ای میل

سندھ کا بہمن آباد، جو اب آباد نہیں

ابوبکر شیخ

وقت جو کسی کا بھی نہیں ہے اور وقت جو سب کا ہے۔ پانی کا کوئی رنگ نہیں مگر پانی کے سوا کوئی رنگ نہیں۔ اگر دیکھا جائے تو زندگی دن رات کے محدود دائرے میں سانس لیتی ہے۔

مگر یہ بھی ہے کہ اس کی قدامت لاکھوں کروڑوں برسوں پر کسی ایسی رنگین چادر کی طرح بچھی ہوئی ہے جس میں غم، خوشی اور بے بسی کے سارے رنگ بسے ہوئے ہیں اور ہم زندگی کی اس چادر کی چھاؤں سے کبھی الگ ہونا نہیں چاہتے۔ ہم سب کے دل و دماغ کے کسی کونے میں اس چادر سے جڑے رہنے کی ایک چھوٹی سی پود اگتی ہے جس کی جڑیں لاکھوں برسوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔

اپنے گزرے ہوئے وقت سے کوئی رشتہ توڑنا نہیں چاہتا بلکہ وقت کے ساتھ گزرے شب و روز پر پُراسراریت کا ایک جنگل سا اگ آتا ہے اور ہم سب اسراروں سے بھرے ہوئے اس جنگل میں جانا چاہتے ہیں اور اس میں چھپے اسراروں کو جاننے کے لیے ہمارے دل و دماغ میں تجسس کی ایک فصل اگتی ہے اور ہم اس کو جلد سے جلد کاٹنا چاہتے ہیں۔

چلیے ڈھائی ہزار برس پر محیط ایک انتہائی قدیم سفر کے لیے نکل پڑتے ہیں۔ جہاں پانی سے بھرے خوبصورت دریا ہیں جن میں بادبانوں والی خوبصورت کشتیاں چلتی ہیں، گھنے جنگل ہیں جن میں ہاتھی چنگھاڑتے ہیں اور کسی کسی وقت ہدہد اور کوئل کی کوک بھی سنائی دیتی ہے۔ باغات ہیں جن میں کھٹے اور میٹھے رنگین پھلوں کی بہار ہے، قلعے ہیں جو بن رہے ہیں اور گر رہے ہیں۔ تیر اور تلواریں ہیں جن کو بڑے احتیاط اور کاریگری سے بنایا جا رہا ہے، کہ وہ انسانوں کے سروں کی کھیتی کو اچھے طریقے سے کاٹ سکے۔ بادشاہ اپنے خاندانوں کے خون کے پیاسے ہیں کہ تخت رشتوں سے اہم اور متبرک جو ٹھہرا۔

ان حقائق کو جاننے کے لیے تاریخ پر لکھی ہوئی کتابوں کی ایک دنیا ہے جو بولتی ہے اور اتنا شور ہے کہ کانوں کو آواز سنائی نہیں دیتی۔ جنگ کے میدان ہر وقت آباد ہیں اور گھوڑوں کے ٹاپوں سے زمین دُھنتی جاتی ہے اور مٹی کے بگولے آسمان سے باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔

اگر آپ ’شہدادپور‘ سے مشرق کی طرف نکلیں تو 8 کلومیٹر کے سفر کے بعد ’بہمن آباد‘ پہنچ جائیں گے۔ اگر آپ حیدرآباد سے آنا چاہتے ہیں تو نیشنل ہائی وے لے کر کھیبر سے مشرق کی طرف ٹنڈو آدم والا روڈ لیں اور اُڈیرو لال اور ٹنڈوآدم سے ہوتے ہوئے آپ دلُور موری آجائیں اور مغرب کی طرف مُڑ جائیں تو سامنے منصورہ کے آثار ہیں۔

کھدائی سے قبل بہمن آباد
کھدائی سے قبل بہمن آباد

بہمن آباد کے قدیم آثار—تصویر ابوبکر شیخ
بہمن آباد کے قدیم آثار—تصویر ابوبکر شیخ

بہمن آباد کے قدیم آثار—تصویر ابوبکر شیخ
بہمن آباد کے قدیم آثار—تصویر ابوبکر شیخ

بہمن آباد کے قدیم آثار—تصویر ابوبکر شیخ
بہمن آباد کے قدیم آثار—تصویر ابوبکر شیخ

میں اپنے ساتھیوں میر حسن مری اور رمضان ملاح کے ساتھ جب سانگھڑ سے ان آثاروں کے لیے نکلا تو سورج ابھی نہیں اُگا تھا، بس ہلکی لالی مشرق کے ماتھے پر پھیل رہی تھی۔ ہم چلے تو راستے کے ساتھ ہرے کھیت بھی ہمارے ساتھ چلے۔ صبح کا وقت تھا تو کیکر کے درختوں پر کچھ چڑیوں (Weaver birds) کے گھونسلے ںظر آئے۔ درختوں پر لٹکتے یہ گھونسلے آپ کو بڑے اچھے لگتے ہیں۔ ایک دو گھونسلوں پر چڑیائیں اپنے گھونسلوں کو بُنتے بھی نظر آئیں۔ وہ ان کے لیے مخصوص قسم کی گھاس کا تنکا لاتیں اور اپنی چونچ سے بننا شروع کر دیتیں۔

