شراب کی بوتلوں کی برآمدگی، تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل

اپ ڈیٹ 02 ستمبر 2018

ای میل

کراچی: رکنِ صوبائی اسمبلی اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما شرجیل میمن کے ہسپتال کے کمرے سے ملنے والی شراب کی بوتلوں کے معاملے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔

شرجیل انعام میمن کرپشن کے الزام میں اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں، تاہم اسی دوران بیمار ہونے پر انہیں جیل سے ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔

ہسپتال کے کمرے سے شراب کی بوتلیں برآمد ہونے کے معاملے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کے سربراہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ جاوید عالم اوڈھو ہوں گے جبکہ دیگر ممبران میں سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) انوسٹیگیشن ساؤتھ عبداللہ جان اور ایس ایس پی انوسٹیگیشن ایسٹ شبیر میمن شامل ہوں گے۔

مذکورہ کیس میں علیحدہ پیش رفت کے مطابق کراچی کی مقامی عدالت نے گرفتار 3 ملزمان کو 15 ستمبر کے لیے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

چیف جسٹس کا اچانک دورہ

خیال رہے کہ یکم ستمبر کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں مختلف کیسز کی سماعت سے قبل صبح سویرے شہر قائد کے 3 مختلف ہسپتالوں کا دورہ کیا تھا، اس دوران وہ کلفٹن کے نجی ہسپتال ضیاءالدین میں شرجیل انعام میمن کے سب جیل قرار دیے گئے کمرے میں بھی گئے تھے۔

چیف جسٹس نے شرجیل میمن سے مختصر بات چیت بھی کی تھی، تاہم اسی دوران ان کی نظر شراب کی بوتلوں پر پڑی تھی۔

بعد ازاں چیف جسٹس سپریم کورٹ کراچی رجسٹری واپس آئے تھے، جہاں انہوں نے خود بوتلیں ملنے کی تصدیق کی اور اظہار برہمی کیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ شرجیل میمن کے کمرے سے شراب کی بوتلیں ملیں، جب شرجیل سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ میری نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: شراب کی بوتلوں کی برآمدگی: شرجیل میمن ہسپتال سے جیل منتقل

عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس نے کہا تھا کہ اٹارنی جنرل انور منصور خان کہاں ہیں، جائیں دیکھیں اور ذرا اس طرف بھی توجہ دیں۔

معاملہ ذرائع ابلاغ میں آنے کے بعد پولیس نے ہسپتال کے کمرے کو سیل کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن کو جیل منتقل کردیا۔

بعدِ ازاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے شرجیل میمن کے ڈرائیور محمد جان سمیت 2 افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔

گرفتار ملزمان کی جانب سے بیان دیا گیا تھا کہ برآمد ہونے والی بوتلوں میں شراب نہیں تھی بلکہ ایک بوتل میں شہد اور ایک میں تیل تھا جو شراب کی خالی بوتلوں میں ڈالا گیا تھا۔

بعد ازاں بوٹ بیسن پولیس نے شرجیل میمن اور ان کے تین ملازمین کے خلاف معاملے کا مقدمہ درج کرلیا تھا۔

ایس ایس پی جنوبی عمر شاہد حامد نے کہا تھا کہ 'پولیس نے جیل حکام کی شکایت پر شرجیل میمن اور ان کے تین ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔'