عوام خود ’جوانی پھر نہیں آنی 2‘ دیکھنے سینما آرہے ہیں،ہمایوں

اپ ڈیٹ 05 ستمبر 2018

ای میل

پاکستانی اداکار ہمایوں سعید —فوٹو/ اسکرین شاٹ
پاکستانی اداکار ہمایوں سعید —فوٹو/ اسکرین شاٹ

پاکستان کے نامور اداکار ہمایوں سعید اس وقت اپنے کیریئر کے عروج پر ہیں۔

رواں سال عیدالاضحیٰ پر ریلیز ہوئی ان کی فلم ’جوانی پھر نہیں آنی 2‘ باکس آفس پر کامیاب ثابت ہوئی، جو پروڈیوسر اور اداکار ہمایوں سعید کی تیسری بلاک بسٹر ہٹ فلم تھی۔

اس سے قبل ان کی کامیاب فلموں میں ’جوانی پھر نہیں آنی‘ اور ’پنجاب نہیں جاؤں گی‘ شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ‘جوانی پھر نہیں آنی 2’ نے ریکارڈ کارڈ الٹ پلٹ کردیے

جوانی پھر نہیں آنی 2 کو تجزیہ کاروں کے مثبت ریویوز بھی ملے، فلم میں ہمایوں سعید کے ساتھ فہد مصطفیٰ، کبریٰ خان، احمد علی بٹ، واسع چوہدری اور ماورا حسین نے کام کیا۔

اداکار ہمایوں سعید نے ڈان کو دیے اپنے انٹرویو میں فلم کی کامیابی، اس کو ملنے والے منفی ریویوز اور اپنے کیریئر پر بات کی۔

فلم کی کامیابی کے حوالے سے ہمایوں کا کہنا تھا کہ ’جو فلمیں ہم نے بنائیں، انہوں نے اچھا بزنس کیا، میں اس کے لیے شکرگزار ہوں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ کامیابی ہمیشہ رہے گی، ہر گزرتے وقت کے ساتھ پہلے سے زیادہ محنت کرنا ضروری ہے، ہر فلم کے ساتھ ہم پر ذمہ داری بھی بڑھتی جارہی ہے، میں اپنی پچھلی فلم کی کامیابی بھول جاتا ہوں اور ہر فلم کے بعد پھر سے زیرو ہوجاتا ہوں‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’مجھے اس فلم کی کامیابی کا یقین تھا، لیکن کافی ڈر بھی لگ رہا تھا، میں نے کبھی نہیں سوچا کہ میں کامیاب ہوں، لوگوں نے مجھے کامیاب بنایا ہے، جتنا وہ مجھ سے پیار کرتے رہیں گے، اتنا ہی اچھا کام میں کرتا رہوں گا‘۔

خیال رہے کہ عید کے موقع پر ہمایوں کی فلم کے ساتھ ساتھ ’لوڈ ویڈنگ‘ بھی ریلیز ہوئی تھی، جسے کم اسکرینز پر نمائش کرنے کا تنازع بھی سامنے آیا تھا۔

مزید پڑھیں: سینماؤں میں ’لوڈ ویڈنگ‘ کے ساتھ دھاندلی ہوئی، نبیل قریشی

اس تنازع پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے اداکار نے کہا کہ ’میں نے فلم کی پروموشنز کے دوران بار بار یہ بات کہی تھی کہ کسی ایک فلم کا بزنس ضرور کم ہوگا، وہ میری فلم بھی ہوسکتی تھی، بدقسمتی سے یہ فلم لوڈ ویڈنگ رہی، مجھے واقعی بہت برا لگا کہ اس فلم نے اچھا بزنس نہیں کیا، لیکن آخر میں فیصلہ عوام کا ہوتا ہے، جوانی پھر نہیں آنی 2 اچھا بزنس اس لیے نہیں کررہی کہ میں لوگوں کو بھیج رہا ہوں کہ وہ فلم دیکھیں، بلکہ عوام خود فلم دیکھنے آرہے ہیں‘۔

یاد رہے کہ 2015 میں ریلیز ہوئی فلم ’جوانی پھر نہیں آنی‘ نے بھی شاندار بزنس کیا تھا، جس کے بعد اس کا سیکوئل رواں سال ریلیز ہوا۔

اس فلم کو پہلی فلم سے زیادہ ڈرامائی بنانے کے سوال پر ہمایوں نے کہا کہ ’جب جوانی پھر نہیں آنی نے اچھی کمائی کی تو ہر کوئی چاہتا تھا ہم ایسی ایک اور فلم بنائیں، جس کے بعد ہم نے اس فلم کا ہی سیکوئل بنانے کا فیصلہ کیا، جس میں ہر وہ چیز شامل کی گئی جو ناظرین کو پسند آتی، لیکن ہم نے یہ سیکوئل مختلف بنایا‘۔

ہمایوں کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے جوانی پھر نہیں آنی 2 ایسی بنائی جس میں رومانس ہے، کامیڈی ہے اور ایک کہانی ہے، جس کی وجہ سے فلم کہیں کہیں سنجیدہ بھی ہے، جبکہ جوانی پھر نہیں ایک مکمل کامیڈی فلم تھی‘۔

47 سالہ ہمایوں سعید اس فلم میں کئی جگہ نوجوان لڑکے کا کردار کرنے پر خود اپنا ہی مذاق اڑاتے بھی نظر آئے، تو کیا وہ فلم میں یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ انہیں نوجوان رومانوی ہیرو کا کردار ادا کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

یہ بھی پڑھیں: ’جوانی پھر نہیں آنی 2‘: کمزور کہانی مگر جاندار اداکاری

اس سوال کے جواب میں اداکار نے بتایا کہ ’میرے اندر موجود نوجوان لڑکا جب تک زندہ ہے، تب تک میں ایسے کردار کرتا رہوں گا، اور لوگ اسے پسند کریں گے، مجھے معلوم ہے کہ ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں میرا کام پسند نہیں، لیکن مجھے کوئی فکر نہیں، کیوں کہ وہ میری جگہ نہیں ہیں‘۔

ہمایوں کے مطابق ’شاہ رخ خان مجھ سے ایک دہائی بڑے ہیں، 60 سال کی عمر میں اداکار ہیرو بن رہے ہیں، ان کے سامنے تو میں بچہ ہوں‘۔

اداکار نے یہ بھی بتایا کہ وہ اگلے دو سالوں میں اس فلم کے تیسرے حصے کو بھی ریلیز کردیں گے، فی الحال وہ اپنی دو اور فلموں پر کام کررہے ہیں، جس میں سے ایک کی کہانی خلیل الرحمٰن جبکہ دوسری واسع چوہدری نے تحریر کی ہے۔