یہ وہ علاقہ ہے جو آج سے کئی صدیوں پہلے دریائے سندھ اور نارو کی گزرگاہ رہا ہے۔ اس لیے ماضی میں جتنی پانی کی فراوانی یہاں تھی وہ کمال کی تھی۔ گھنے جنگل تھے۔ جزیرے تھے۔ جھیلیں تھیں۔ دارا اور سکندرِ اعظم بھی یہاں تک آ نکلے تھے۔ زرتشتوں کی لو جلی تو برہمن بھی آئے، سدھارتھ کے اسٹوپا بھی یہاں بنے۔ پھر مساجد سے اذانوں کی پکار بھی سنائی دی۔ ان سب میں فقط ایک بات مشترکہ تھی کہ حاکم نے محکوم کی نشانیوں کو برباد کردینا ہے۔ اینٹ سے اینٹ بجا دینی ہے اور اپنے مذہب اور روایتوں کو پانی دینے کے لیے تعمیرات کروانی ہیں۔ مجھے اُن چڑیاؤں پر پیار آیا جو کسی کا کچھ نہیں چھینتیں۔ کسی کے گھونسلے پر قبضہ نہیں کرتی۔

ہم جب جھول سے ہوتے ہوئے دلُور موری پہنچے تو 2 کلومیٹر چلنے کے بعد ہمارے سامنے میلوں میں پھیلے وہ آثار تھے جن کے متعلق میں کتنے عرصہ سے پڑھ پڑھ کر پاگل ہو رہا تھا۔ ایک محقق دوسرے محقق سے متفق نہیں ہے کیونکہ زیادہ کتابیں عربی اور فارسی میں ہیں تو ترجمہ کرنے والے نے اپنی جذباتی کیفیتیں اُن تراجم میں گوندھ دی ہیں۔ پھر یونانی، ایرانی اور چینی ناموں نے بھی تاریخ کے صفحات پر بڑی عجیب سی افراتفری پھیلائی ہوئی ہے۔

بہمن آباد کے قدیم آثار—تصویر ابوبکر شیخ
بہمن آباد کے قدیم آثار—تصویر ابوبکر شیخ

بہمن آباد کے قدیم آثار—تصویر ابوبکر شیخ
بہمن آباد کے قدیم آثار—تصویر ابوبکر شیخ

بہمن آباد کے قدیم آثار—تصویر ابوبکر شیخ
بہمن آباد کے قدیم آثار—تصویر ابوبکر شیخ

بہمن آباد کے قریب قدیم بہاؤ—تصویر ابوبکر شیخ
بہمن آباد کے قریب قدیم بہاؤ—تصویر ابوبکر شیخ

اتنی متنازع آرکیالاجی سائیٹ اس سے پہلے میں نے کبھی نہیں دیکھی۔ اب ظاہر ہے میں بھی جو یہاں باتیں کروں گا وہ میرے برسوں مطالعے کا عرق تو ضرور ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ باتیں میں صحیح بھی کہہ جاؤں مگر مجھے، محقق بدر ابڑو صاحب کی بات بڑی اچھی لگی کہ ’ٹھیک ہے، ہمیں تحقیق ضرور کرنی چاہئے مگر جب تک آرکیالاجیکل سائیٹ کی سائنسی بنیادوں پر کھدائی نہیں ہوتی، اُس پر رپورٹس نہیں آتیں تب تک ایک حقیقی نتیجہ اخذ کرنا شاید ممکن نہ ہو۔‘

آپ کسی بھی تاریخی جگہ پر جائیں تو وہاں کے متعلق لوک کہانیاں آپ کے انتظار میں ہوتی ہیں۔ ہم بھی جب آثاروں پر پہنچے تو وہاں ایک لوک کہانی ہمارے انتظار میں تھی اور اس لوک کہانی میں بھی ایک ظالم بادشاہ کا ذکر ہے۔ ’دلُوراء ایک ظالم بادشاہ تھا جو یہاں پر حکومت کرتا تھا۔ جب اُس کے پاپوں کا گھڑا بھرا تو اُس پر خدا کا قہر نازل ہوا اور ایک بہت بڑا زلزلہ آیا اور یہ شہر برباد ہوگیا۔‘ چلیے اس ظالم بادشاہ کی کہانی کو اس وقت یہیں چھوڑتے ہیں اور اس اہم تاریخی شہر پر گزرے زمانوں کا سرسری جائزہ لیتے ہیں۔

پڑھیے: سندھ کی قدیم درگاہ اور سکندراعظم کا جزیرہ

900 قبل مسیح تک آریا، سندھ، گجرات، کاٹھیاواڑ سمیت شمال اور جنوبی ایشیاء تک پھیل چکے تھے۔ 660 سے 585 ق۔م میں زرتشت نے پارسی مذہب کی بنیاد رکھی۔ 519 ق۔م میں ’دارا اول کے والد ہستاسپس نے سندھ اور کَچھ کو ایرانی سلطنت سے ملادیا۔ 500 ق۔م میں ملیٹس کے ہیکاٹیس (پہلا یونانی جغرافیہ دان) نے جغرافیے پر اپنی کتاب پیریوڈوس جیس اسی برس تحریر کی۔ اس نے یہ معلومات اسکائیلیکس سے حاصل کی تھی، وہ کہتا ہے ’اوپیائی نام کا ایک قبیلہ دریائے سندھ کے بائیں کنارے رہتا تھا، ان کے پاس ایک مضبوط قلعہ تھا، جہاں دارا اول نے اپنے لشکر کو ٹھہرایا تھا، ہوسکتا ہے کہ یہ ’برہمن آباد‘ ہو۔‘

بہمن آباد کے قدیم آثار—تصویر ابوبکر شیخ
بہمن آباد کے قدیم آثار—تصویر ابوبکر شیخ

بہمن آباد میں کھدائی کے دوران کھینچی گئی ایک تصویر
بہمن آباد میں کھدائی کے دوران کھینچی گئی ایک تصویر

بہمن آباد میں کھدائی کے دوران کھینچی گئی ایک تصویر
بہمن آباد میں کھدائی کے دوران کھینچی گئی ایک تصویر

