‘آنکھ مارنا مذہب کی توہین نہیں’ بھارتی سپریم کورٹ

ای میل

گانے کی ویڈیو رواں برس فروری میں وائرل ہوئی تھی—اسکرین شاٹ
گانے کی ویڈیو رواں برس فروری میں وائرل ہوئی تھی—اسکرین شاٹ

رواں برس فروری میں بھارتی ملیالم زبان میں بننے والی فلم ‘اورو آدھار لو’ کے ایک گانے میں ساتھی اداکار کو آنکھ مارنے والی لڑکی کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔

اس ویڈیو میں پریا پرکاش فلم کے گانے‘مانیکا ملارایا پووی’ میں ساتھی اداکار روشن عبدالرؤف کو آنکھ مارتی دکھائی دی تھیں، ساتھ ہی وہ دیگر دلفریب ادائیں بھی کرتی دکھائیں دی تھیں۔

ان کے اسی گانے کے وائرل ہونے کے بعد وہ ایک ہی دن میں اسٹار بن گئیں تھی اور لاکھوں افراد نے انہیں انسٹاگرام پر فالو کیا تھا۔

گانے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پریا پرکاش وریئر نے بھارت میں شہرت میں سنی لیونی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا اور وہ گوگل پر کچھ دنوں کے لیے سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی اداکارہ بھی بن گئی تھیں۔

ان کے اسی گانے کے بعد ریاست تلنگانہ اور مہاراشٹر کے مسلمانوں نے ان کے خلاف مقدمات درج کروائے تھے کہ اداکارہ کے عمل اور گانے سے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: لڑکے کو آنکھ مارنے والی لڑکی ایک دن میں اسٹار بن گئی

بعد ازاں مسلمانوں کے گروپ نے اداکارہ اور فلم کی ٹیم کے خلاف بھارت کی سپریم کورٹ میں بھی درخواست دی تھی کہ ان کے عمل سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔

رواں برس اپریل میں مسلمانوں کی 2 تنظیموں نے اداکارہ اور فلم کی ٹیم کے خلاف درخواست دائر کرتے ہوئے اس میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ‘اسلام میں آنکھ مارنا حرام ہے’۔

گانا وائرل ہونے کے بعد اداکارہ اسٹار بن گئی تھیں—اسکرین شاٹ
گانا وائرل ہونے کے بعد اداکارہ اسٹار بن گئی تھیں—اسکرین شاٹ

ساتھ ہی درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ گانے میں اداکاری کرنے والی پریا پرکاش کے خلاف کرمنل قوانین کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے۔

بھارتی میڈیا نے بتایا تھا کہ درخواست میں قرآن شریف کی آیات سے دلائل دیے گئے ہیں اور کہا گیا کہ گانے کو اسی طرح فلمانہ توہین رسالت کے زمرے میں آتا ہے اور اس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ اس گانے کو فلم سے نکالنے کا حکم بھی دیا جائے۔

اس درخواست اور اپنے خلاف مقدمات درج ہونے کے بعد اداکارہ اور فلم کی ٹیم نے بھی سپریم کورٹ میں درخواست جمع کرائی تھی اور اس پر متعدد سماعتیں بھی ہوئیں۔

مزید پڑھیں: لڑکے کو آنکھ مارنے والی لڑکی کے خلاف مقدمہ درج

تاہم اب بھارتی سپریم کورٹ نے اداکارہ اور فلم کی ٹیم کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے پولیس کو کہا ہے کہ ان کے خلاف تمام درج فوجداری مقدمات کو ختم کیا جائے۔

عدالت نے اداکارہ کے خلاف تمام مقدمات ختم کرنے کا حکم دے دیا—اسکرین شاٹ
عدالت نے اداکارہ کے خلاف تمام مقدمات ختم کرنے کا حکم دے دیا—اسکرین شاٹ

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ اداکارہ اور فلم کی ٹیم کے خلاف نہ صرف پہلے سے درج شدہ مقدمات ختم کیے جائیں، بلکہ ان کے خلاف مستقبل میں بھی کوئی مقدمہ درج نہیں کیا جائے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں اداکارہ اور فلم کی ٹیم کے خلاف دلائل دینے والے وکلاء کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ‘آنکھ مارنے سے کسی مذہب کی کوئی توہین نہیں ہوئی اور نہ ہی اس سے مسلمانوں سمیت دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں’۔

یہ بھی پڑھیں: ‘اسلام میں آنکھ مارنا حرام ہے’

عدالت نے گانے اور اداکارہ کے خلاف دلائل دینے والے وکیل کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ لوگوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کے علاوہ وکیلوں کا کام ہی کیا ہے؟

واضح رہے کہ اس فلم کو رواں برس مارچ میں ریلیز کیا جانا تھا، تاہم تنازعات کے باعث اس کی نمائش متعدد بار مؤخر کردی گئی تھی۔

اب خیال کیا جا رہا ہے کہ اس فلم کو آئندہ ماہ ستمبر میں ریلیز کیا جائے گا۔

فلم کی کہانی اسکول کے 5 لڑکوں اور 4 لڑکیوں کی محبت کے گرد گھومتی ہے۔

پریا پرکاش وریئر نے بھی اسکول کی ایک طالبہ کا کردار ادا کیا ہے، جب کہ روشن عبدالرؤف ان کے کلاس فیلو بنے ہیں، جنہیں انہوں نے گانے میں آنکھ ماری تھی۔

Thank you for all the love and support💙

A post shared by priya prakash varrier (@priya.p.varrier) on