افسانہ: گزارا اپروچ

11 اگست 2018

ای میل

میں ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے کے لیے لکھتا ہوں، انتخابات سے پہلے مجھے میرے امریکا والے آفس سے ہدایت آئی کہ وہاں سے ایک رپورٹر الیکشن آبزرور کے طور پر آئے گا اور مجھے انتخابات سے لے کر حکومت بننے تک اس کے ساتھ رہنا ہے اور اسے تمام جگہوں پر مدد فراہم کرنی ہے۔

غیر ملکی صحافی کا نام فیلیکس نیتھن تھا اور مجھے اس کا الیکشن کمیشن سے آبزرور پاس بنانے سے لے کر وزیرِ اعظم کے حلف کا پیکیج بنانے تک اس کے ساتھ رہنا تھا۔ یہ میری فیلیکس سے پہلی ملاقات ہونی تھی اور اس سے پہلے ہم صرف فیس بک کے ذریعے ہی رابطے میں تھے۔

فیلیکس میرے پاس 20 جولائی کو پہنچا اور ابتدائی ضروری کارروائی کے بعد اب ہمیں 3 دنوں میں کچھ بڑے اُمیدواروں کا انٹرویو لینا تھا۔ ہم 3 دن میں 5 بڑے اُمیدواروں سے ملے۔ فیلیکس ایک گھاگ قسم کا صحافی ہے، باریک بین، مشاق اور ایک دم طاق۔

اس کی بیٹ جنوبی ایشیا ہے اور وہ پاکستان کے علاوہ بھارت، افغانستان اور بنگلادیش کے انتخابات بھی آبزرو کر چکا ہے۔ وہ ایک ڈائری اور ایک وائس ریکارڈر ساتھ رکھتا اور ملاقاتوں کے دوران اہم نوٹس بھی لکھتا اور گفتگو ریکارڈ کرتا، ویڈیو کے لیے ایک تھڑد پارٹی کمپنی کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس نے ہمارے چیدہ چیدہ انٹرویوز اور سرگرمیوں کی فوٹیجز بنانے تھے۔

شروع کے 4 دن تو نہایت مصروف رہے اور الیکشن کے دن تو ہوش بھی نہ تھا۔ فیلیکس روزانہ رات کو رپورٹ فائل کرتا اور دن بھر کی کار گزاری سے خبری عناصر لے کر دلچسپ اور ستھری سی رپورٹ تیار کر ڈالتا۔ وہ کم گو تھا سو مجھے اس سے بے تکلف ہونے میں کچھ وقت لگ گیا۔

ایک شام میں نے اس سے پوچھا کہ تم نے جنوبی ایشائی ممالک میں کئی انتخابات کور کیے ہیں، تمہارا یہاں کے ووٹر کے بارے میں کیا تبصرہ ہے؟ وہ کہنے لگا کہ ’دنیا میں ہر قوم کی ایک ٹاک آف دی ٹاؤن ہوتی ہے، مطلب کچھ ایسے موضوعات جس پر عوام سب سے زیادہ بات کرتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کے لوگ مختلف موضوعات کو اپنی روز مرہ کی بحث کا موضوع بناتے ہیں جبکہ جنوبی ایشیائی ممالک کے لوگوں کا پسندیدہ ترین موضوع سیاست ہے۔

’یہاں ہر گلی کوچے میں اور ہر محفل میں سیاست کے ذکر کے بغیر بحث ختم نہیں ہوتی، یہی وجہ ہے کہ یہاں لوگ سیاست میں شدید جذباتی خیالات کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ اپنے ’ریلیجیئس اوپینین لیڈرز‘ (مذہبی رائے رہنما) کو بھی ووٹ نہیں دیتے اور صرف اپنے سیاسی قائد کے لیے دشمنیاں تک پال لیتے ہیں۔‘