بہمن آباد میں کھدائی کے دوران کھینچی گئی ایک تصویر
بہمن آباد میں کھدائی کے دوران کھینچی گئی ایک تصویر

330 ق۔م میں دارا سوئم نے سکندر سے لڑنے کے لیے اپنی حکومت کی مدد کے لیے ہند اور سندھ سے سپاہی اور ہاتھی اکٹھے کیے تھے۔ اسی برس سکندر نے اسے شکست دی تھی اور ’پرسیپولس‘ کو آگ لگا دی۔ یہ سرسری طور پر اُس وقت کے سیاسی حالات تھے۔ ہم جو دارا اول کی بات کر آئے ہیں کہ اُس نے 519 ق۔م میں سندھ، پنجاب اور کچھ کو اپنی مملکت میں شامل کردیا تھا، اس زمانے میں اس کے امیرالبحر اسکائیلیکس نے دارا کے حکم سے بحری جہاز بنوائے اور مکران سے ساحل عرب تک ایک نئی شاہراہ دریافت کی۔ پنجاب اور سندھ کی فتح سے نہ صرف ہندوستان کے خزانے ایران آئے بلکہ یہاں دارا نے ایک ایرانی صوبہ بھی قائم کیا۔ اس زمانے میں پنجاب، سندھ اور مکران ایران کے صوبے تھے۔

بہمن دراز دست
بہمن دراز دست

اب ہم ذکر کرتے ہیں ارد شیر بہمن دراز دست (Artaxerxes) کا (465-425 ق-م) جس نے تخت و تاج کے لیے اپنے بھائی کو قتل کروایا اور بھائی کے خون سے ہاتھ رنگین کرکے تخت پر بیٹھا۔ ان دراز دستیوں کی وجہ سے اس پر ’دراز دست‘ کا نام پڑگیا۔ ڈاکٹر نبی بخش بلوچ لکھتے ہیں: ’ایرانی حاکم ’بہمن ارد شیر‘ کا سندھ پر سیاسی اثر تھا اور اس نے اس جگہ پر ایک شہر آباد کیا جس کو اُس کے نام سے بہمن آباد پکارا گیا۔‘

ڈاکٹر غلام محمد لاکھو تحریر کرتے ہیں: ’آخرکار شہزادے بہمن (جو بعد میں بہمن ارد شیر اور دراز دست نام سے مشہور ہوا اور کیانی سلطنت کا پانچواں بادشاہ بنا) کو سندھ بھیجا گیا کہ وہ یہاں مستقل قبضہ کا انتظام کرے۔ اس نے کچھ سرحدیں متعین کیں اور ایرانی مفادات کے تحفظ کے لیے ایک شہر اور قلعہ تعمیر کرنے کا حکم دیا، جس کو ’بہمنیہ‘ یا ’بہمن آباد‘ کے نام سے پکارا گیا اور انہوں نے اپنے مذہب کی تشہیر کے لیے ایک آتشکدہ بھی بنوایا تھا۔

بہمن کا ساسانیوں سے انتقام
بہمن کا ساسانیوں سے انتقام

’ریورٹی‘ کے مطابق ’بہمن جو ایران کا بادشاہ تھا، اُس کا نام ’اردشیر درازدست‘ تھا۔ یونانی ان کو ’آرٹازر زیکس لانگی منس‘ (Artaxerxes dongimnanus) تحریر کرتے ہیں۔ وہ اپنے دادا گشتاسپ کے بعد 464 ق۔م میں تخت پر بیٹھا۔’

مُجمل التواریخ کے مصنف تحریر کرتے ہیں: ’کفند، سکندر مقدونی کے زمانے میں ہند کا بادشاہ تھا، مئسی ڈوئین بتاتا ہے کہ کُفند اپنے بھائی ’سھد‘ کے لیے ایک برہمن کو (بہمن آباد) بھیجا، جس نے جاکر کہا کہ وہ ایرانیوں کو اس شہر سے نکال دے جو بہمن نے فتح کیا تھا۔‘

برہمن آباد کا نام خود فارسی یا ایرانی ہونے کی تصدیق کرتا ہے۔ ’آباد‘ فارسی زبان کا لفظ ہے۔ ’زین الاخبار‘ کے مصنف ابو سعید عبدالحئی گردیزی تحریر کرتے ہیں کہ ’ارد شیر نے سندھ میں جس شہر کی بنیاد رکھی وہ اُس کے نام سے پکارا جانے لگا، یہ نام صدیوں تک قائم رہا، مگر پھر جب ساسانیوں کا زور ٹوٹا اور سندھ پر برہمن خاندان کی حکومت آئی تو یہ نام ’بہمن‘ سے تبدیل ہوکر ’برہمن‘ ہوگیا۔‘

ایران کا اثر ہمیں 5ویں صدی میں بھی نظر آتا ہے، جب 435ع میں، ایران کے ساسانی فرمانروا یزدگرد اول کے بیٹے بہرام گور نے حملہ کرکے مکران اور سندھ کو اپنی سلطنت میں شامل کردیا تھا۔ کہتے ہیں کہ وہ جنگلی گدھوں کے شکار کا بڑا شوقین تھا، اس کی وجہ سے اس پر ’گور‘ کا لقب پڑا۔ نہیں پتہ کہ اس بات میں کتنی صداقت ہے کہ اس کی موت، جنگلی گدھے کے شکار کے دوران ہوئی تھی۔

بہمن آباد میں کھدائی کے بعد حاصل ہونے والے نوادرات
بہمن آباد میں کھدائی کے بعد حاصل ہونے والے نوادرات

بہمن آباد میں کھدائی کے بعد حاصل ہونے والے نوادرات کی تصویر
بہمن آباد میں کھدائی کے بعد حاصل ہونے والے نوادرات کی تصویر

