امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان ہیتھر نوریٹ نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو اور پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے درمیان فون پر ہونے والی بات چیت کے حوالے سے امریکا کے جاری کردہ بیان کی توثیق کردی۔

اس دوران جب ان سے امریکی بیان کو درست کرنے کے پاکستانی موقف کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ دونوں اطراف سے اچھی گفتگو ہوئی۔

نیان میں کہا گیا تھا کہ سیکریٹری آف اسٹیٹ نے پاکستانی وزیر اعظم سے فون پر گفتگو میں نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے اور باہمی تعلقات بہتر بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں، امریکا

ان کا کہنا تھا کہ اس سے آپ میں سے کچھ لوگوں کو حیرانی ہوسکتی ہے تاہم ان کی اچھی بات چیت ہوئی، پاکستان، امریکا کا اہم اتحادی ہے اور ہمیں نئی حکومت کے ساتھ اچھے اور نتیجہ خیز ورکنگ تعلقات قائم کرنے کی امید ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ فون کال ایک اچھی تھی جس میں نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے حوالے سے اچھی گفتگو ہوئی۔

جب ان سے دوبارہ پوچھا گیا کہ کیا امریکا فون کال کے حوالے سے جاری اپنے بیان پر قائم ہے تو انہوں نے توثیق کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے بیان پر قائم ہیں۔

امریکی بیان حقائق کے منافی ہے، پاکستان

خیال رہے کہ پاکستان کے دفترخارجہ نے وزیراعظم عمران خان اور امریکی سیکریٹری خارجہ کے درمیان ہونے والے ٹیلی فونک رابطے کے بعد امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے جاری بیان کو ‘حقائق کے منافی’ قرار دیا تھا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے ٹوئٹر پر دیے گئے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ‘گفتگو میں پاکستان کے اندر دہشت گردوں کی فعالیت کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی اور اس کی فوری درستی ہونی چاہیے’۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں ترجمان ہیتھر نوریٹ نے کہا تھا کہ ‘سیکریٹری پومپیو نے پاکستان میں فعال تمام دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے فیصلہ کن اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کیا اور یہ افغان امن کی کوششوں کے لیے اہم نکتہ ہے’۔

قبل ازیں امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے وزیراعظم عمران خان کو فون کرکے نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا۔

وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق امریکی سیکریٹری خارجہ نے وزیراعظم کو گفتگو کے دوران پاک-امریکا تعلقات کی مضبوطی کی ضرورت پر زور دیا گیا اور دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائیوں کے لیے پاکستان کی اہمیت کا بھی ذکر کیا۔

پومپیو نے وزیراعظم کو کامیاب انتخابی مہم اور حکومت بنانے پر مبارک باد دی اور پاکستانی عوام کی بہتری کے لیے کیے گئے ان کے وعدوں کی تکمیل کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا تھا۔

ترجمان کے مطابق عمران خان نے کہا تھا کہ افغانستان سمیت پورے خطے میں امن کا قیام ضروری ہے۔

دونوں رہنماؤں نے افغانستان کے تناظر میں امن کو دونوں ممالک کے لیے اولین ترجیح پر اتفاق بھی کیا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان کو انتخابات میں کامیابی حاصل ہونے کے بعد مختلف ممالک کی جانب سے مبارک باد موصول ہوئی تھی جبکہ وزیراعظم بننے کے بعد مختلف ممالک کے سربراہان نے نئی حکومت کے ساتھ مل کرکام کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

خیال رہے کہ مائیک پومپیو متوقع طور پر اگلے ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے اور وزیراعظم سے ملاقات کریں جہاں دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر بات چیت ہوگی۔

مزید پڑھیں:امریکی سیکریٹری خارجہ عمران خان سے ملنے پاکستان آئیں گے

پومپیو کے متوقع دورہ پاکستان میں تعلقات کو مزید بہتر بنانا اور افغانستان میں امن کے قیام کے لیے امریکی اقدامات پر پاکستان کی حمایت حاصل کرنا بھی شامل ہے۔

قبل ازیں امریکی حکام نے افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کو تعاون کرنے پر زور دیا تھا۔

امریکی محکمہ خارجہ نے حالیہ انتخابات میں عمران خان کی جیت سے متعلق امریکا کے ناخوش ہونے کے تاثر کو مسترد کردتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہم پاکستان کے نئے وزیراعظم کو تسلیم کرتے ہیں اور انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ گزشتہ 70 سال سے پاکستان اور امریکا کے تعلقات بہت اہمیت کے حامل رہے ہیں، امریکا پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ مل کام کرنے اور پاکستان سمیت خطے بھر میں امن اور ترقی کو فروغ دینے کا خواہاں ہے‘۔