’پاکستان میں بھی یہی عمومی رویہ پایا جاتا ہے۔ یہاں کے ووٹر کا ووٹ جذباتی فیصلہ ہوا کرتا تھا البتہ اب صورتحال تبدیل نظر آتی ہے۔ جو یہ کہتے ہیں کہ پاکستانی قوم شدت پسند ہے ایسا ہرگز نہیں اور یہاں پر مذہبی قوتوں کا ہر بار پٹ جانا اور نہایت کم نشستیں لے پانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ قوم ان لوگوں سے اپنے حکمرانی نہیں کرانا چاہتی۔ یہ ان پر سیاسی معاملات میں اعتماد نہیں کرتے اور یہ سیاست دانوں کو ہی موقع دینا چاہتے ہیں۔‘

اس کے اس مشاہدے نے مجھے اس کا قائل کردیا تھا، اختلاف ہوسکتا ہے مگر سوچے بنا ذہن سے نکلتی نہیں تھی بات۔ ’تم کو اس سب میں مسئلہ کہاں نظر آتا ہے؟‘ میں اب دلچسپی سے پوچھنے لگا۔

’مسئلہ اس سے پہلے تھا مگر میں نے گزشتہ 2 انتحابات میں اس قوم کو جاگتے دیکھا ہے‘۔

یہ کوئی اور کہتا تو بڑی روایتی بات لگتی مگر فیلیکس کی زبان سے یہ بات بے وزن نہیں ہوسکتی تھی۔ کہنے لگا کہ آپ لوگ ’گزارے‘ کے مارے ہوئے ہیں۔ گزارا کرنے کی عادت آپ لوگوں کے اندر رچ بس گئی ہے اور یہاں حالات بُرے ہوتے جائیں تو لوگ گزارا بھی بڑھاتے جاتے ہیں۔

’بُرے سے بُرے حالات بھی صرف یہاں کے لوگ گزارا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کردیتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہاں سیاست دانوں سے کبھی عوامی احتساب نہیں کیا گیا اور وہ دیکھتے دیکھتے دیوتا بن گئے مگر اب یہ صورتحال بدلتی نظر آتی ہے۔ میں نے پہلی دفعہ لوگوں میں اس گزارے کے رویے سے بیزاری دیکھی ہے۔ اب تم دیکھو گے کہ سیاست میں صفائی ہوگی، لوگ نہ بھی جائیں، ان کا وہ طرزِ سیاست ضرور چلا جائے گا‘۔

کسی غیر ملکی کی جانب سے اپنی قوم کے لیے یہ سننا کہ وہ سچ میں بدل رہی ہے یا ایک انگڑائی لے چکی ہے، اُمید سے زیادہ خوش کن تھا۔ فیلیکس کی ان تمام دنوں کے دوران ٹوئٹس بھی بے حد دلچسپ رہیں، ٹوئٹ ایک ذاتی اظہارِ خیال ہوتا ہے سو ایسی باتیں جو وہ رپورٹ میں نہیں کہہ سکتا تھا، ٹوئٹ کردیا کرتے تھے۔ اس نے ایک ٹوئٹ کی کہ پاکستان میں چائے والے کو ملک تو چلانا آتا ہے مگر چائے بنانا نہیں آتی۔ اس کے پیچھے ایک دلچسپ قصہ ہے۔

ہوا کچھ یوں کہ ہم اگست کے پہلے عشرے میں لاہور میں تھے، اسلام آباد سے لاہور جاتے ہوئے چائے کے لیے جی ٹی روڈ کے ایک ڈھابے پر توقف کیا۔ بیرا بہت ہی شوقین مزاج اور خوش مزاج تھا۔ کالی شلوار قمیص کے نیچے جاگر پہنا ہوا تھا تاکہ فٹا فٹ یہاں سے وہاں ہولے، سر پر پی کیپ پیچھے کی جانب جمائے ہوئے تھا اور سامنے کے اسٹریپ کی جانب بالوں کی ایک لٹ ماتھے پر جھول رہی تھی۔ آنکھوں میں سرمہ اور کلائی میں لال، سبز، کالا اور سفید دھاگہ۔ جھٹ سے آیا اور میز صاف کرکے کہنے لگا، آئیے صاحب، تشریف رکھیے کیا لیں گے، میں نے اس سے کہا کڑک چائے لے آؤ۔