بہمن آباد میں کھدائی کے بعد حاصل ہونے والے نوادرات کی تصویر
بہمن آباد میں کھدائی کے بعد حاصل ہونے والے نوادرات کی تصویر

بہمن آباد میں کھدائی کے بعد حاصل ہونے والے نوادرات کی تصویر
بہمن آباد میں کھدائی کے بعد حاصل ہونے والے نوادرات کی تصویر

اب ’بہمن آباد‘ کے ذکر کو الوداع کہتے ہیں، کیونکہ اس میں اب فقط ایک حرف ’ر‘ شامل ہونے والا تھا اور اس ’ر‘ کے شامل ہونے کے بعد یہ ’بہمن‘ سے ’برہمن‘ تو بنا، مگر فارسی زبان کے لفظ ’آباد‘ نے جدا ہونے سے انکار کردیا اور ساتھ رہا تو اب یہ بنا ’برہمن آباد‘۔ اس کی بھی ایک تاریخ ہے جس کے نشیب و فراز بڑے دلچسپ ہیں۔

سکندر جب سندھ پر حملہ کرنے آیا تھا تو اُس وقت سندھ میں مقامی طور پر 2 قوتیں موجود تھیں۔ ایک برہمن اور دوسرے بدھ مت کے ماننے والے بودھی۔ سکندراعظم کو اونیسی کریٹس نے سندھ کے متعلق جو رپورٹ دی تھی اُس کے مطابق ’سندھی بودھی اور بھکشو انتہائی طاقتور ہیں، ملتان اور اروڑ میں سورج دیوتا کے مندر ہیں۔ سیوہن اور پٹالا (برہمن آباد) بُدھ مت کے مرکز ہیں، جبکہ برہمن حاکم ہیں اور انہوں نے ’یونانیوں‘ اور ’بودھیوں‘ کی مخالفت کے لیے بڑی کوششیں کی، ’سامبس‘ والی بغاوت اُس کا نتیجہ تھی۔‘

مزید پڑھیے: یہ اسٹوپا کیا اس سڈیرن کا ہے جو بے گناہ مارا گیا؟

319 قبل مسیح میں چندرگپت کی حکومت گنگا گھاٹی میں پھیل گئی اور یونانیوں کے خلاف اس نے جو تحریک چلائی تھی اُس میں کامیاب ہوا۔ یہ برس اس لیے بھی اہم ہے کہ چندر گپت کی ’پٹالی پترا‘ میں تاج پوشی کی گئی اور اسی برس ’گُپتا کیلینڈر‘ کی ابتداء ہوئی۔ یہ زمانہ سنسکرت کی اوج کا زمانہ مانا جاتا ہے۔ ونسینٹ سمتھ کی تحقیق کے مطابق، یہ پراکرت کی سنواری گئی نئی شکل تھی۔ پراکرت اُس زمانے میں سندھ اور پنجاب میں رائج تھی، اسی زمانے میں ہندو ثقافت کو بڑی اہمیت حاصل ہوئی، مگر سندھ کے لوگوں پر اس کا کوئی خاص اثر نہیں پڑا اور وہ اپنے ’بُدھ‘ مذہب پر قائم رہے۔ ڈاکٹر نبی بخش بلوچ صاحب کے مطابق ’یہاں چوتھی صدی میں جب ایک برہمن راجا ’قفند‘ (گوبند) نے اپنا راج قائم کیا تو اس کا نام ’بہمن‘ سے بدل کر ’برہمن‘ ہوا۔ مگر یہ راج کوئی طویل عمر نہ پا سکا۔

بہمن آباد کا ایک کنواں
بہمن آباد کا ایک کنواں

بہمن آباد کی کھدائی کے بعد حاصل ہونے والے نوادرات
بہمن آباد کی کھدائی کے بعد حاصل ہونے والے نوادرات

کچھ عرصے بعد مقامی راجہ دیوا جی نے موقعے کا فائدہ اُٹھا کر سندھ میں رائے گھرانے کی بنیاد رکھی۔ 455ء میں رائے گھرانے کو اپنی سلطنت کو وسعت دینے میں آسانی پیدا ہوئی اور انہوں نے اپنے راجاؤں کا اثر سالٹ رینج سے کاٹھیاواڑ تک بڑھا دیا۔ اس رائے گھرانے کا بانی ’ڈیاچ‘ تھا، جس کا تعلق بُدھ مت سے تھا، چتوڑ کے راجاؤں سے اس کی رشتہ داری تھی۔

وقت کے ساتھ اس نے ایک سلطنت کا روپ لے لیا جس میں سندھ، بلوچستان، جنوبی پنجاب، سرحد کے کچھ حصے، کَچھ اور کاٹھیاواڑ شامل تھے۔ بڑا ملک ہونے کی وجہ سے اس کو کئی انتظامی یونٹوں میں تقسیم کیا گیا۔ جن میں مرکزی حیثیت برہمن آباد، سیوستان، ملتان اور کیکانان کو حاصل رہی۔

رائے سہاسی اول کے بعد اس کا بیٹا رائے سہارس دوئم تخت پر بیٹھا۔ یہ ہی رائے گھرانے کا آخری حاکم تھا جس نے بغیر اولاد کے یہ جہان چھوڑا یا چھڑوا گیا، یہ ایک الگ بحث ہے جو کسی اور وقت کریں گے۔ اس کے بعد اس کا وزیر چچ بن سیلائج سندھ کا حاکم بنا۔ چچ کو برہمن حکومت کا بانی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ خود ایک کٹر برہمن تھا۔ مگر سندھ میں حکومت کرنی اس کے لیے مشکل ثابت ہو رہی تھی کیوں کہ ایک تو اس کو یہاں کے جنگجو قبیلوں سے جنگ کرنی پڑ رہی تھی اور دوسرا مسئلہ رائے سہاسی کے وفاداروں سے بھڑنا پڑ رہا تھا۔

