ریکوڈک کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کریں گے، وزیراعلیٰ بلوچستان

اپ ڈیٹ 02 ستمبر 2018

ای میل

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا ہے کہ ریکوڈک کا مسئلہ بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کریں گے ورنہ 10ارب ڈالر جرمانہ لگ گیا توادا کرنا بلوچستان اور وفاق کے لیے مشکل ہوگا۔

ڈان نیوز کو خصوصی انٹرویو میں جام کمال کا کہنا تھا کہ ریکوڈک کیس میں بلوچستان حکومت نے صرف وکلا کو ساڑھے 3 ارب روپے ادا کردیے ہیں۔

ریکوڈک کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اگر10ارب ڈالر جرمانہ ہوا تو اس صورت میں بلوچستان اور وفاق دونوں کے لیے اس کو ادا کرنا مشکل ہوگا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ کوشش کریں گے کہ ریکوڈک کا مسئلہ بات چیت سے ہی حل ہوجائے۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں افغانستان اور ایران کی سرحد کے قریب مشہور علاقے چاغی میں سونے اور تانبے کے ذخائر کونکالنے کے منصوبے کا نام ریکوڈک ہے۔

ریکوڈک دنیا میں سونے اور تانبے کے پانچویں بڑے ذخائر کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں:ریکوڈک گولڈ مائنز معاہدہ کالعدم قرار

جولائی 1993میں اس وقت کے وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ذوالفقار علی مگسی نے ریکوڈک منصوبے کا ٹھیکا آسٹریلوی کمپنی پی ایچ پی کودیا تھا۔

بلوچستان کے 33 لاکھ 47 ہزار ایکڑ پر واقع اس منصوبے کا معاہد ہ صرف ڈرلنگ کے لیے ہواتھا لیکن آسٹریلوی کمپنی نے حکومت بلوچستان کو اعتماد میں لیے بغیر مزید کام کرنے کے لیے اطالوی کمپنی ٹیتھیان سے معاہدہ کر لیا تھا۔

آسٹریلوی کمپنی نے کوشش کی تھی کہ گوادر پورٹ کے ذریعے ریکوڈک کا سونا اور تانبا کینیڈا، اٹلی اور برازیل کو فروخت کرے جس سے بلوچستان کو کل آمدنی کا صرف 25 فیصد حصہ ملنا تھا۔

بلوچستان حکومت نے پی ایچ پی کی طرف سے بے قاعدگی کے بعد معاہدہ منسوخ کردیا تھا۔

بلوچستان حکومت نے 2010 میں یہ بھی فیصلہ کیا کہ صوبائی حکومت اس منصوبے پرخود کام کرے گی۔

بعد ازاں جنوری 2013 میں اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بلوچستان حکومت اور آسٹریلوی مائننگ کمپنی کے درمیان ریکوڈک معاہدے کو ملکی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:ریکوڈک منصوبہ کیس: 'عالمی بینک کا فیصلہ حتمی نہیں'

جس کے بعد آسٹریلین کمپنی نے اپنے حصص ٹی سی سی کو فروخت کردیے تھے اور ٹی سی سی نے عالمی ثالثی ٹربیونل میں ریکوڈک منصوبے کے لائسنس میں 40 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری کے نقصان کا دعویٰ کیا تھا۔

’سب سے بـڑا مسئلہ افغان سرحد’

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے پیچھے مقامی، علاقائی اور عالمی عناصر ہیں اور سب سے بڑا مسئلہ افغان سرحد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ روزانہ ڈیڑھ کلو میٹرسرحد پر باڑ کا کام مکمل کیاجاتا ہے، افغانستان میں 40 سالہ جنگ کے اثرات پاکستان پر پڑے۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں فرقہ وارانہ، مذہبی، قبائلی، ریاست مخالف اوردیگر اقسام کی بدامنی رہی ہے تاہم اس کو حل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔

’ڈاکٹر مالک اور زہری نے وقت ضائع کیا، مسائل حل نہیں کے’

جام کمال نے کہا کہ سابق وزرا اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک اور ثنااللہ زہری نے مذاکرات پر وقت ضائع کیا اور مسائل حل نہیں کیے لیکن ہم بات چیت صرف پاکستان اور آئین کو ماننے والوں سے کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ خارجی ایجنڈے پر کام کرنے والوں سے بات نہیں کریں گے۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ بیرون ملک بیٹھ کر بلوچستان کی محرومیوں پرسیاست کرنے والوں نے عملی طور پرکچھ نہیں کیا اس لیے ایسے لوگوں سے مذاکرات کے بجائے بلوچستان کے حقیقی مسائل کو حل کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی محرومیوں پرسیاست کرنے والوں نےعملی طور پرکچھ نہیں کیا۔

‘بلوچستان کا مسئلہ گورننس’

جام کمال کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ گورننس ہے، اچھے افسران تعینات کرکے نظام میں بہتری لائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ کرپشن میں ملوث افراد کے بارے میں تحقیقات کررہے ہیں جبکہ ہائی کورٹ نے پی ایس ڈی پی میں 1600 نئی اسکیموں پر بھی نوٹس لیا ہے۔

اسکیموں کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ یہ اسکیمیں غیر قانونی طورپر پی ایس ڈی پی میں شامل کی گئی تھیں۔

وزیراعلیٰ ہاؤس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ موجودہ وزیر اعلی ہاوس کے پچھلے حصے میں 65 کروڑ روپے سے 16 کمروں کا دوسرا وزیرا علی ہاوس بن رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کوئٹہ اور ہنہ اوڑک میں بنائے گئے وزیراعلیٰ ہاؤس کو استعمال نہیں کروں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ رہائش گاہوں پر ایک ارب روپے سے زائد خرچہ آتاہے اس پیسے کو عوام کے لیے استعمال کریں گے۔

یاد رہے کہ 2013 کے انتخابات میں قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کے بعد جام کمال نے پاکستان مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کرکے وفاقی حکومت میں وزارت حاصل کی تھی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) سے علیحدگی تک وہ وفاقی وزیر رہے لیکن بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کے وزیراعلیٰ ثنااللہ زہری سے بغاوت کرکے اپنی الگ حکومت بنانے والے بلوچستان اسمبلی کے اراکین کے گروپ میں شامل ہو کر بلوچستان عوامی پارٹی کے نام سے نئی جماعت بنائی تھی اور جام کمال کو اس کا صدر بنایا گیا تھا۔

بلوچستان عوامی پارٹی نے 25 جولائی 2018 کے انتخابات میں صوبے میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں جس کے بعد جام کمال کو وزیراعلیٰ اور سابق وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کو اسپیکر منتخب کیا گیا۔