الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اداروں پر الزامات لگا کر دباؤ میں لانے کی روایت ختم ہونی چاہیے۔

ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق جے یو آئی سربراہ کی جانب سے الیکشن کمیشن کے مستعفی ہونے کا مطالبہ افسوسناک ہے، لہٰذا اس مطالبے کو مسترد کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: موجودہ حکومت 'جبری' اور وزرا 'جعلی' ہیں، مولانا فضل الرحمٰن

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے بغیر کسی ثبوت کے اس طرح کے بیانات افسوسناک اور حقائق کے برعکس ہیں، الیکشن کمیشن نے انتخابی عذرداریوں کے لیے 20 ٹرائیبیونلز بنائے ہیں، اگر کسی کو کوئی شکایات ہیں تو وہاں رابطہ کرے۔

ترجمان نے کہا کہ قومی اداروں کو الزامات لگا کر دباؤ میں لانے کی روایت ختم ہونی چاہیے، الیکشن کمیشن ایک خودمختار آئینی ادارہ ہے جو کسی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔

ترجمان کی جانب سے مزید کہا گیا کہ انتخابات 2018 کے دوران عوام نے آزادنہ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا اور پاکستانی عوام کے مینڈیٹ کا بغیر کسی جواز اور ذاتی مفاد کی بنیاد پر احترام نہ کرنا جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’مولانا فضل الرحمٰن کلو گوشت کیلئے بھینس ذبح کرنا چاہتے ہیں‘

خیال رہے کہ گزشتہ روز جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے الیکشن کمیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'الیکشن کمیشن عام انتخابات کامیابی سے کرانے میں ناکام رہا اور انتخابات کے نتائج میں تمام سیاسی جماعتوں نےدھاندلی کی شکایت کی لیکن اسے مسترد کیا جس پر الیکشن کمیشن کو فوری مستعفی ہونا چاہیے۔'

مولانا فضل الرحمٰن نے مزید کہا تھا کہ ’اس وقت ملک میں جو حکومت قائم ہے وہ جبری حکومت ہے جس کے وزیر اعظم اور وزرا جعلی ہیں‘۔