جب قومی پرچم کو اونچا کرنے کیلئے لڑکیوں نے پراندے دیے

اپ ڈیٹ 14 اگست 2018

ای میل

پراندوں کے ذریعے پرچم کو اونچا کیا گیا—آرکائیو آف پاکستان
پراندوں کے ذریعے پرچم کو اونچا کیا گیا—آرکائیو آف پاکستان

ویسے تو سبز ہلالی پرچم کو اونچا رکھنے اور اس کی عزت کے لیے پاکستانی جان کا نذرانہ دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

لیکن ملکی تاریخ میں ایک ایسا منفرد واقعہ بھی پیش آچکا ہے کہ جب سبز ہلالی پرچم کو اونچا کرنے کے لیے لڑکیوں نے اپنے پراندے پیش کیے۔

جی ہاں، آج سے 71 سال قبل 1947 میں دہلی میں جب پاکستانی خواتین نے وطن سے محبت کے لیے مارچ نکالا تب پاکسانی پرچم کو ڈنڈے کے ذریعے اونچا کرنے کے لیے ایک لڑکی نے اپنے پراندے پیش کیے تھے۔

دی سٹیزن آرکائیو آف پاکستان (کیپ) کی جانب سے جاری کی گئی یادداشتوں پر مبنی ایک ویڈیو میں عبیدہ ایس عابدی اور کنیز واجد نے اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح اس وقت خواتین نے وطن سے محبت کا اظہار کیا اور کس طرح ایک لڑکی نے پرچم کو اونچا کرنے کے لیے اپنے پراندے پیش کیے۔

عبیدہ ایس عابدی نے اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت خواتین سبز ہلالی پرچم کے رنگوں جیسا لباس پہن کر پردہ باغ جمع ہوئیں، جہاں سے انہیں جامعہ مسجد تک مارچ کرنا تھا۔

انہوں نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ خواتین حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہوکر پاکستان زندہ آباد، قائد اعظم زندہ آباد اور اور پاکستان ملے گا جیسے نعرے لگا رہی تھیں۔

ان کے مطابق اگرچہ خواتین مکمل تیاری کے ساتھ آئیں تھی، تاہم انہیں یہ احساس نہیں تھا کہ پاکستانی جھنڈے کو ڈنڈے کے ذریعے اونچا کرنے کے لیے رسی کی ضرورت پڑے گی۔

اس لیے وہ رسی لانا بھول گئیں، تاہم وہاں موجود ایک لڑکی آگے بڑھیں اور انہوں نے اپنے پراندے پیش کیے، جن کے ذریعے سبز ہلالی پرچم کو اونچا کیا گیا۔

کنیز واجد خان نے بھی اپنی یادداشتوں کا ذکر کیا، انہوں نے بتایا کہ مرشد آباد میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ تھیں اور تمام خواتین بہت خوش تھیں کہ مرشد آباد بھی پاکستان میں آئے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اس شہر کی 75 فیصد آبادی مسلمانوں پر مبنی تھی، تاہم تقسیم کے بعد مرشد آباد پاکستان نہیں بلکہ ہندوستان کے حصے میں آیا۔