فیلیکس چائے نہیں پیتا مگر میرا اس کے بغیر گزارا نہیں۔ میں نے فیلیکس سے کہا، میں چائے کو لکھاری کا فیول سمجھتا ہوں، وہ ہنسے لگا اور کہا کہ، چلو شکر ہے تمہیں اس کی قیمت بڑھنے کا کوئی ڈر نہیں ہوگا، لڑکا چائے بنانے لگا اور میں موبائل لیے سستانے لگا۔ وہ چائے لے کر آیا اور قریب کھڑا ہوگیا، وہ فیلیکس کو دلچسپی سے دیکھ رہا تھا، میں نے پوچھا کہ ’ووٹ کسے دیا؟‘

’کسی کو نہیں صاحب سب چور ہیں، کسی نے مجھے کیا دینا ہے؟ میں پہلے بھی یہی ہوٹل چلاتا ہوں اب بھی یہی چلانا ہے۔ سچ پوچھیں تو انہیں ملک چلانا نہیں آتا‘۔

میں نے کہا ’کیوں بھائی کیا خرابی ہے ان کے ملک چلانے میں؟‘

کہنے لگا ’بس جی انہیں ملک چلانا نہیں آتا، یہ سب امریکا کروا رہا ہے میں ان کی جگہ ہوتا تو سب سے پہلے امریکا کو ’کٹاتا‘ اور جتنے بے روزگار ملک میں ہیں سب کو روزانہ دوسو روپے جیب خرچی دیتا تاکہ وہ دن کاٹ سکیں‘۔

میں ہنسنے لگا اور اس سے پوچھا اتنا پیسہ کہاں سے لاؤ گے؟

کہنے لگا ’اوجی حکومت کے پاس ہوتے ہیں، آپ کو نہیں پتہ‘۔

میں اس کی باتوں پر صرف ہنس ہی سکتا تھا، میں نے چائے کی چُسکی لی تو میری شکل بن گئی، چائے بدذائقہ تھی اور نہایت پتلے دودھ کی بنی تھی۔ بیرا گھبرا گیا اور چائے کا کپ اُٹھا لے گیا کہ صاحب جی میں ’اسپیشل‘ چائے بنا کر لاتا ہوں۔

اس کے جانے پر میں نے اپنے اور اس کے بیچ ہونے والی گفتگو کا خلاصہ فیلیکس کو سنایا جس پر وہ مسکرادیا۔ شاید تبھی اس نے یہ ٹوئٹ داغی تھی۔ وہ اس مشاہدے کا ذکر بارہا کرچکا تھا کہ پاکستان میں لوگ اپنے کام کے حوالے سے بھی گزارا اپروچ رکھتے ہیں اور اپنے ذمہ کام کو کم سے کم ترین دقت طلب طریقے سے کرتے ہیں اور یہی چیز انہیں خوب تر ہونے سے روکتی ہے۔

اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی مجھے اور فیلکیس کو یومِ آزادی کے حوالے سے بھی پیکجز بنانے تھے۔

ہم نے بازاروں اور مالز میں کی گئی سجاوٹ کی فوٹیجز کے ساتھ لوگوں کے تاثرات ریکارڈ کیے۔ یہ کام میں ہی کر رہا تھا کہ ایڈٹنگ کے دوران ایک فوٹیج سامنے آئی جس میں ایک پک اپ ڈرائیور سامان سے لدی اپنے گاڑی کو سڑک کے بیچ کھڑا کرکے ہمیں شاٹ دے رہا تھا۔

میں نے اسے بہتیرا کہا کہ بھائی اُتر کر ایک طرف آجاؤ تمہاری پوری بات سنیں گے مگر ذرا جو اس نے سنی ہو، ٹریفک جام کیے وہ پیغام ریکارڈ کرا رہا تھا کہ وہ پاکستان کی بے حد خدمت کرنا چاہتا ہے اور ضرورت پڑنے پر جان بھی قربان کر دے گا۔

