نیب کا ایف بی آر پر ٹیکس تحقیقات میں تعاون نہ کرنے کا الزام

اپ ڈیٹ 01 ستمبر 2018

ای میل

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو(نیب) کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 3 درجوں پر مشتمل ٹیکس نظام کے باعث سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کو کم سے کم ایکسائیز ڈیوٹی ادا کر کے فروخت میں بہتری کا موقع ملا۔

اس کے ساتھ رپورٹ میں وفاقی بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) پر بھی الزام لگایا گیا کہ اس کی جانب سے تحقیقات میں معاونت نہیں کی گئی۔

واضح رہے کہ نیب نےمارچ میں 2 بین الاقوامی سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کے خلاف ٹیکس قوانین میں تبدیلی سے 33 ارب روپے تک کا فائدہ اٹھانے پر تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر کو کرپٹ ٹیکس افسران کےخلاف انکوائری مکمل کرنے کیلئے 3 ماہ کی مہلت

اس حوالے سے نیب راوالپنڈی کے ترجمان محمد بلال کا کہنا تھا کہ نیب نے مذکورہ معاملے پر سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا ہے، جبکہ وفاقی بورڈ آف ریونیو نے تاحال اس سلسلے میں اپنا نمائدہ مقرر نہیں کیا۔

نیب ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے 23 مئی کو ہونے والے اجلاس میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے خصوصی رپورٹ پیش کی جس میں ٹوبیکو سیکٹر کی جانب سے ٹیکس کی ادائیگی میں کمی کی وجوہات کے بارے میں بتایا گیا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر متعلقہ ادارے تعاون کریں تو نیب کو ریکارڈ کی جانچ پڑتال میں 2 ماہ جبکہ باقاعدہ تحقیقات کرنے کے لیے 4 ماہ کا عرصہ درکار ہوگا۔

مزید پڑھیں: ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کیلئے براہ راست ٹیکس میں چھوٹ

نیب کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ مئی 2017 میں تین درجوں پر مبنی ٹیکس نظام متعارف ہونےکے بعد 2 بڑی مشہور و معروف کمپنیوں نے اپنے آپ کو کم سےکم ٹیکس کے درجے میں رکھا اور وفاقی ایکسائز ڈیوٹی میں 50 فیصد کمی کے ساتھ سگریٹ فروخت کیں جس سے ان کی آمدنی میں اضافہ ہوا لیکن ریونیو میں کمی آئی۔

خیال رہے کہ اس قسم کی صورتحال کا تذکرہ پی اے سی کو پیش کی جانے والی رپورٹ میں بھی کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ ایف بی آر کی جانب سے دوسری درجے سے ٹیکس کے کم ترین درجے میں آنے کے لیے کوئی پابندی نہیں رکھی گئی جس کی وجہ سے سگریٹ کمپنیوں کو 32 ارب 9 کروڑ روپے کا فائدہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر ٹیکس اصلاحات کے نفاذ میں بڑی رکاوٹ بن گیا

پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں تمباکو نوشی کرنے والے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

یاد رہےکہ تین درجے کا ٹیکس نظام اس وقت متعارف کروایا گیا تھا جب اسحٰق ڈار وزیر خزانہ تھے جبکہ وزارت صحت نے بھی ایف بی آر سے تین درجوں پر مشتمل ڈیوٹی ختم کرنے کامطالبہ کیا تھا تا کہ سگریٹ نوشی کو کم کیا جاسکے۔


یہ خبر یکم ستمبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