چینی سیاح ہیونتسیانگ
چینی سیاح ہیونتسیانگ

یہاں کے مقامی لوگ جیسے جت، لوہانا، سما، سہتا اور چنہ قبیلوں کے لوگ بدھ مت سے گہرا تعلق رکھتے تھے اور وہ ہندو راجاؤں کی حکومت ماننے کو تیار نہیں تھے۔ سیاسی حوالے سے بدھ شمنی (پروہت) اپنی جگہ پر ایک سیاسی طاقت تھے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ’چچ‘ خود برہمن آباد کے پروہت کے پاس نہ جاتا۔ چچ ذہین حاکم تھا اس لیے بدھ مذہب کو اہمیت دی۔ اُن کے اسٹوپاؤں اور مذہبی مقامات کی تعمیر میں مدد کی اور ان پروہتوں کو حکومت میں بڑے بڑے عہدوں سے بھی نوازا۔ چچ نے 40 برس تک حکومت کی مگر مقامی لوگ بدھ مت سے ہی وابستہ رہے۔ اس کے بعد چچ کا بھائی ’چندر‘ تخت پر بیٹھا اور 7 برس حکومت کی۔ چندر کی وفات کے بعد راجا داہر تخت پر بیٹھا اور برہمن آباد پر اپنے بھائی ’ڈھرسیں‘ کو گورنر بنایا۔

بس ’برہمن آباد‘ کی کہانی اب اپنے آخری دنوں تک آ پہنچی ہے۔

راجا داہر مقامی لوگوں کی بغاوت کی وجہ سے محمد بن قاسم سے جنگ لڑتے ’راوڑ‘ کے مقام پر 711ء میں مارا گیا۔ اس جنگ سے تقریباً، 72 برس قبل ایک چینی سیاح ’ہیونتسیانگ‘ (Xuanzang or Hsuan-Tsang) یہاں آیا تھا۔ وہ تحریر کرتا ہے ’سندھ میں اس وقت دس، دس ہزار شمنی (پروہت) تھے مگر اب وہ سست ہیں۔ سندھ کے بڑے شہر پٹالا تک پہنچنے کے لیے، کَچھ کے شہر ’کوٹیسر‘ سے 700 لی (119 میل) پیدل چل کر آیا۔ یہاں (پٹالا) سے 300 لی (51 میل) چل کر وہ برہمن آباد پہنچا۔ ’ھیونتسیانگ‘ کے کہنے کے مطابق ’وہ یہاں رشی ’تتھا گاتھا‘ کی راکھ کا دیدار کرنے کے لیے آیا تھا، جس کی راکھ کی ڈبیا کھولنے سے نور کی روشنی کی شعاعیں نکلتی تھیں اور زیارت کرنے والے سجدے میں گرجاتے تھے۔‘

ہم جب یہاں پہنچے تو آثاروں کے جنوب مشرق میں آباد گاؤں سے بچے دوڑتے ہوئے آئے۔ کچھ دیر ہم کو غور سے دیکھا، پھر شور و غل مچاتے گلیوں میں چلے گئے۔ میں مسجد کے مشرق میں بنے ہوئے اُس خستہ ٹاور پر گیا جو کسی زمانے میں بڑا شاندار رہا ہوگا۔ یہاں میں اُس ٹاور کی 1878ء میں بنی ہوئی ایک تصوراتی تصویر شیئر کر رہا ہوں جو ایک آرکیالاجی کے ماہر آرٹسٹ کی بنی ہوئے ہے، آپ خود دیکھ لیجئے۔ یہ یقیناً اُس زمانے کا بنا ہوا ٹاور ہے جب ’بہمن آباد‘ روتا ہوا مغرب کی طرف چلا گیا، ’برہمن آباد‘ آنکھیں مسلتا مشرق جنوب کی طرف گیا اور منصورہ بچا۔ یہ اُس زمانے کا ٹاور رہا ہوگا۔

ٹاور کی ایک پرانی تصویر اور  کھدائی سے قبل ٹاور
ٹاور کی ایک پرانی تصویر اور کھدائی سے قبل ٹاور

لیکن اس ٹاور کی کہانی آگے بڑھانے سے پہلے ’ہینری کزنس‘ کی سُن لیتے ہیں، وہ لکھتے ہیں کہ ’منصورہ کا شہر برہمن آباد کے کھنڈرات پر بنایا گیا۔

آرکیالاجیکل سروے آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ’ٹاور کے قریب ایک کنویں کی کھدائی کرتے ہوئے ہم مخصوص پھولوں اور نقش نگار والی اینٹوں کے ایک تہہ تک آ پہنچے۔ یہ اینٹیں ایک ڈھیر کی صورت میں ایک تہہ کی طرح جمادی گئی تھیں۔ یہ رنگین اینٹیں ہمیں بالکل ٹاور (یا ٹُھل) کے نزدیک سے ملیں اور یہ دوسری اینٹوں سے اچھی حالت میں تھیں۔ ان اینٹوں کی تہہ کے نیچے ہمیں لکڑی کی چار پٹیاں ملیں مگر وہ گل کر پاؤڈر ہوگئی تھیں، البتہ ان کے ابتدائی اور اختتامی حصے جو دیوار میں تھے وہ البتہ کچھ بہتر کیفیت میں تھے‘

