راولپنڈی: نومنتخب وفاقی وزیرِ ریلوے اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کی رہائش گاہ پر ملنے آنے والی بزرگ خاتون سے مبینہ طور پر بدسلوکی کی، ویڈیو بنانے والے رپورٹر کا موبائل فون توڑ دیا۔

اطلاعات کے مطابق ایک غریب بزرگ خاتون وفاقی وزیرِ ریلوے شیخ رشید احمد سے ملنے کے لیے ان کی رہائش گاہ لال حویلی پہنچی تو گارڈز نے انہیں اندر جانے سے روک دیا۔

گارڈز کی جانب سے روکے جانے پر خاتون نے شور مچایا اور رونا بھی شروع کردیا، تاہم اسی دوران عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اپنے گھر سے باہر آگئے اور خاتون کو دھکا دے دیا۔

ان کی رہائش گاہ سے کچھ دور کھڑے نجی ٹی وی چینل 24 نیوز کے کیمرہ مین وہاں موجود تھے جنہوں نے یہ افسوس ناک منظر اپنے موبائل فون کے کیمرے میں محفوظ کر لیا۔

مزید پڑھیں: شیخ رشید احمد اہل قرار، الیکشن میں حصہ لینے کی راہ ہموار

وفاقی وزیرِریلوے کی نظر جیسے ہی اس موبائل فون اور کیمرہ مین پر پڑی تو انہوں نے پہلے اسے اپنے پاس بلایا اور پھر لال حویلی کے باہر حفاطتی اقدامات کے حوالے سے لگائے گئے کنکریٹ کے بلاک پر مار دیا جس سے موبائل فون ٹوٹ گیا۔

واضع رہے یہ واقعہ آج دن 2 بجے پیش آیا جب کیمرہ مین عاقب اپنے رپورٹر سردار صداقت کے ہمراہ عید الاضحٰی کے سلسلے میں شیخ رشید کے پاس پروگرام ریکارڈنگ کرنے آئے تھے۔

اس حوالے سے بزرگ خاتون یا پھر کیمرہ مین کی جانب سے پولیس اسٹیشن میں کوئی رپورٹ درج نہیں کرائی گئی۔

ادھر عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے ڈان نیوز سے بات کرتے ہوئے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: شیخ رشید کے بھتیجے کو پی ٹی آئی کا ٹکٹ دینے پر احتجاج کی دھمکی

خیال رہے کہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 63 سے کامیابی حاصل کی تھی اور ان کی جماعت کی پورے پاکستان سے واحد جیت تھی۔

انتخابات میں ایک نشست میں فتح کے بعد عوامی مسلم لیگ کی جانب سے اکثریت حاصل کرنے والی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ اتحاد کا اعلان کیا گیا تھا۔

نومنتخب وزیرِاعظم عمران خان نے اپنی کابینہ میں جہاں دیگر اتحادی جماعتوں کے نمائندوں کو شامل کیا وہیں انہوں نے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کو بھی کامبینہ کا حصہ بناتے ہوئے انہیں وفاقی وزیرِ ریلوے کا قلمدان سونپ دیا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (1) بند ہیں

Malik USA Aug 22, 2018 07:23pm
گارڈز کی جانب سے روکے جانے پر خاتون نے شور مچایا اور رونا بھی شروع کردیا، تاہم اسی دوران عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اپنے گھر سے باہر آگئے اور خاتون کو دھکا دے دیا۔ اس حوالے سے بزرگ خاتون یا پھر کیمرہ مین کی جانب سے پولیس اسٹیشن میں کوئی رپورٹ درج نہیں کرائی گئی۔ Kahani kahin pe toot rahi hai