دلوں پر آج بھی راج کرنے والے استاد نصرت فتح علی خان

اپ ڈیٹ 16 اگست 2018

ای میل

فوٹو/ فائل
فوٹو/ فائل

فن قوالی کو پوری دنیا میں متعارف کرانے والے عظیم قوال استاد نصرت فتح علی خان کی 21 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔

موسیقی کی دنیا کے عظیم نام استاد نصرت فتح علی خان کی آواز سرحدوں کی قید سے آزاد تھی۔

13 اکتوبر 1948 کو فیصل آباد میں پیدا ہونے والے اس فنکار نے بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

ٹائم میگزین نے 2006 میں ایشین ہیروز کی فہرست میں ان کا نام بھی شامل کیا، بطور قوال اپنے کریئر کے آغاز میں اس فنکار کو کئی بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔

آپ کے والد کا نام فتح خان تھا وہ خود بھی نامور گلوکار، سازندے اور قوال تھے۔

نصرت فتح علی خان کی قوالیوں کے پچیس البم ریلیز ہوئے جن کی شہرت نے انہیں گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں جگہ دلوائی، ابتداء میں حق علی علی اور دم مست قلندر وہ کلام تھے جنہوں نے انہیں شناخت عطا کی۔

ان کے مقبول نغموں میں انکھیاں اڈیک دیاں، یار نا وچھڑے، میرا پیا گھر آیا اور میری زندگی سمیت متعدد شامل ہیں۔

نصرت فتح علی خان کی ایک حمد وہ ہی خدا ہے کو بھی بہت پذیرائی ملی جبکہ ایک ملی نغمے میری پہچان پاکستان اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے لئے گایا گیا گیت 'جانے کب ہوں گے کم اس دنیا کے غم' آج بھی لوگوں کے دلوں میں بسے ہیں۔

نصرت فتح علی خان کو ہندوستان میں بھی بے انتہا مقبولیت اور پذیرائی ملی جہاں انہوں نے جاوید اختر، لتا مینگیشکر، آشا بھوسلے اور اے آر رحمان جیسے فنکاروں کے ساتھ کام کیا۔

استاد نصرت فتح علی خان نے جس طرح اپنے فن کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچا دیا اس طرح فن موسیقی میں پاکستان کو پوری دنیا میں متعارف کرانے کا کریڈٹ صرف اور صرف استاد نصرت فتح علی خان کو جاتا ہے۔

انہوں نے ڈیڈ مین واکنگ، بینڈٹ کوئین، دی لاسٹ ٹیمپٹیشن آف کرائسٹ اور نیچرل بورن کلرز جیسی بین الاقوامی فلموں کیلئے میوزک، گیت، ساؤنڈ ٹریکس اور الاپ وغیرہ بھی گائے اور بنائے۔

ان کی فنی خدمات کے صلہ میں انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پرفارمنس سے بھی نواز اگیا، وہ بیک وقت موسیقار بھی تھے اور گلوکار بھی تھے 1995 میں انہیں یونیسکو میوزک ایوارڈ دیا گیا جبکہ 1997 میں انہیں گرامی ایوارڈز کیلئے نامزد کیا گیا۔

16 اگست 1997 میں ان کی وفات دنیائے موسیقی کے لئے کسی سانحہ سے کم نہ تھی وہ گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے۔

ان کی عمر 48 سال تھی اور اپنی وفات کے وقت وہ اپنے کریئر کے عروج پر تھے، کئی بین الاقوامی فنکار اسے اپنی خوش قسمتی قرار دیتے ہیں کہ انہوں نے نصرت فتح علی خان کے ساتھ کام کیا۔

نصرت فتح علی خان کے بھتیجے و شاگر د استاد راحت فتح علی خان آج بھی ان کا نام زندہ و تابندہ رکھے ہوئے ہیں جبکہ ان کی برسی پر دنیا بھر میں ان کے مداح تقریبات کا اہتمام کریں گے۔