غزہ پٹی کے مشرقی حصے میں فلسطینیوں کے احتجاج کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی نوجوان شہید اور 2 سو سے زائد زخمی ہوگئے۔

غزہ کے وزیر صحت کا کہنا تھا کہ جمعے کے روز اسرائیلی فائرنگ سے ایک فلسطینی نوجوان شہید جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بلال مصطفیٰ خفاجا کو اسرائیلی اسنائیپر کی گولی سینے پر لگی تھی جس کی وجہ سے وہ شہید ہوا۔

وزیر صحت کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے تازہ فائرنگ کے واقعے میں 15 بچوں سمیت 210 مظاہرین زخمی بھی ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ کی صورتحال پر اسرائیلی وزیراعظم اور مصری صدر کی ملاقات

اسرائیل کی جانب سے واقعے پر اظہار خیال نہیں کیا گیا۔

خیال رہے کہ غزہ پر حکمرانی کرنے والی تنظیم حماس کی جانب سے 30 مارچ سے غزہ پٹی پر ہفتہ وار احتجاج کیا جارہا ہے۔

ان کے احتجاج کا مقصد 2007 میں قبضے کے بعد سے اسرائیل-مصری کی سرحد بندی کی جانب توجہ دلانا ہے۔

اس احتجاج کے آغاز سے اب تک اسرائیلی فوج کی جانب سے تقریباً 127 مظاہرین کا قتل کیا جاچکا ہے۔

ادھر اسرائیل کا کہنا تھا کہ وہ اپنی سرحد کی حفاظت کر رہے ہیں جبکہ حماس، مظاہرین کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہوئے سرحد پار کرکے حملے کرنا چاہتی ہے۔

عہد تمیمی کے اہل خانہ پر سفری پابندی عائد

علاوہ ازیں اسرائیلی حکام نے فلسطینی مزاحمت کی علامت عہد تمیمی اور ان کے اہل خانہ پر سفری پابندی عائد کردی۔

واضح رہے کہ فلسطین کے مغربی کنارے کے علاقے میں دسمبر 2017 میں 2 اسرائیلی فوجی اہلکاروں کو تھپڑ مارنے کے جرم میں 8 ماہ قید کاٹنے والی فلسطینی لڑکی عہد تمیمی اور ان کی والدہ کو رواں سال 29 جولائی کو رہا کیا گیا تھا۔

عہد تمیمی کو 22 مارچ 2018 کو اسرائیلی فوجیوں کو تھپڑ مارنے سمیت دیگر 4 مقدمات میں 8 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

عہد تمیمی پر گرفتاری کے ایک ماہ بعد ہی یعنی جنوری 2018 میں اسرائیلی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی مزاحمت کی علامت عھد تمیمی

خبر رساں اداروں کے مطابق ان پر 12 مختلف الزامات عائد کیے گئے تھے، جن میں سے انہوں نے عدالت میں 4 الزامات قبول کیے، جن میں تھپڑ مارنے کا الزام بھی شامل تھا، جس پر عدالت نے انہیں جیل قید کی سزا سنائی۔

عہد تمیمی کو نہ صرف قید کی سزا سنائی گئی تھی بلکہ ان پر ایک ہزار 440 ڈالر جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔

ان کے ٹرائل کے دوران یہ نقطہ بھی سامنے آیا کہ عہد تمیمی کی عمر 17 سال ہے اور وہ بالغ نہیں، اس لیے ان کے ٹرائل کی سماعت سر عام نہیں کی جاسکتی، جس کے بعد ان کا ٹرائل عدالت کے بند کمرے میں کیا گیا تھا۔

عہد تمیمی نے جیل میں مجموعی طور پر 5 ماہ سے بھی کم وقت گزارا، کیوں کہ ان کی سزا کا دورانیہ اس وقت سے شروع ہوا تھا جب انہیں اسرائیلی فوجیوں کو تھپڑ مارنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