پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین نے نفرت انگیز ٹی وی پروگرام کے خلاف دائر درخواست پر سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کیے گئے توہین عدالت نوٹس کے جواب میں غیر مشروط معافی مانگ لی۔

عامر لیاقت حسین نے 7 صفحات پر مشتمل معافی نامہ سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں عامر لیاقت نے کہا ہے کہ میں نے ٹی وی پروگرام میں فادر آف بھارت اور سن آف بھارت کی اصطلاح کسی پاکستانی کے لیے استعمال نہیں کی بلکہ بھارتی میڈیا کے اینکرز کے لیے استعمال کی کیونکہ انھوں نے میری کردار کشی کی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ میرے پروگرام کی کلپس کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں شمولیت پر مجھے ذلیل کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔

عامر لیاقت نے اپنے پروگرام میں کی گئی باتوں کی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مخالف چینل کے اینکر نے میرے متعلق ایک ٹیبل سٹوری کرکے رسوا کرنے کی ہر ممکن کو شش کی۔

انھوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سابق چیئرمین نجم سیٹھی کے حوالے سے باتوں کی بھی وضاحت کی ہے۔

مزید پڑھیں:’پہلے میر شکیل کو مائی باپ کہتے تھے، پھر ایک دم کیا ہوگیا؟‘

عامر لیاقت نے 24 اگست 2018 کو تحریر کیے گئے اپنے جواب میں نجم سیٹھی کے حوالے سے کہا ہے کہ میں ان کا ناقد ہوں لیکن بطور چیئرمیں پی سی بی ان کی عزت کرتا ہوں اور انہیں عہدے سے نہ ہٹانے کے لیے عمران خان کو قائل کیا تھا۔

عامر لیاقت نے آخر میں وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘میں عدالت کے وقار، معزز بنچ، اور بالخصوص جناب چیف جسٹس ثاقب نثار کے سامنے قسم اٹھاتا ہوں کہ آج کے بعد میرے خلاف انہیں کوئی شکایت موصول نہیں ہوگی’۔

انھوں نے کہا کہ ‘میں عدالت کی تکریم و تعظیم اور اس کی حرمت کے لیے کوئی ایسا عمل نہیں کروں گا جس سے معزز عدلیہ کو مجھ سے تکلیف پہنچے’۔

پی ٹی آئی رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ ‘میں شوکاز نوٹس کے جواب کے بعد، جو عدالت کا حکم تھا، ایک بار پھر عدالت سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں اور اپنے ماضی کے کردار کو عدالت کے سامنے رکھتے ہوئے اپنے آپ کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں’۔

عامر لیاقت نے عدالت سے گزارش کی ہے کہ ‘میری عزت کے ساتھ جو عناصر کھیل رہے ہیں انہیں متنبہ کیا جائے کیونکہ میں بھی اس ملک کا شہری اور ایک عام انسان ہوں’۔

عامر لیاقت نے اپنے جواب کے ساتھ ٹی پروگرام کے کلپس الگ سے جمع کرائی ہیں۔

یاد رہے کہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے نجی ٹی وی چینل کی جانب سے دائر کی گئی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کے بعد عامر لیاقت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 14 دن میں جواب داخل کرنے کی ہدایت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:عامر لیاقت کے پروگرام پر پابندی عائد

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ ہم دیکھ لیتے ہیں کہ کیا عامر لیاقت حسین نے ہماری حکم عدولی کی اور ان کی باتوں سے عدالت کی توہین ہوئی۔

اس موقع پر درخواست گزار جنگ گروپ کے وکیل فیصل اقبال کا کہنا تھا کہ عامر لیاقت حسین نے جیو نیوز کے اینکر شاہزیب خانزادہ پر توہین رسالت کے مجرموں کی پشت پناہی کا الزام لگایا جبکہ پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی پر بھی سنجیدہ نوعیت کے الزام لگائے، ان کا کہنا تھا کہ کسی کو حق نہیں کے کسی کو غدار یا کافر قرار دے۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ صرف اپنی حمایت میں پیمرا کے عامر لیاقت حسین کو ملنے والے نوٹسز لائے ہیں جبکہ ہم اپنا حکم اور ویڈیوز دیکھ لیتے ہیں اگر توہین عدالت ثابت ہوئی تو نوٹسز جاری کردیں گے۔

بعد ازاں عامر لیاقت پر الزام سے متعلق ویڈیو کلپس عدالت میں چلائے گئے جبکہ پروگرام کا مسودہ بھی پیش کیا گیا، جس میں انہوں نے جیو ٹی وی کے مالک میر شکیل الرحمٰن کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی تھی۔

مزید پڑھیں:پیمرا کا حکم معطل، عامر لیاقت حسین پر سے پابندی اٹھالی گئی

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہمارے نزدیک میر شکیل کو بھارت کا باپ کہنے اور اس کے بیٹے کو بھارت کا بیٹا کہنے کے علاوہ کوئی قابل نفرت بات نہیں کی گئی، جس بھینسے بلاگرز کی یہ بات کر رہے ہیں ان کی میں بھی مذمت کرتا ہوں۔

کیس کی سماعت کے دوران عامر لیاقت حسین عدالت میں پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے یہ الفاظ کس کو کہے؟ جس پر عامر لیاقت نے جواب دیا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کو کہے تھے۔

جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ عدالت میں جھوٹ بول رہے ہیں یہ ڈرامہ یہاں نہیں چلے گا، جھوٹ بولنے پر ابھی آپ کو نوٹس جاری کررہا ہوں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا تھا کہ عدالت میں غلط بیانی اور توہین آمیز زبان استعمال کرنے پر عامر لیاقت حسین کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کیا جاتا ہے۔