بلوچستان حکومت کی 10 رکنی کابینہ کی حلف برداری

اپ ڈیٹ 28 اگست 2018

ای میل

کوئٹہ: بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال خان کی 10 رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس میں منعقد ہوئی، جہاں گورنر محمد خان اچکزئی نے نومنتخب کابینہ کے اراکین سے حلف لیا، اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان، چیف سیکریٹری ڈاکٹر نذیر احمد اور دیگر سینئر عہدیداران موجود تھے۔

بلوچستان کی اتحادی حکومت کی کابینہ میں 8 اراکین کا تعلق بلوچستان عوامی پارٹی ( بی اے پی) جبکہ پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے ایک ایک رکن شامل ہے۔

مزید پڑھیں: ڈاکٹر امیر محمد خان جوگیزئی گورنر بلوچستان نامزد

صوبائی کابینہ میں جن ارکان کو شامل کیا گیا ان میں محمد صالح بھوتانی، میر محمد عارف محمد حسنی، سرفراز چھکر ڈومکی، طارق خان مگسی، میر ظہور احمد بلیدی، میر ضیاءاللہ لانگو، سلیم احمد کھوسہ اور نور محمد دومر، میر نسیب اللہ خان مارائی اور انجینئر زمارک خان پیرالیزائی شامل ہیں۔

اگرچہ اراکین اسمبلی کی بات کی جائے تو صالح بھوتانی سابق قائم مقام ویز اعلیٰ اور سینئر پارلیمانٹیرین رہ چکے ہیں، اس کے علاوہ 1985 سے اب تک وہ 8 مرتبہ بلوچستان اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہوئے ہیں۔

اسی طرح میر ضیااللہ لانگو، میر محمد عارف محمد حسنی، میر نصیب اللہ مری اور نور محمد دومر ایسے اراکین ہیں جو پہلی مرتبہ اسمبلی میں پہنچے ہیں۔

صوبائی اسمبلی کی کابینہ میں ایک ہی حلقے سے 7 مرتبہ ایم پی اے منتخب ہونے والے میٹھا خان کاکڑ کو وزیر اعلیٰ کا مشیر مقرر کرکے وزیر کا درجہ دیا گیا۔

خیال رہے کہ آئین کے مطابق بلوچستان اسمبلی میں 65 ارکان میں سے وزیر اعلیٰ سمیت 15 رکن کابینہ میں شامل ہوسکتے ہیں جبکہ 5 مشیر بھی مقرر کیے جاسکتے۔

یہ بھی پڑھیں: جام کمال کو وزیراعلیٰ بلوچستان نامزد کرنے پر بی اے پی میں اختلافات

اس حوالے سے ذرائع کا کہنا تھا کہ 4 وزیر اور 4 مشیروں کو بعد میں کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔

دوسری جانب یہ چیز بھی دیکھنے میں آئی کہ پی ٹی آئی کے صوبائی صدر یار محمد رند نے وزیر کے طور پر حلف نہیں اٹھایا۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ اتحادی اراکین اور اپنی جماعت کے ارکان کو کابینہ میں شامل کرنے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ کو مشکلات کا سامنا تھا کیونکہ ہر رکن وزارت دینے کا مطالبہ کررہا تھا، جس کے باعث نومنتخب کابینہ اراکین کو ان کی وزارتوں کے قلمدان بعد میں سونپے جائیں گے۔