شرجیل میمن شراب کیس: معلومات افشا کرنے پر ڈاکٹر معطل

اپ ڈیٹ 06 ستمبر 2018

ای میل

سندھ حکومت نے چیف پیتھالوجسٹ اینڈ کیمیکل ایگزامنر ڈاکٹر زاہد انصاری کو خفیہ معلومات افشا کرنے پر معطل کر دیا۔

ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے اطلاعات، قانون اور اینٹی کرپشن بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ‘چیف کیمیکل ایگزامنر کو اپنے فرائض کی انجام دہی میں ناکامی پر معطل کیا گیا’۔

چیف سیکریٹری سندھ کی جانب سےجاری نوٹیفکیشن میں ڈاکٹر زاہد انصاری کو فوری طور پر صوبائی محکمہ صحت میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کردی گئی۔

بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ کیمکل ایگزامنر نے مبینہ طور پر ‘سرکاری ملازمین کو خفیہ معلومات کو عوام یا میڈیا کو جاری نہ کرنے کے حوالے سے موجود قواعد و ضوابط’ کی خلاف ورزی کی تھی۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر زاہد انصاری نے ڈاکٹر ضیاالدین ہسپتال کراچی میں زیرعلاج پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے رکن صوبائی اسمبلی شرجیل میمن کے کمرے سے برآمد ہونے والی بوتلوں کے مواد کے کیمیکل جائزہ رپورٹ میں دستخط کیے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ بوتلوں میں شہد اور زیتون تیل تھا۔

یہ بھی پڑھیں:شرجیل میمن شراب برآمدگی: ’شک ہے ثبوتوں کو ضائع کرنے کی کوشش کی گئی‘

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ‘چیف کیمیکل ایگزامنر کو کیمکل ایگزمینیشن کی ویڈیو سوشل میڈیا میں جاری کرنے پر عہدے سے ہٹایا گیا’۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر زاہد انصاری کی معطلی کو ‘منفی طور پر نہیں لینا چاہیے’۔

مشیر وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ یہ سندھ حکومت کا آئینی حق ہے کہ وہ سروسز رولز کی خلاف ورزی کرنے والے افسر کو ان کے عہدے سے ہٹا سکتی ہے۔

یاد رہے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے گزشتہ ہفتے کلفٹن میں قائم ڈاکٹرضیاالدین ہسپتال کے ایک کمرے میں اچانک ‘چھاپہ’ مارا تھا جہاں شرجیل میمن داخل تھے اور کمرے کو سب جیل قرار دیا گیا تھا اور یہاں سے ‘شراب کی بوتل برآمد’ ہونے کی رپورٹس سامنے آئیں تھیں۔

مزید پڑھیں:شراب برآمدگی:میرے آنے کے بعد بوتلوں میں شہد اور زیتون بھی نکل آیا، چیف جسٹس

شرجیل میمن کے کمرے سے بوتلیں برآمد ہونے کے فوری بعد پی پی پی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ان بوتلوں میں شراب نہیں بلکہ شہد اور زیتون کا تیل تھا۔

ڈاکٹر زاہد انصاری کے دستخط سے جاری رپورٹ میں تصدیق کی گئی تھی کہ ایک بوتل میں شہد اور دوسری میں زیتون کا تیل موجود تھا۔

شرجیل میمن کے خون کے نمونے بھی لیے گئے تھے اور ان کی رپورٹ میں بھی شراب کے حوالے سے کوئی ثبوت نہیں ملا تھا۔