اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سندھ سے تعلق رکھنے والے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے رہنما میر شاہ نواز خان کو تاحیات نااہل قرار دیتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھنے کا حکم دے دیا۔

کیس کی سماعت کے دوران میر شاہ نواز کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کے کاغذات نامزدگی اثاثے چھپانے پر مسترد کیے گئے تھے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اس طرح کے لوگوں کے لیے ہمارے دل میں کوئی رحم نہیں، ہم ایسے لوگوں کو ریلیف نہیں دے سکتے۔

مزید پڑھیں: جعلی ڈگری کیس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما تاحیات نا اہل قرار

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس طرح کے آدمی کو ہم بلکل ریلف دینے کے لیے تیار نہیں، ہائی کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے وہ درست ہے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ میر شاہ نواز کو ہمیشہ کے لیے نا اہل کررہے ہیں، جس کے بعد سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے پی ایس 27 سے جی ڈی اے کے میر شاہ نواز کو تاحیات نااہل قرار دے دیا۔

بعد ازاں چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے میر شاہ نواز کی نا اہلی کے خلاف دائر درخواست خارج کردی۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف اور جہانگیر ترین تاحیات نااہل قرار

خیال رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے میر شاہ نواز خان کو اثاثے چھپانے پر نااہل کیا تھا۔

23 مئی 2018 کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی مدت مکمل ہونے سے محض ایک ہفتے قبل سپریم کورٹ آف پاکستان نے جعلی ڈگری کیس میں پارٹی کے رہنما اور رکن پنجاب اسمبلی راجا عزیز بھٹی کو تاحیات نا اہل قرار دے دیا تھا۔

13 اپریل 2018 کو سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 (1) (ایف) کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کیس کا فیصلہ سنایا تھا، جس کے مطابق آئین کی اس شق کے ذریعے نااہل قرار دیے گئے ارکانِ پارلیمنٹ تاحیات نااہل ہوں گے۔

یاد رہے کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کی مدت کی تشریح کی ضرورت اس وقت پیش آئی تھی، جب سابق وزیر اعظم نواز شریف اور سابق سیکریٹری جنرل تحریک انصاف جہانگیر ترین کی نااہلی کی مدت پر ایک بحث کا آغاز ہوا تھا۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا

واضح رہے کہ گزشتہ برس 28 جولائی کو سپریم کورٹ نے شریف خاندان کے خلاف پاناما لیکس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔

15 دسمبر 2017 کو سپریم کورٹ نے غیر ملکی فنڈنگ کیس کے خلاف دائر درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کے خلاف ان کی پٹیشن کو خارج کردیا تھا جبکہ جہانگیر ترین کو آئین کے آرٹیکل 62 کے تحت نا اہل قرار دیا تھا۔