’ان لکڑیوں نے دیوار سے باہر جاکر ایک اور چورس فریم بنایا تھا، اور ان کے بنے ہوئے چورس اور تکونے کونوں کو دیواریں بنا کر بند کردیا گیا تھا اور ان کے نیچے جو تہہ تھی اُس کو بھی اینٹوں اور گارے سے بنایا گیا تھا۔ یہاں سے جو اینٹیں ملی ہیں وہ عام طور پر سندھ میں بُدھ اسٹوپاؤں کے بنانے کے کام آتی ہیں‘

’ہماری کھدائی کے مطابق، اس کھنڈر کا نقشہ اور اینٹوں کی موجودگی اس خیال کو یقین میں تبدیل کرنے کے لیے بہت ہے کہ یہ اسٹوپہ کی باقیات ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ پرانے اسٹوپہ کو نئے سرے سے تعمیر کیا گیا ہو۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ اسٹوپہ ہے اور کوئی مقدس چیز ان اینٹوں کی دیواروں کے درمیان یا اس لکڑی والی کوٹھڑی کے فرش کے نیچے دفن کی گئی ہے۔ ہم ان چُنی ہوئی اینٹوں کو لے کر 26 فٹ نیچے تک کھدائی کرکے گئے مگر کچھ بھی ہاتھ نہیں لگا۔ مگر یہ یقین ہے کہ یہ اسٹوپہ کی جگہ ہی ہے۔‘

تھل یا ٹاور—تصویر ابوبکر شیخ
تھل یا ٹاور—تصویر ابوبکر شیخ

تھل یا ٹاور—تصویر ابوبکر شیخ
تھل یا ٹاور—تصویر ابوبکر شیخ

مجھے نہیں معلوم کہ ’آئینہ اکبری‘ کے مصنف ابوالفضل نے جو تحریر کیا ہے اُس میں کتنی صداقت ہے کہ برہمن آباد کے قلعہ میں 1400 بُرج تھے اور ہر ایک بُرج ایک دوسرے سے کافی فاصلے پر بنا ہوا تھا۔ اس سے لگتا ہے کہ یہ قلعہ ایک وسیع رقبہ پر پھیلا ہوا تھا۔ کلہوڑا دور میں جب یہ قلعہ اپنے آخری ایام کو آکر پہنچا تھا تب بھی ان کے بُرجوں کا پھیلاؤ بہت تھا اور بُرج کا اوپری گراؤنڈ 40 فٹ تھا۔ یہ اپنے زمانے کا ایک طاقتور قلعہ تھا کیونکہ محمد بن قاسم نے پورے 6 ماہ اس قلعے کا گھیراؤ کیا تب جا کر کہیں یہ فتح ہوا۔

ڈاکٹر غلام محمد لاکھو اس حوالے سے تحریر کرتے ہیں کہ ’یہ شہر اپنے دنوں میں ایک خوبصورت اور دیکھنے جیسا شہر تھا، کیونکہ راجا یہاں رہتا تھا اس لیے بھی مشہور تھا۔ ابن خلدون اس کو ہندوستان کے مضبوط قلعوں میں سے ایک کا درجہ دیتا ہے۔ رحیم داد بروہی مولائی شیدائی نے البیرونی اور رشید الدین کے حوالوں سے اس شہر کو ملتان سے بھی بڑا شہر قرار دیا ہے۔ اس قلعے میں 40 ہزار فوج رہتی تھی۔ اس عظیم الشان قلعے کے 4 دروازے تھے جن کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا تھا، جیسے بھارند، ساتیہ، بنورہ اور سالہا۔‘

جانیے: برہمن آباد، قدیم سندھ کا تجارتی مرکز

میں نے ٹاور کے قریب ایک ٹیلے پر سے دیکھا۔ میری حدِ نظر تک ایک ساکت تصویر پھیلی ہوئی تھی۔ کہیں بھی کچھ نہیں ہو رہا تھا۔ خاموشی کی ایک دبیز تہہ اس تصویر پر بچھی ہوئی تھی۔ جہاں ہزاروں لوگ رہتے تھے۔ وہاں کسی چڑیا کی بھی آواز نہیں۔ کسی گھر کا کوئی آنگن نہیں۔ بندرگاہ پر بادبان کا تصور تک نہیں۔ بازاروں کے راستے تھے اور شہر کی گلیاں تھیں۔ جہاں وقت کی اُڑتی ہوئی دھول نے ڈیرے جما رکھے تھے۔ اب ہم مختصر سا جائزہ ’منصورہ‘ کا لیتے ہیں۔ اس نام پر بھی تاریخ کے صفحات میں تنازعات کی دھول اُڑتی ہے جس میں صاف منظر کم ہی دکھائی دیتا ہے۔

بہمن آباد میں کھدائی کے دوران کھینچی گئی ایک تصویر
بہمن آباد میں کھدائی کے دوران کھینچی گئی ایک تصویر

716ء میں ’ولید بن عبدالملک‘ کا انتقال ہوا جس کی وجہ سے دمشق میں خلیفہ تبدیل ہوا اور اس کی جگہ پر اس کا بھائی ’سلیمان بن عبدالملک‘ خلیفہ ہوا۔ خلیفہ سلیمان نے محمد بن قاسم کو برطرف کرکے اس کی جگہ پر ’یزید بن ابی کبشہ سکسکی‘ کو سندھ کا گورنر مقرر کیا اور حکم دیا کہ محمد بن قاسم کو گرفتار کرکے عراق بھیجا جائے جہاں اُس کو اذیتیں دے کر جیل میں مار دیا گیا۔ یہاں جو گورنر مقرر ہوکر آتے اُن کا رویہ کبھی بہتر نہیں رہا۔

