وفاق نے سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے آئی جی پولیس تبدیل کردیے

اپ ڈیٹ 07 ستمبر 2018

ای میل

وفاقی حکومت نے صوبہ سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے انسپیکٹر جنرل (آئی جی) کو تبدیل کردیا۔

وفاقی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تبادلوں اور تقرریوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیئے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ڈاکٹر کلیم امام آئی جی سندھ پولیس، محمد طاہر آئی جی پنجاب پولیس، صلاح الدین خان آئی جی خیبر پختونخوا پولیس تعینات کردیے گئے۔

وفاقی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے اعلامیے کے مطابق سابق آئی جی سندھ پولیس امجد جاوید سلیمی کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت بھی کردی گئی۔

مزید پڑھیں: سندھ پولیس کے نئے آئی جی کے لیے وفاق کو 3 نام بھجوا دیئے گئے

واضح رہے کہ گزشتہ روز سندھ حکومت نے آئی جی سندھ پولیس امجد جاوید سلیمی سے ان کا عہدہ لینے اور ان کی جگہ دوسرا آئی جی پولیس لانے کے لیے وفاقی حکومت کو 3 نام تجویز کیے تھے۔

ان افسران میں ڈاکٹر سید کلیم امام، غلام نبی میمن اور ڈاکٹر امیر احمد شیخ کے نام شامل تھے جس میں سے ڈاکٹر سید کلیم امام کے نام کا فیصلہ سامنے آیا۔

ڈاکٹر کلیم امام

نئے آئی جی سندھ پولیس ڈاکٹر کلیم امام نے یکم نومبر 1988 کو سول سروس جوائن کی تھی۔

ڈاکٹر کلیم امام کا تعلق پولیس سروس اور 16ویں کامن سے ہے اور ان کا ڈومیسائل سندھ عربن (کراچی) کا ہے۔

ڈاکٹر کلیم امام اس سے قبل آئی جی پنجاب پولیس تعینات تھے اور وہ پولیس سروس کے 21 گریڈ کے آفیسر ہیں۔

نئے آئی جی سندھ پولیس 24 اپریل 2022 کو ریٹائر ہوں گے۔

محمد طاہر

نئے آئی جی پنجاب پولیس محمد طاہر نے یکم نومبر 1988 کو سول سروس جوائن کی تھی۔

محمد طاہر کا تعلق پولیس سروس اور 16ویں کامن سے ہے اور ان کا ڈومیسائل پنجاب (راولپنڈی) کا ہے۔

اس سے قبل محمد طاہر آئی جی خیبر پختونخوا پولیس کے عہدے پر فرائض انجام دے رہے تھے اور وہ گریڈ 21 کے آفیسر ہیں۔

نئے آئی جی پنجاب پولیس 21 نومبر 2020 کو ریٹائر ہوں گے۔

صلاح الدین خان

نئے آئی جی خیبرپختونخوا پولیس صلاح الدین خان نے 18 نومبر 1989 کو سول سروس جوائن کی تھی۔

صلاح الدین خان کا تعلق پولیس سروس اور 17ویں کامن سے ہے اور ان کا ڈومیسائل جنوبی وزیرستان کا ہے۔

اس سے قبل صلاح الدین خان آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی (او ایس ڈی) تھے اور وہ بھی گریڈ 21 کے آفیسر ہیں۔

نئے آئی جی خیبرپختونخوا پولیس 6 جنوری 2025 کو ریٹائر ہوجائیں گے۔