غیر ملکی ادارے کے لیے ریکارڈ ہونے کے باعث مجھے ان میں ’سب ٹائٹلز‘ یعنی ترجمہ بھی شامل کرنا تھا۔ فیلیکس نے جب ایڈٹ کے بعد پیکج دیکھا تو کہنے لگا، یہ قوم کتنی جذباتی ہے کہ ملک کے لیے جان دینے کو قربان ہے مگر کتنی ’اگنورنٹ‘ ہے کہ اسے یہ معلوم ہی نہیں ملکی خدمت روزانہ، ہر دن ہر وقت ہوسکتی ہے۔

’یہ ملک کی خدمت کا شوق اور جذبہ رکھتے ہیں مگر اپنے کام سے مخلص نہیں، اپنے کام کو خدمت اور عبادت نہیں سمجھتے اور خدمت کے کسی ’دیو ملائی‘ سراب کے پیچھے سرشار رہتے ہیں۔ انہیں بتاؤ اور سکھاؤ کہ ملک کی خدمت اپنا کام بہترین انداز میں کرکے کی جاتی ہے، ملکوں کو شہریوں کی جان سے زیادہ ان کی ذمہ داری اور خلوص کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ ہر ہر شہری، ہر ہر باسی اپنی اپنی جگہ سرانجام دے سکتا ہے۔

فیلیکس کے ساتھ گزرا وقت بہت کچھ سوچنے اور سیکھنے کے مواقع سے بھرپور رہا تھا، اس کا ہتک سے پاک پُرخلوص مگر کھرا تجزیہ قابلِ تعریف تھا۔

ہمارا ڈرائیور دورانِ سفر خاموش رہتا اور کم ہی بات کرتا البتہ جب پہلی بار اسے معلوم ہوا کہ اگلے کچھ دن تک ایک امریکی بلکہ ایک ’گورا‘ اس کے ساتھ رہے گا تو عجیب حیرت ملی خوشی نے اسے آن گھیرا، اس نے پہلے ایک ہفتے تک ہمارے ساتھ رہنا تھا، وقت مکمل ہوا تو جاتے جاتے مجھ سے پوچھنے لگا، صاحب جی یہ ذرا ان سے پوچھیں کہ کیا اب تبدیلی آجائے گی اور پاکستان بدل جائے گا؟ امریکہ میں تو سب کچھ ٹھیک ہے، یہاں بھی ہوجائے گا کیا؟ پوچھیں نہ ذرا پوچھیں، یہ فقرا اس نے مجھے آنکھ مارتے ہوئے کہا، وہ اپنے بات کو انگریزی میں ترجمہ ہو کر ایک گورے کے گوش گزار ہونے پر خاص ’اچیومنٹ‘ محسوس کر رہا تھا۔

فیلکیس نے بات سنی، اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولا، ’کسی ایک فرد کے لیے پورا پاکستان ٹھیک یا تبدیل کرنا نہایت مشکل اور دیر طلب کام ہے، البتہ اگر تم سب اپنے حصے کا تھوڑا تھوڑا پاکستان خود ہی ٹھیک کرلو، تو یہی اصل تبدیلی ہوگی۔ یہی کام امریکا اور ہر ترقی یافتہ ملک میں ہوتا ہے، مسائل وہاں بھی کم نہیں مگر وہاں ہر شہری اپنے اپنے حصے کا ملک ٹھیک رکھتا ہے، اپنی ذمہ داری پوری کرتا ہے، خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتا ہے اور ہرگز ہرگز گزارا نہیں کرتا، اور پھر یوں آہستہ آہستہ پورا ملک ٹھیک ہوجاتا ہے‘۔

ڈرائیور توصرف ’یس سر‘ ہی کہہ سکا کیونکہ جب تک میں نے اسے اس بات کا ترجمہ نہیں سمجھایا وہ سمجھ نہ سکا، مگر آپ تو سمجھ چکے ہوں گے۔ سو کیا خیال ہے؟ آپ اپنے حصے کی تبدیلی کب لائیں گے؟