گواہوں کے بعد اب ہمیں ہراساں کیا جارہا ہے، چیف جسٹس

اپ ڈیٹ 13 اگست 2018

ای میل

اسلام آباد: چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ پہلے گواہوں کو ہراساں کیا جارہا تھا جبکہ اب ہمیں براہ راست ہراساں کیا جارہا ہے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے جعلی اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی سماعت کی، اس دوران ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) بشیر میمن، انسپکٹر جنرل ( آئی جی) سندھ امجد جاوید سلیمی، سابق آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے وکیل فاروق ایچ نائیک، اومنی گروپ کے وکیل اور دیگر پیش ہوئے۔

دوران سماعت گواہان نے بتایا کہ ہم واپس بینکوں میں اپنی نوکریوں پر آگئے ہیں اور اس معاملے میں ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے مکمل تعاون اور مدد کی۔

اس دوران عدالت میں آئی جی سندھ پولیس امجد جاوید سلیمی عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ ہم نے رپورٹ دی ہے کہ مشاق مہر کو اور ایس ایس پی کوہٹا دیا ہے، گواہان کو ہراساں کرنے کا الزام پولیس والوں پر ثابت ہو گیا ہے اور کچھ دال میں کالا ہے۔

مزید پڑھیں: منی لانڈرنگ کیس: آصف زرداری، فریال تالپور کا نئی جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ

آئی جی کے بیان پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ بتائیں کہ وہ دال میں کالا کیا ہے، کون ہے وہ ہونے والا وزیر جس کے کہنے پر سب کچھ ہوا، پتہ لگائیں، جن پولیس افسران نے گواہوں کو ہراساں کیا، ان کے خلاف توہین عدالت کے نوٹس جاری کریں گے، اگر کسی گواہ کو ہراساں کیا گیا تو وہ ایک فون کال سپریم کورٹ کو کرے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ لوگ سچ بتانے کے بجائے ہمارے پیچھے پڑ گئے ہیں، ہم تو یہاں انصاف کرنے بیٹھے ہیں، ہماری حفاظت اللہ تعالیٰ اور عوام کریں گے، جو ہمارے خلاف بات کرتے ہیں ان کو اپنا خیال نہیں کہ کل وہ خود مجرم ہوسکتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اب وہ گواہوں کو کال کرکے پریشان نہیں کرتے بلکہ ہمیں کال کرتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اب آپ کو ہراساں کرنے کے بجائے، ہمیں ہراساں کیا جارہا ہے، بڑے بڑے وکلا اب اس کیس میں ہمارے سامنے پیش ہوتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اومنی گروپ کے مالک انور مجید عدالت میں کیوں پیش نہیں ہوئے، کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں، گزشتہ سماعت پر ان کے وکیل نے کہا تھا کہ وہ پیش ہوں گے لیکن اب انہوں نے وکیل ہی تبدیل کرلیا۔

اس موقع پر عدالت نے گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرکے آئندہ ماہ ستمبر تک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اومنی گروپ کے مالک انور مجید عدالت میں کیوں پیش نہیں ہوئے، کیوں نہ ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں، گزشتہ سماعت پر ان کے وکیل نے کہا تھا کہ وہ پیش ہوں گے لیکن اب انہوں نے وکیل ہی تبدیل کرلیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ انور مجید اور دیگر کے پیش ہونے کا رضاکاظم نے یقین دلایا تھا، کیا عدالتی حکم عدولی پر مجید فیملی کو توہین عدالت کا نوٹس دیں؟

عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مجید فیملی کو بلائیں کہ وہ عدالت میں پیش ہوں، ہم رات 8 بجے تک دوبارہ عدالت لگالیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اومنی گروپ کا بینک اکاؤنٹ اور جائیدادیں اگر ایف آئی اے نے قرق (ضبط) کی ہیں تو اب ہم بھی حکم دیتے ہیں کہ انہیں قرق کیا جائے۔

اس پر اومنی گروپ کے وکیل شاہد حامد نے کہا کہ ہمیں وقت دیں تاکہ انور مجید اور دیگر کو عدالت میں بلا سکیں، جس پر چیف جسٹس نے ان کی یہ استدعا مسترد کردی۔

