

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دیامر واقعات کے ماسٹر مائنڈ کا نام اگلے 24 گھنٹے میں سامنے لایا جائے گا۔

گوہر نفیس نے بتایا کہ اسکول واقعے میں ملوث گرفتار ملزمان سے ملنے والی معلومات پر تفتیش سو فیصد درست سمت میں آ گے بڑھ رہی ہے۔

دوسری جانب گلگت میں دیامر واقعے پر اپیکس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق اجلاس میں دیامر واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کے فیصلے کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان: لڑکیوں کیلئے قائم متعدد اسکول نذر آتش

واضح رہے کہ 3 اگست کو گلگت بلتسان کے علاقے چلاس میں نامعلوم شرپسندوں نے رات کے اندھیرے میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے قائم متعدد اسکولوں کو نذر آتش کردیا تھا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین سینیٹر رحمٰن ملک نے چلاس و دیامر میں لڑکیوں کی اسکولوں کے نذر آتش کیے جانے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکریٹری گلگت بلتستان سے واقعے کی رپورٹ طلب کی تھی۔

حملے کے واقعات کے بعد محکمہ داخلہ کے احکامات پر ضلع گلگت کے تمام تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی بھی بڑھادی گئی تھی۔