ڈاکٹر ممتاز حسین پٹھان لکھتے ہیں کہ ’جیسا کہ سندھ کا ملک خلیفوں کے انتظامی مرکزوں دمشق اور بغداد سے بہت دور تھا اس لیے یہ اپنے گورنروں کی ظالمانہ روش پر ضابطہ نہ رکھ سکے۔ بنو اُمیہ کے بعد بنو عباس اسلامی دنیا کے مالک بنے۔ بنو اُمیہ کے سندھ میں 9 گورنر رہے، جبکہ بنو عباس کے بھی تقریباً 9 گورنر رہے۔ سندھ میں حالات بہتر نہ ہونے کا سبب عرب قبیلوں کا سندھ میں آباد ہونا تھا۔ انہوں نے سندھ کی زراعت اور بیوپار سے متاثر ہوکر یہاں پر اپنی بستیاں آباد کیں۔ ایک تو عرب فاتح اور ملک کے مالک تھے، اس لیے ملک کی معاشی، سیاسی اور سماجی زندگی میں ان کو مرتبہ حاصل تھا۔ وہ جاگیروں کے مالک بنے، مگر ان میں جو نسلی عصبیت تھی اُس کی وجہ سے ترقی میں کسی بھی قسم کی شرکت نہ کرسکے۔‘

عربوں کے 2 طبقے تھے: معزی اور یمنی۔ معزیوں کو نزاری، عدنانی اور حجازی نام دیے گئے ہیں اور وہ یمنیوں سے الگ نسل کے تھے۔ یمنیوں کو حمیر، سبا اور قحطان کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان قبیلوں کی اسلام سے پہلے سے قبائلی دشمنی چلی آ رہی تھی اور وہ ہمیشہ لڑنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ بنو اُمیہ کے زوال کے بعد عباسیوں نے ان فسادات کو ختم کروانے کی بڑی کوشش کی مگر وہ کامیاب نہ ہوسکے۔ عرب لڑتے تو آپس میں تھے مگر مقامی آبادیوں کو ان جھگڑوں کی وجہ سے نقصان اُٹھانا پڑتا تھا۔

’عباسی خلیفہ المعتصم باللہ کے دورِ حکومت میں سندھ کے 2 عرب قبیلوں ’معز‘ اور ’حمیر‘ میں خانہ جنگی شروع ہوئی جس کا اثر پورے سندھ پر پڑا۔ دونوں قبیلوں نے ایک دوسرے کے بہت سارے آدمی مار دیے۔ سندھ کے اُس وقت کے گورنر عمران بن موسیٰ برمکی نے حمیر (یمنی) قبیلوں کا ساتھ دے کر مضریوں (حجازی) عربوں پر ظالمانہ کارروائیاں کیں اور بہت سارا خون بہا۔ اس جنگ کا فائدہ حاصل کرکے، مضری قبیلوں نے ہبار بن الاسود کی اولاد میں سے عمر بن عبدالعزیز ہباری کو اپنا لیڈر بنایا، جس نے گورنر عمران کو شکست دی اور منصورہ کے شہر اور خزانے پر قبضہ کرلیا۔

کھدائی کے بعد حاصل ہونے والے قدیم نوادرات
کھدائی کے بعد حاصل ہونے والے قدیم نوادرات

کھدائی کے بعد حاصل ہونے والے قدیم نوادرات
کھدائی کے بعد حاصل ہونے والے قدیم نوادرات

الیعقوبی نے یہ واقعہ 240 ہجری (854ء) کا بتایا ہے۔ عمر بن عبدالعزیز عباسی خلیفوں کی رضامندی سے حکومت کرتا رہا مگر جب عباسی خلافت کمزور ہوئی تو اُس کا فائدہ اُٹھا کر، ایک آزاد اور خودمختار ملک کا مالک بن گیا، جس کو منصورہ کی عرب حکومت کہا جاتا ہے۔‘

المسعودی، الاسطخری اور دوسرے سیاحوں کے علاوہ آخر میں آنے والا بشاری مقدسی تھا جو تقریباً 988ء میں منصورہ میں آیا تھا، اُس کے مطابق: منصورہ سندھ کا مرکزی شہر ہے۔ حکومت کا کاروبار یہاں سے چلایا جاتا ہے۔ یہاں کی عمارتیں اینٹوں سے بنی ہوئی ہیں، مگر شہر کی جامع مسجد پتھر، چونے اور اینٹوں سے بنائی گئی ہے۔ اس مسجد کا نمونہ عمان (مسقط) طرز کا ہے۔ اس شہر کے قلعے کے 4 مرکزی دروازے ہیں، جن کے نام: باب البحر، باب سندان، باب ملتان اور باب تُوران ہیں۔ جامع مسجد شہر کے مرکز میں ہے، سارے راستے یہاں آکر ملتے ہیں، یہاں کی رسمیں عراق جیسی ہیں، کافروں کا ملک میں زور ہے۔‘ ابواسحاق الاصطخری کہتے ہیں کہ ’منصورہ کا سندھی میں نام ’برہمن آباد‘ ہے۔‘

اب اس شہر کے صدیوں پر محیط سفر کا اختتام آ پہنچا ہے۔ مگر کمال تو یہ ہے کہ کوئی ایک محقق دوسرے محقق سے اتفاق نہیں کرتا۔ کوئی کہتا ہے کہ دریا نے اپنا رُخ تبدیل کیا، کوئی کہتا ہے یہ ساری بربادی زلزلے کی وجہ سے ہوئی، پھر کچھ یہ بھی کہتے ہیں کہ سومرا سرداروں نے یہ سب کیا۔

