چین کے شمال مشرقی علاقے کے شہر ویزھو میں ہزاروں مسلمانوں نے احتجاج کرکے حکومت کی جانب سے مسجد کو مسمار کرنے کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔

خبر ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق حوئی قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد ویزھو میں واقع جامع مسجد میں جمع ہوئے اور حکومتی اقدامات کے خلاف احتجاج کیا۔

احتجاج میں شامل 72 سالہ بزرگ ما سینگمنگ کا کہنا تھا کہ ایک سو سے زائد پولیس افسران نے مسجد کو گھیرے میں لے رکھا تھا لیکن احتجاج کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین جمعرات کی شام سے جمعے تک مسجد میں رہے جہاں مقامی انتظامیہ نے دو مرتبہ دورہ کیا جو انھیں گھر جانے کے لیے آمادہ کر رہے تھے۔

سینگمنگ نے کہا کہ انتظامیہ کوئی وعدہ نہیں کررہی لیکن مظاہرین کو یہ باور کروارہی ہے کہ حکومت اس معاملے پر ان کے ان کے ساتھ کام کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ ‘لوگ سخت غصے میں ہیں، کئی لوگ چیخ رہے تھے اور ہمیں نہیں معلوم یہ سب کچھ کیوں ہورہا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین چین سے محبت اور چین سے عقیدت کے علاوہ اپنے عقیدے کے تحفظ کے لیے نعرے لگا رہے تھے۔

خیال رہے کہ مسلمان اور عیسائیوں سمیت مختلف مذہبی حلقوں کی جانب سے چین کی حکمراں جماعت پر ان کی وفاداری کے لیے دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔

چین کے شہر ویزھو کے رہائشیوں کو مسجدوں کو مسمار کرنے کے حوالے سے حکومتی اقدامات کی افواہ نے خبردار کیا اور وہ مسجد کے اطراف میں جمع ہوگئے جس کی تعمیر باقاعدہ اجازت کے بعد گزشتہ برس مکمل کی گئی تھی۔

مقامی رہائشی ما زیگو کا کہنا تھا کہ مسجد کی تعمیر مکمل ہونے پر کمیونسٹ پارٹی کے مقامی سیکریٹری نے افتتاح کے موقع پر مبارک دیتے ہوئے تقریر بھی کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکام نے مسجد کے 9 میں سے 8 گنبدوں کو مسمار کرنے کا منصوبہ بنایا تھا حالانکہ مسجد کا ایک بڑا حصہ باقاعدہ اجازت کے بعد تعمیر کیا گیا تھا لیکن قبیلے کے افراد وہاں پر موجود رہے۔

انھوں نے کہا کہ ‘ہم انھیں مسجد کو مسمار کرنے کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں جبکہ مسجد اس وقت بھی اچھی حالت میں ہے’۔

ویزھو کے 70 سالہ رہائشی کا کہنا تھا کہ مسجد کی تعمیر مسلمانوں نے اپنے فنڈ سے کی ہے اور وہاں پر تقریباً 30 ہزار افراد نماز ادا کرتے ہیں۔

اے پی کی رپورٹ کے مطابق مقامی انتظامیہ نے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کیا جبکہ دیگر حکام سے رابطہ نہ ہوسکا۔

یاد رہے کہ رواں سال مئی میں چین کے ڈسپلنری انسپکشن کمیشن نے یہ کہتے ہوئے نوٹس جاری کیا تھا کہ ویزھو کی انتظامیہ جامع مسجد کی تعمیر کی مکمل نگرانی میں ناکام ہوئی ہے۔

نوٹس میں کہا گیا تھا کہ ملک میں 4 مسجدوں کو بیرون ملک سے 10 لاکھ 70 ہزار یوان (ایک لاکھ 56 ہزار 148 ڈالر) کے عطیات موصول ہوئے ہیں تاہم نوٹس میں ان 4 مساجد میں جامع مسجد کے حوالے سے واضح نہیں کیا گیا تھا۔