بیوی سے لڑنے کا یہ انجام جانتے ہیں؟

16 اگست 2018

ای میل

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے— شٹر اسٹاک فوٹو
یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے— شٹر اسٹاک فوٹو

اگر تو آپ زندگی میں بیماری کو خود سے دور رکھنا چاہتے ہیں تو کبھی اپنے شریک حیات سے جھگڑا مت کریں۔

جی ہاں شادی کے بعد شوہر اور بیوی میں کبھی کبھار جھگڑا ہونا تو معمول کا حصہ ہے تاہم اگر ایسا اکثر ہو تو بیمار ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔

اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ایسے جوڑے جن میں اکثر لڑائیاں ہوتی ہیں، ان میں معدے کے امراض کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ اگر لڑائی جھگڑا روزمرہ کا معمول بن جائے تو جوڑوں کے معدے میں ایسی تبدیلیاں آسکتی ہیں جو ورم اور امراض کا باعث بن سکتی ہیں۔

شادی کے بعد تعلق اچھا نہ ہو تو غصہ اور عداوت جوڑے میں عام ہوتا ہے جو کہ منفی نفسیاتی اثرات کا باعث بنتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران 43 جوڑوں کا جائزہ لیا گیا اور ان کے درمیان جھگڑوں کے اثرات کا تجزیہ خون کے نمونوں کے ذریعے کیا گیا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ ایسے میاں بیوی، جن میں ایک دوسرے کے خلاف زیادہ غصہ پایا جاتا ہے، ان میں ایسے بیکٹریا کی سطح زیادہ ہوتی جو معدے کے امراض کا خطرہ بڑھاتے ہیں، جبکہ ایسے جوڑوں میں جسمانی ورم بھی زیادہ ہوتا ہے۔

اس سے قبل طبی تحقیقی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ میاں بیوی کی لڑائیاں ورم سے متعلق امراض کا خطرہ بڑھاتی ہیں، جیسے ڈپریشن، امراض قلب اور ذیابیطس، مگر یہ واضح نہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔

اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ ورم عمر بڑھنے کے ساتھ پھیلنے لگتا ہے اور درمیانی عمر میں امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل Psychoneuroendocrinology میں شائع ہوئے۔