مگر کچھ محققین کا یہ بھی خیال ہے کہ کہ اس کا خاتمہ غزنی کے سلطان محمود غزنوی نے کیا تھا۔ وہ جب سومناتھ کو فتح کرکے رن کَچھ پار کرکے 1025ء میں منصورہ آیا تو دیندار باشندوں پر ارتداد کا الزام لگا کر ہنستے بستے شہر کو خون سے نہلانے کے بعد نذرِ آتش کردیا۔ اسی برس محمود غزنوی نے ملتان اور اُچ کے شیعہ حکمرانوں کو شکست دی۔ 1026ء میں بکھر اور سیوہن کے لیے لشکر کشی کی۔ ’آئینہ اکبری‘ کے مصنف تحریر کرتے ہیں کہ ’چیچک کے داغوں والے اس بدصورت شخص نے ہندوستان پر حملے کیے، ہر مرتبہ یہاں کے باشندوں سے لوٹ مار کرکے دولت کے انبار لے جاتا۔‘

پڑھیے: عمر کا سات صدیاں دیکھنے والا قلعہ

رچرڈسن، الیگزینڈر کننگھام، بیلاسس اور ریورٹی اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ ’منصورہ کی بربادی زلزلہ کے آنے کے وجہ سے آئی۔ بیلاسس جس نے 3 مرتبہ یہاں کھدائی کروائی تھی اُن کے مطابق، زلزلہ شاید آدھی رات کے بعد آیا ہوگا۔ کیوں کہ کچھ ایسے ڈھانچے ملے ہیں جو سوئے ہوئے تھے، کچھ کے ڈھانچے افراتفری میں دروازوں کے پاس ملے ہیں اور مویشی گھروں کے آگے بندھے ہوئے ملے ہیں۔ انسانی ہڈیوں کے سوا یہاں سے اونٹوں، گھوڑوں، بیل، کتوں، پرندوں اور مرغیوں کی ہڈیاں بھی ملی ہیں۔‘

میں ٹاور سے چلتا، تصور میں شہر کی گلیوں سے ہوتا ہوا اُس مرکزی شاہراہ پر پہنچا جہاں آج سے 1120 برس پہلے ’ابو عبداللہ الحسین بن منصور الحلاج‘ گذرا تھا۔ منصور حلاج کی شہادت میں سندھ کے اس سفر کا بھی الزام تھا۔ منصور حلاج اپنے دوسرے طویل سفر کے دوران سندھ میں آئے اور اسی شہر میں رہے۔ مجھے نہیں پتہ اس مرکزی شاہراہ سے وہ کس گلی میں گئے ہوں گے، وہ موسم کیسا ہوگا اور وہ دن کون سا ہوگا جب وہ یہاں ان گلیوں میں پہنچے ہونگے۔ یہ سب راز ہیں جو منصورہ، برہمن آباد اور بہمن آباد کے آثاروں کی گہرائیوں میں دبے پڑے ہیں۔

ایک گہری خاموشی ہے جو اگر زیادہ ہوجائے تو آپ کے کانوں کو تکلیف دیتی ہے۔ اتنی خاموشی کے کیمرا کے اپرچر کی آواز بھی زوردار لگتی ہے اور اس خاموشی میں آپ سوچتے ہیں کہ کہاں گئے وہ تخت و تاج جن کو جاری رکھنے کے لیے ان کو لوگوں کے خون کی پیاس ستاتی تھی۔ کیا کسی نے ایک پل کے لیے بھی یہ نہیں سوچا کہ جیون کی پگڈنڈی ہے ہی کتنی۔ آپ چلنا شروع کرتے ہیں تو اختتام آجاتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ہم خاک میں مل جاتے ہیں ہمارے فقط کرم رہ جاتے ہیں اور رہ جاتے ہیں وہ ماضی کے مزار جن سے تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں۔ مگر ان ماضی کے ویران مزاروں پر آنے والے وقتوں کی دھول اُڑتی ہے کیوں کہ ہم تاریخ سے کبھی نہیں سیکھتے۔


حوالہ جات

۔ ’ہندوستان میں عربوں کی حکومتیں‘ از مولانا قاضی اطہرمبارک پوری

۔ ’تاریخ ایران‘ (جلد اول)۔ تالیف: مقبول بیگ بدخشانی

۔ ’تاریخ طبری‘ از علامہ ابی جعفر محمد۔ ترجمہ: ڈاکٹر محمد صدیق ہاشمی

۔ ’تاریخ ابن خلدون‘ از علامہ عبدالرحمٰن ابن خلدون۔ ترجمہ: حکیم احمد حسین الہ آبادی

۔ ’سندھ‘ (عرب دور) از ڈاکٹر محمد حسین پٹھان

۔ ’انسائیکلوپیڈیا سندھیانا‘

۔ ’سندھ جی پیرائتی کتھا‘ از ایم۔ ایچ۔ پنھور

۔ ’سندھ: ایک عام جائزہ‘ از ایچ۔ ٹی۔ لیمبرک

۔ ’جنت السندھ‘ از رحیمداد مولائی شیدائی

۔ ’دیوان منصور حلاج‘ از ترجمہ: مظفر اقبال

۔ ’سانگھڑ جی سُرھان‘ از مرتب: الھورایو بھن

۔ ’سانگھڑ صدین کھاں‘ از مرتب: عبداللہ وریاہ

۔ ’سندھ تے سکندر جی کاہ‘ از ترجمہ: عطا محمد بھنبھرو

۔ ’سندھ جا قدیم آثار‘ از ہینری کزنس۔ ترجمہ: عطا محمد بھنبھرو

۔ ’تاریخ سندھ‘ از علامہ سید ندوی۔


ابوبکر شیخ آرکیولاجی اور ماحولیات پر لکھتے ہیں۔ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے لیے فوٹوگرافی اور ریسرچ اسٹڈیز بھی کر چکے ہیں۔ ان کا ای میل ایڈریس [email protected] ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