اسلام آباد : سپریم کورٹ نے نئی حلقہ بندیوں کے خلاف پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال کی درخواست مسترد کردی۔

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ دو ٹی وی اینکرز کا جھگڑا تو سنا جاتا ہے لیکن سپریم کورٹ میں کراچی کے لاکھوں لوگوں کا مسئلہ نہیں سنا جارہا۔

چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں نئی حلقہ بندیوں کے خلاف مصطفیٰ کمال کی درخواست پر سماعت ہوئی، دورانِ سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مردم شماری کے معاملے کو آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت چیلنج نہیں کیا جاسکتا اور اس بنیاد پر سپریم کورٹ اس معاملے کو دیکھنے کی مجاز نہیں۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ صرف پارلیمنٹ ہی مردم شماری یا حلقہ بندیوں سے متعلق معاملے کا جائزہ لے سکتی ہے۔

دورانِ سماعت جسٹس اعجازالاحسن نے مصطفیٰ کمال سے استفسار کیا کہ کیا آپ کے مطابق مردم شماری صحیح نہیں ہوئی؟ جس پر مصطفیٰ کمال نے جواب دیا کہ کراچی میں فی گھر میں میں کم افراد کا اندراج کیا گیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے مصطفیٰ کمال سے استفسار کیا کہ کیا آپ کی پارلیمنٹ میں کوئی نمائندگی ہے؟ اپنے اراکین کے ذریعے اس معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھائیں۔

مزید پڑھیں : حلقہ بندیوں سے متعلق مصطفیٰ کمال کی درخواست پر اعتراضات مسترد

جس پر پی ایس پی سربراہ کا کہنا تھا کہ مردم شماری کے معاملے کو ہم نے الیکشن سے پہلے ہی چیلنج کیا تھا اور پارلیمنٹ میں ہماری کوئی نمائندگی نہیں۔

عدالت نے درخواست پر ریمارکس دیے کہ اس معاملے پر تو کمیشن بنایا جاچکا ہے لہٰذا کمیشن اپنی رپورٹ پارلیمنٹ بھیجے گا جس کے بعد کمیشن کی مرتب کردہ رپورٹ پر پارلمینٹ فیصلہ کرے گی۔

بعد ازاں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ کہ دو اینکرز کا جھگڑا ہو جائے تو سنا جاتا ہے لیکن کراچی کے 70 لاکھ لوگ کم گنے گئے، سپریم کورٹ اس کو نہیں سن رہی۔

انہوں نے بتایا کہ کیس کی سپریم کورٹ میں آج تیسری سماعت تھی جس پر عدالت نے کہا کہ اس معاملے سے متعلق کمیشن بنا ہوا ہے اس سے رجوع کریں جبکہ کمیشن صیح کام نہیں کررہا ۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ سب لوگ یہ کہہ چکے ہیں کہ کراچی اور حیدرآباد کی آبادی 70 لاکھ کم دکھائی گئی ہے، اگر کراچی کی آبادی کو اس طرح کاٹا جائے گا تو یہ کراچی کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کی آبادی کم دکھانے سے قومی اسمبلی کی 15 اور صوبائی اسمبلی کی 30 سے 35 سیٹیں کم ہوئیں لیکن کوئی اس بات کو سننے اور سمجھنے کو تیار ہی نہیں۔

پی ایس پی سربراہ نے کہا کہ عمران خان صاحب انتخاب جیتے ہیں اور وزیر اعظم بننے جارہے ہیں، سیاست سے بالا تر ہو کر عمران خان صاحب کو کہوں گا کہ وہ اپنا کردار ادا کریں، ۔شہباز شریف اور بلاول بھٹو اور تمام پارٹی سربراہان مل کر کراچی کے حوالے سے بات کریں اور کراچی کے کم کیے گیے 70 لاکھ لوگوں کو شامل کریں۔

یہ بھی پڑھیں : چھٹی مردم شماری کے نتائج کے خلاف پٹیشن سماعت کیلئے منظور

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کی آبادی ڈھائی کروڑ سے کم نہیں کسی سے بھی گنتی کروالیں، اگر کراچی کے لوگوں کو گن نہیں سکتے تو پانی، صحت اور دیگر چیزیں کیا دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں تمام زبانیں بولنے والے رہتے ہیں لیکن آبادی نہیں بڑھ رہی جبکہ لاہور کی آبادی بڑھ رہی ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال کی جانب سے چھٹی مردم شماری کے نتائج کے خلاف دائر کی گئی پٹیشن کو 30 جون کو سماعت کیلئے منظور کیا تھا جس پر سماعت کا آغاز الیکشن کے بعد کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

جس کے بعد یکم اگست کو چیف جسٹس ثاقب نثار نے مصطفیٰ کمال کی جانب سے کراچی کی حلقہ بندیوں سے متعلق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات مسترد کردیے تھے اور تعطیلات کے بعد درخواست سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دیا تھا۔

خیال رہے کہ رجسٹرار آفس نے 30 اپریل کو پی ایس پی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال کی پٹیشن پر اعتراضات لگا کر اسے مسترد کردیا تھا، جس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا تھا جہاں عدالت عظمیٰ نے پٹیشن سماعت کے لیے منظور کرلی تھی ۔

تاہم آج(15 اگست کو) ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ نے مصطفیٰ کمال سے مردم شماری کے معاملے پر پارلیمنٹ سے رجوع کرنے کو کہا ہے۔

حلقہ بندیوں کے خلاف مصطفیٰ کمال کی درخواست

پی ایس پی کے سربراہ مصطفی کمال نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) سے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ نادرا کے تازہ اعداد و شمار کی بنیاد پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشست کا تعین کریں۔

دائر پٹیشن میں استدعا کی گئی تھی کہ عدالت عظمیٰ کراچی کو 1998 کی مردم شماری کے تناظر میں دیکھے اور 6 اضلاع کو ’ون یونٹ‘ بنانے کا اعلان کرے اور قومی وصوبائی اسمبلی کی دوبارہ حلقہ بندیاں کی جائیں۔

انہوں نے پٹیشن میں دعویٰ کیا کہ ’مردم شماری (2017) میں کراچی کی 21 قومی اسمبلی کی نشستوں پر آبادی 1 کروڑ 60 لاکھ بتائی گئی ہے، جس میں 52 لاکھ آبادی کم دکھائی گئی ہے‘۔

پٹیشن میں نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) اور مردم شماری نتائج میں 2.4 فیصد سالانہ اضافہ کا حوالہ دیا گیا تھا ، جس میں کراچی کی آبادی 2 کروڑ 39 لاکھ بنتی ہے جبکہ نادرا نے شناختی کارڈ نہ رکھنے والے افراد کو شامل نہیں کیا۔

پٹیشن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس اعتبار سے کراچی کی آبادی 2 کروڑ 39 لاکھ سے تجاویز کر چکی ہے۔

پی ایس پی کے چیئرمین نے سپریم کورٹ سے درخواست کی تھی کہ متعلقہ اداروں سے تمام ریکارڈ اور ڈیٹا طلب کیا جائے جس میں پاکستان بیورو، نادرا،مردم شماری کمیشن شامل ہیں اور سندھ کی آبادی، حلقہ بندی اور قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں کی حدود بندی کا تعین کیا جائے۔