ایفیڈرین کیس: خوشنود لاشاری اور تین دیگر کی جائیداد ضبطگی کا حکم

13 جولائ 2013

ای میل

فائل فوٹو --.
فائل فوٹو --.

راولپنڈی: راولپنڈی کی انسداد منشیات کی خصوصی عدالت نے ایفی ڈرین کوٹہ کیس کی سماعت کرتے ہوئے وفاقی سیکریٹری صحت اور ادویہ ساز کمپنی کے تین افراد کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس موقع پر سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی اہلیہ، بیٹوں اور سابق وفاقی وزیرصحت مخدوم شہاب الدین نےایفیڈرین کوٹہ کیس میں اثاثوں کی تفصیلات عدالت میں جمع کرائیں۔

مخدوم شہاب الدین نے اپنے اثاثوں کی تفصیلات میں کہا ہے کہ ان کے تمام اثاثے انہیں اپنے آباؤاجداد کی طرف سے ورثے میں ملے ہیں۔

علی موسٰی گیلانی کے وکیل چوہدری فیصل نے عدالت کو بتایا کہ علی موسٰی گیلانی کے 3 اکاؤنٹس میں 10 لاکھ 56 روپے موجود تھے جبکہ اکاؤنٹ میں یہ رقم شادی کے فوراً بعد جمع کرائی گئی۔ ان کی زرعی آمدن 30 لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔

چوہدری فیصل نے عدالت کو بتایا کہ عبدالقادر گیلانی کے اکاؤنٹ میں 4 لاکھ 77 ہزار روپے ہیںجبکہ بطور ایم این اے عبدالقادر گیلانی کی آمدن، منجمد اکاؤنٹ سے کہیں ذیادہ تھی-

وکیل نے بتایا کہ فوزیہ گیلانی کے اکاؤنٹ میں 27 ہزار روپے موجود تھے- مئی 2008 کے بعد فوزیہ گیلانی کے اکاؤنٹ سے کوئی رقم نہیں نکالی گئی جبکہ یوسف رضا گیلانی کا ایفیڈرین کیس سے کوئی تعلق نہیں اور انہیں اثاثہ جات کیس میں کوئی نوٹس نہیں جاری کیا گیا۔

عدالت نے بار بار طلب کرنے کے باوجود پیش نہ ہونے پر سابق سیکرٹری صحت خوشنود لاشاری اور فارما کمپنیوں کے مالکان کرنل ریٹائرڈ طاہر ودود، افتخار بابر اور رضوان احمد کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم دیا۔

ملزمان کے اثاثے منجمد کرنے سے متعلق درخواست پر آئندہ سماعت اب تیس جولائی کو ہوگی۔