سابق بھارتی کرکٹر اور اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما نوجوت سندھ سدھو کا کہنا ہے کہ کرتارپور سرحد کھولنے کے فیصلے کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے جذبہ خیر سگالی پر کسی کو سوال نہیں اٹھانا چاہیے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق میڈیا سے بات کرتے ہوئے نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ 'پاکستانی حکومت بابا گرونانک کے 550ویں جنم دن کے موقع پر کرتارپور صاحب سرحد کھولنے کے لیے تیار ہے، جس کا سرکاری اعلان جلد آنے والا ہے۔'

انہوں نے کہا کہ 'کرتارپور صاحب کی سرحد کھلنے سے بڑی خوشخبری نہیں ہوسکتی اور میرے پاس عمران خان کا شکریہ ادا کرنے کے لیے الفاظ ہی نہیں ہیں، جبکہ یہ پہل اتنی جلدی ہوگی اس کا اندازہ نہیں تھا۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ سشما سوراج سے درخواست ہے کہ بھارت بھی خیر سگالی کے اقدامات اٹھائے، جبکہ امید ہے کہ اس فیصلے سے دونوں ممالک کے درمیان دوریاں کم ہوں گی۔

نوجوت سنگھ سدھو کا کہنا تھا کہ مذہب کے معاملے پر سیاست کرنا ٹھیک نہیں اور عمران خان کے جذبہ خیر سگالی پر کسی کو سوال نہیں اٹھانا چاہیے۔'

یہ بھی پڑھیں: ایوان صدر: نوجوت سنگھ سدھو آرمی چیف سے بغل گیر ہوگئے

واضح رہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے برطانوی نشریاتی ادارے 'بی بی سی' کو انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ ’عمران خان نے وزیر اعظم منتخب ہوتے ہی سابق بھارتی کرکٹرز کو حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی، انہوں نے اپنی پہلی تقریر میں کہا کہ دہلی ایک قدم بڑھائے تو ہم دو قدم بڑھائیں گے، جبکہ انہوں نے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی سے بات چیت بھی کی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ 'پاکستان مزید ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کے لیے کرتارپور بارڈر کھول دے گا، جس سے یاتری ویزے کے بغیر گردوارہ دربار صاحب کے درشن کر سکیں گے۔'

قبل ازیں عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے دوران پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نوجوت سنگھ سدھو کو کرتارپور صاحب کی سرحد کھولنے کی خوشخبری سنائی تھی۔

مزید پڑھیں: 'مستقبل کی جانب پیش قدمی کیلئے پاکستان،بھارت کو مذاکرات کرنا ہوں گے'

نوجوت سنگھ سدھو کو پاکستان کا دورہ کرنے اور بالخصوص جنرل قمر جاوید باجوہ سے گلے ملنے پر بھارت میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

تاہم ان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ’اگر کوئی آپ کے پاس آئے اور کہے کہ ہم ایک ہی ثقافت سے تعلق رکھتے ہیں اور بتائے کہ گرونانک کے 550ویں برسی کے موقع پر ہم کرتارپور سرحد کھول دیں گے، تو میں گلے نہ لگاتا تو اور کیا کرتا۔'