اسٹاک مارکیٹ میں آن لائن ریٹیل کی عالمی شہرت یافتہ کمپنی ایمازون کی مالیت ایک ٹریلین ڈالر (10 کھرب ڈالر) سے تجاوز کر گئی جس کے بعد ایمازون امریکا اور دنیا کی دوسری بڑی کمپنی کے طور پر سامنے آگئی۔

منگل کو ایمازون کے شیئر کی قیمت 2 ہزار 50.50 ڈالر فی شیئر تک پہنچ گئی جس سے اس کی مجموعی مالیت ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئی۔

یاد رہے کہ تقریباً ایک ماہ قبل ہی عالمی شہرت یافتہ ٹیکنالوجی کمپنی ایپل کی مالیت بھی ایک ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئی تھی۔

مزید پڑھیں: ایپل دنیا کی پہلی ٹریلین ڈالر کمپنی بننے میں کامیاب

ایمازون نے دنیا بھر میں آن لائن شاپنگ کے رجحان کو انقلابی شکل دی تھی اور اس وقت یہ انٹرنیٹ کی دنیا کا سب سے بڑا آن لائن ریٹیلر اسٹور ہے جس پر روزانہ لاکھوں لوگ شاپنگ کرتے ہیں۔

کتابوں کی فروخت سے اپنے کام کا آغاز کرنے والے ایمازون کی 2 دہائیوں کے دوران وسعت میں حد درجہ اضافہ ہوا اور وہ آن لائن شاپنگ کے ذریعے دنیا میں سب سے زیادہ منافع کمانے والی کمپنی بن چکی ہے۔

کمپنی کی اس تاریخ ساز کامیابی نے اس کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جید بیزوس کو فوربس کی ارب پتی افراد کی فہرست میں بھی پہلے نمبر پر پہنچا دیا ہے اور وہ اس وقت دنیا کے امیر ترین آدمی ہیں۔

اپنے صارفین کے اعتماد کے حصول کے ذریعے ان کا دل جیتنے کی پالیسی پر عمل پیرا یہ کمپنی اپنے پرائم ممبر شپ پروگرام سمیت شاندار مفت شپنگ سروس کے ذریعے دنیا بھر کے آن لائن صارفین کی پہلی ترجیح بن چکی ہے۔

اپنے کاروبار کو مزید وسعت دینے کے لیے اس کمپنی نے دنیا بھر میں اپنے صارفین کی بنیادی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف بڑی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری قائم کی۔

یہ بھی پڑھیں: ایمازون پاکستان میں آنے کے لیے تیار؟

تاہم اس کمپنی کا منافع کمانے کا ایک اور اہم ذریعہ مختلف کمپنیوں اور حکومتوں کو کلاؤڈ کمپیوٹنگ سروسز کی فروخت کے ساتھ اپنی مصروف ترین ویب سائٹ پر مختلف کمپنیوں کو اشتہار کی جگہ فراہم کرنا ہے جس سے روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں ڈالر کا بزنس ہو رہا ہے۔

آن لائن شاپنگ، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور اشتہارات کے کاروبار کی ترقی کی بدولت رواں سال کے اوائل میں اس کا ایک سہ ماہی کا منافع پہلی مرتبہ 2 بلین ڈالر سے تجاوز کر گیا تھا۔