بلوچستان کے علاقے ہرنئی میں کوئلے کی کان بیٹھنے سے ایک کان کن ہلاک اور 3 زخمی ہوگئے۔

لیویز حکام کا کہنا ہے کہ کان کن ہزاروں فٹ کی گہرائی میں کوئلہ نکالنے میں مصروف تھے کہ اچانک کان بیٹھ گئی، جس کی وجہ سے چار کان کن اندر پھنس گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ فرنٹیئر کورپ (ایف سی) اور امدادی رضاکاروں نے متاثرہ کوئلے کی کان پر پہنچ کر امدادی آپریشن کا آغاز کیا، جس کے 5 گھنٹوں بعد تمام کان کنوں کو بازیاب کرالیا گیا۔

تاہم کان کنوں کو ہسپتال منتقل کرتے وقت ایک کان کن، جس کی شناخت حکیم کے نام سے کی گئی، راستے میں ہی دم توڑ گیا۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ: کوئلے کی کان میں دھماکا، 14 کان کن پھنس گئے

ان کے مطابق دیگر تینوں کان کنوں کا ہسپتال میں علاج جاری ہے۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں کام کے لیے حالات موافق نہ ہونے کی وجہ سے تقریباً ہر روز ہرنئی، سورانج، دکی، مچ اور صوبے کے دیگر علاقوں میں کئی جانیں ضائع ہوتی ہیں تاہم ان میں سے زیادہ تر رپورٹ نہیں ہو پاتیں۔

بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے مزدور انتہائی مخدوش حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ: کوئلے کی کان میں ریسکیو آپریشن ختم، ہلاکتوں کی تعداد 18 ہوگئی

بلوچستان میں کان کنوں کو نامصائب حالات کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی کی خراب صورتحال کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

کوئلے کی کان میں کام کرنا پتھر کی کانوں میں کام کرنے سے زیادہ خطرناک سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان سینٹرل مائنز لیبر فیڈریشن کے مطابق ہر سال تقریباً 100 سے 200 افراد کوئلے کی کانوں میں پیش آنے والے حادثات میں ہلاک ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ: کوئلے کی کان بیٹھنے سے 4 مزدور جاں بحق

واضح رہے کہ اس سے قبل رواں ماہ 12 اگست کو سنجدی میں کان میں گیس بھرنے سے دھماکے کے باعث 14 کان کن پھنس گئے تھے۔

ریسکیو اہلکاروں کی جانب سے پھنسنے والے کان کنوں کو نکالنے کے لیے آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا جو 6 روز تک جاری رہا۔

آپریشن کے دوران امدادی ٹیم کے 4 افراد بھی کان میں پھنس گئے تھے تاہم ان کی بھی تلاش کا عمل ساتھ ساتھ جاری رہا۔

بعد ازاں 6 روز بعد آپریشن کے اختتام پر تمام کان کنوں سمیت امدادی ٹیم کے لاپتہ ہونے والے چاروں اہلکاروں کی لاشیں بازیاب کرلی گئی تھیں۔