سماعت کے دوران ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران اے ون انٹرنیشنل کے مزید 15 اکاؤنٹس نکلے ہیں، جن سے 6 ارب روپے کی ترسیلات ہوئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایک شخص جو نجی چینل میں گرافکس ڈیزائنر ہے، اس کے نام پر اکاؤنٹ کھلوایا گیا، 35 ہزار روپے چینل سے تنخواہ لینے والے کے اکاؤنٹ سے 80 کروڑ روپے کی ترسیلات ہوئیں۔

ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا لاہور کی ایک خاتون کے نام پر جعلی اکاؤنٹ کھلوایا گیا، اس اکاؤنٹ سے ڈیڑھ ارب روپے کی ترسیلات ہوئیں جبکہ اکاؤنٹ ہولڈر خاتون کا شوہر کریم پر موٹرسائیکل رائیڈر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ رشوت کے پیسے ان اکاؤنٹس میں ڈالے گئے۔

اس پر وکیل اومنی گروپ نے بتایا کہ جے آئی ٹی کی 60 صفحات کی رپورٹ میں کسی جگہ رشوت یا بدعنوانی ثابت نہیں ہوئی، اومنی گروپ کا سارا پیسہ قانونی ہے اور اس کا آڈٹ ہوتا ہے۔

بغیر تحقیقات کے الزام تراشی کر کے میڈیا ٹرائل کیا جاتا ہے تاکہ کل ہیڈلائن بنے۔

ڈی جی ایف آئی اے کے جواب پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ بغیر تحقیقات کسی پر رشوت کا الزام نہیں لگا سکتے۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے پر پاناما پیپرز کے طرز کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ( جے آئی ٹی ) بنا دیتے ہیں، اس دوران چیف جسٹس نے ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن سے پاناما جے آئی ٹی ممبران کے نام پوچھے تو ڈی جی ایف آئی نے نام بتاتے ہوئے کہا کہ 2 افراد ملٹری انٹیلیجنس ( ایم آئی ) اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) سے بھی شامل تھے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایجنسیوں کے لوگوں کو صرف تڑکا لگانے کے لیے رکھا ہوگا ان کو رہنے دیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم وکلا کو سننے کے بعد جے آئی ٹی بنانے کا حکم دے سکتے ہیں، ایسی جے آئی ٹی جس میں واجد ضیا اور ان کی ٹیم ہو لیکن لوگ پھر کہیں گے کہ عدالت جے آئی ٹی نہیں بناسکتی۔

چیف جسٹس نے عدالت میں موجود وکیل فاروق ایچ نائیک کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اتنا بڑا جلوس نکال کر مجھے ڈرایا گیا، اس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ جو رویہ اس دن اختیار کیا گیا،اس کی مذمت کی ہے، پیپلزپارٹی نے ہمیشہ عدالتوں کی عزت کی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر احتجاج کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور عدلیہ مخالف نعرے بازی کی گئی تھی، جس کے بعد پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے 2 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا تھا۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے 11 سال جیل کاٹی، اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آصف زرداری اور فریال تالپور تحقیقات میں تعاون کر رہے ہیں۔

جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ جب بھی ایف آئی اے بلائے گی وہ حاضر ہو جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی اکاؤنٹس کیس: ایف آئی اے نے آصف زرداری، فریال تالپور کو طلب کرلیا

اس موقع پر عدالت میں بحریہ ٹاؤن کے زین ملک عدالت میں پیش ہوئے، جس پر چیف جسٹسد نے استفسار کیا کہ کیا یہ ایف آئی اے سے تعاون کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس کے استفسار پر ڈی جی ایف آئی اے نے جواب دیا کہ یہ لوگ تعاون کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بحریہ ٹاؤن کا کیس بدھ کو لگائیں،5 ارب روپے جمع کروا کر اتنا بڑا ریلیف لے لیا ہے، یہ پیسے کم ہیں ان پر الزام زیادہ ہے۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت بدھ تک ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر انور مجید سمیت تمام فریقین کی حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔

ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے ایف آئی اے کے گواہان کو تحفظ دینے کے احکامات جاری کردیے۔