عام انتخابات 2018 میں ریکارڈ 183 خواتین نے جنرل نشتوں پر مقابلہ کیا لیکن کامیابی صرف 8 امیدواروں کو حاصل ہوئی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری اعداد وشمار کے مطابق جنرل نشستوں میں حصہ لینے والی خواتین میں سے سندھ سے 4، پنجاب سے 3 اور بلوچستان سے ایک خاتون امیدوار کامیاب ہوئیں۔

خیبرپختونخوا (کے پی) سے جنرل نشست پر کسی خاتون کو کامیابی نہیں ملی۔

حالیہ انتخابات میں ریکارڈ خواتین کے مقابلے کی ایک وجہ انتخابی اصلاحات بل 2017 بھی ہے جس میں تمام جاعتوں کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے الیکشن کے لیے کم از کم 5 فیصد ٹکٹ خواتین کے لیے مختص کریں۔

یہ بھی پڑھیں: انتخابات 2018: معروف سیاسی شخصیات کو شکست

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) نے 5 فیصد کوٹے کو پورا کرنے کے لیے بمشکل 5 فیصد ٹکٹ خواتین امیدواروں کو جاری کیے تھے۔

جنرل نشستوں میں کامیابی حاصل کرنے والی امیدواروں میں پی پی پی کی 3 رہنما نفیسہ شاہ این اے-208 (خیرپور ون)، شازیہ مری این اے-216 (سانگھڑ ٹو) اور شمس النسا این اے-232 (ٹھٹہ) سے شامل ہیں۔

پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر این اے-115جھنگ ٹو سے غلام بی بی بھروانہ اور این اے-191 ڈیرہ غازی خان سے زرتاج گل نے کامیابی حاصل کی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مہناز عزیز این اے-77 (نارووال ٹو)، بلوچستان عوامی پارٹی کی زبیدہ جلال این اے-271 (کیچ) اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے ٹکٹ پر سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا این اے-230 (بدین ٹو) سے کامیاب ہوئیں۔

مزید پڑھیں:غیر حتمی سرکاری نتائج جاری، پی ٹی آئی کو 115 نشستوں سے برتری حاصل

یاد رہے کہ 2013 کے انتخابات میں 135 خواتین نے جنرل نشست پر الیکشن لڑا تھا جن میں آزاد امیدواروں کی تعداد پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے والی خواتین سے زیادہ تھی۔

آزاد حیثیت میں 2013 کے انتخابات میں حصہ لینے والی خواتین کی تعداد 74 تھی جبکہ 61 خواتین پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی تھیں۔

عام انتخابات 2008 میں صرف 72 خواتین انتخابات میں براہ راست حصہ لے رہی تھیں جن میں 41 خواتین پارٹی ٹکٹ اور 31 امیدوار آزاد حیثیت میں میدان میں تھیں۔