‘پاکستانی ڈرامے بولڈ ہیں، سماج کی عکاسی نہیں کرتے‘

اپ ڈیٹ 04 ستمبر 2018

ای میل

فوٹو/ اسکرین شاٹ
فوٹو/ اسکرین شاٹ

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگیولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے تمام انٹرٹینمنٹ چیلنز کو ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے ڈراموں کا مواد ذمہ داری کے ساتھ تیار کریں۔

پیمرا کا یہ بیان 3 ستمبر کی رات جاری ہوا جس میں بتایا گیا کہ ’پاکستانی ڈراموں کا معیار ہر گزرتے دن کے ساتھ خراب ہورہا ہے‘۔

پیمرا کا ماننا ہے کہ ڈراموں کے موضوعات ’کافی بولڈ‘ ہیں جبکہ یہ پاکستانی سوسائٹی میں اکثریت کی عکاسی بھی نہیں کرتے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’ناظرین کا خیال ہے کہ ان ڈراموں میں پاکستانی معاشرے کی حقیقی تصویر نہیں دکھائی جاتی، سماجی اخلاقی پابندیوں اور پیمرا قوانین کو نظرانداز کرکے ڈراموں میں غیر اخلاقی مناظر، ڈائیلاگز، غیر ازدواجی تعلقات، تشدد اور استحصال کو گلیمرائز کیا جاتا ہے‘۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں جب پیمرا نے انٹرٹینمنٹ کے لیے تیار کیے جانے والے مواد کو غیر اخلاقی قرار دیا ہو۔

اس سے قبل 2016 میں پیمرا نے بچوں پر جنسی تشدد کے موضوع پر مبنی ڈرامے ’اڈاری‘ کے خلاف بھی وارننگ جاری کی تھی اور اس کے موضوع کو قابل اعتراض قرار دیا تھا۔

اس کے علاوہ بچوں کے کارٹون نشر کرنے والے چینل نکالوڈین پر ایک کارٹون کردار کو غیر اخلاقی لباس میں پیش کرنے پر 5 لاکھ جرمانہ عائد بھی عائد کیا گیا تھا۔

پیمرا کی ہدایات جاری ہونے کے بعد اداکار عثمان خالد بٹ نے پیمرا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جسے ڈرامہ پسند نہیں آرہا وہ اپنا چینل تبدیل کرسکتا ہے۔

اداکار نے کہا کہ ’ہر ڈرامے کو خاندان کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھا جاسکتا، اگر ڈرامہ پسند نہیں آرہا تو چینل تبدیل کردیں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ڈراموں کے ان مضبوط موضوعات میں معاشرے کی حقیقت سامنے آتی ہے، جسے دیکھ کر بہت سے لوگ مطمئن ہوسکتے ہیں‘۔

عثمان خالد بٹ کے بعد دیگر افراد نے پیمرا کو اس بیان پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

سوشل میڈیا پر لوگوں نے پیمرا کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ جہاں سب لوگ نیوز جینلز پر جعلی خبریں نشر کرنے پر پیمرا کے ایکشن لینے کے منتظر ہیں، وہیں پیمرا ڈراموں پر پابندی لگانے میں مصروف ہے۔

لوگوں کا کہنا تھا کہ ’تو پیمرا کا ماننا ہے کہ پاکستان میں غیر ازدواجی تعلقات، تشدد اور اتحصال پریوں کی کہانیاں ہیں؟‘