امریکا فوری طور پر شام سے واپس چلا جائے، ایرانی صدر

اپ ڈیٹ 08 ستمبر 2018

ای میل

اردوان، روحانی اور پیوٹن نے اگلا اجلاس روس میں منعقد کرنے پر اتفاق کیا—فوٹو: اے پی
اردوان، روحانی اور پیوٹن نے اگلا اجلاس روس میں منعقد کرنے پر اتفاق کیا—فوٹو: اے پی

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکا فوری طور پر شام میں اپنی غیرقانونی مداخلت اور موجودگی کو ختم کردے۔

ایرانی پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تہران میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن، ترک صدر رجب طیب اردوان اور حسن روحانی کے درمیان ہونے والے سہ فریقی سربراہی اجلاس میں شام کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایرانی صدر نے سربراہی اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران 7 برس سے جاری شام کے مسئلے کے حل کے لیے 6 نکات پیش کیے اور کہا کہ یہ عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ اسرائیلی حکومت کے اقدامات کا توڑ کرے۔

اسرائیل کے خلاف اقدامات پر زور دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری کو اسرائیل کی شام کی سرزمین میں مسلسل قبضے، شامی حکومت اور قوم کے خلاف بڑھتے ہوئے اقدامات کو روکنا ضروری ہے۔

حسن روحانی نے کہا کہ ‘شام کے مسئلے کے لیے کسی بھی سیاسی مذاکرات میں شام کی علاقائی سالمیت اور آزادی کا احترام کرنا ضروری ہے’۔

انہوں نے شام میں دہشت گردوں کے خاتمے تک جنگ جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا اور خاص کر شمال مغربی صوبے ادلب کا ذکر کیا۔

مزید پڑھیں:اسرائیل کی عراق میں ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ عالمی برادری شامی مہاجرین کو اپنے گھروں کی جانب واپسی کے دوران پیش آنے والے مسائل اور جنگ سے متاثرہ ملک کی تعمیر پر خاص توجہ دینی چاہیے اور ایرانی اس حوالے سے اپنا تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

حسن روحانی نے شام کے مسئلے کے حل کے لیے تہران، انقرہ اور ماسکو کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ تینوں ممالک کو دمشق میں مکمل قیام امن کے لیے مزید کوششوں اور تعاون کو جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔

پیوٹن کا خطاب

—فوٹو:اے پی
—فوٹو:اے پی

روسی صدر پیوٹن نے اپنے خطاب میں کہا کہ دہشت گرد ادلب میں اشتعال انگیزی سمیت کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تیاری کررہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘باقی ماندہ انتہا پسند گروپس نے اس وقت صوبہ ادلب کے قدرے پرامن زون پر توجہ مرکوز کررکھی ہے’۔

پیوٹن نے کہا کہ ‘دہشت گرد جنگ بندی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں، وہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سمیت مختلف شرانگیزیوں کی تیاریوں میں مصروف ہیں’۔

یہ بھی پڑھیں:شام: 'روسی' طیاروں کی ادلب پر بمباری، متعدد شہری ہلاک

انہوں نے کہا کہ ‘شام کی آئینی حکومت کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی قومی سرحدوں کو قبضے میں لے’۔

روسی صدر نے شام میں انسانی بحران کے پہلووں اور جنگ زدہ ملک کی تعمیر کی بھی نشاندہی کی اور کہا کہ بہت سارے لوگ جو دوسرے ممالک منتقل ہوئے تھے اب واپس آرہے ہیں۔

اردوان کا خطاب

—فوٹو:اے پی
—فوٹو:اے پی

ترک صدر رجب طیب اردوان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ادلب میں خونی کھیل سے بچنے کے لیے جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

طیب اردوان کا کہنا تھا کہ ‘اگر ہم یہاں پر جنگ بندی کو یقینی بناتے ہیں تو یہ اس اجلاس کا ایک اہم قدم ہوگا اس سے عوام کے لیے بڑے اطمینان کی بات ہوگی’۔

انہوں نے کہا کہ ‘ہم کبھی نہیں چاہتے کہ ادلب خونی کی ہولی میں تبدیل ہوجائے’۔

ترک صدر نے کہا کہ ‘ادلب میں کسی بھی حملے کے نتیجے میں ایک بحران، قتل عام اور سنگین انسانی بحران جنم لے گا’۔

ترک صدر نے کہا کہ ‘ادلب میں کسی بھی حملے کے نتیجے میں ایک بحران، قتل عام اور سنگین انسانی بحران جنم لے گا’۔

طیب اردوان نے کہا کہ ‘ادلب نہ صرف شام کے مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے لیکن ہماری قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی ضروری ہے’۔

خیال رہے کہ ترکی، روس اور ایران کے درمیان آستانہ میں ہونے والے معاہدے کے تحت شامی مہاجرین کی ملک واپسی اور اپنے علاقوں میں آباد کاری کے ساتھ ساتھ امن قائم کرنے کے ضامن ہیں۔

تینوں صدور کے درمیان نومبر 2017 میں روس کے شہر سوچی میں اجلاس ہوا تھا جس کے بعد رواں سال اپریل میں ترک دارالحکومت انقرہ میں اسی حوالے سے اجلاس منعقد کیا گیا تھا۔

تہران سربراہی اجلاس کا اعلامیہ

تہران میں منعقدہ سربراہی اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں شام میں دہشت گرد گروہوں کے خاتمے تک تعاون جاری رکھنے کا عزم کو دہرایا گیا۔

اعلامیے کے مطابق ‘حسن روحانی، رجب طیب اردوان اور ولادی میر پیوٹن نے دولت اسلامیہ عراق و شام (داعش)، النصرہ فرنٹ اور دیگر انفرادی دہشت گردوں کے علاوہ داعش اور القاعدہ سے منسلک ذیلی گروپس اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے دہشت گرد قرار دیے گئے گروپس کے مکمل خاتمے تک اپنا تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرادی’۔

سربراہی اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ‘مذکورہ دہشت گرد اور مسلح گروپس میں سے کوئی حکومت کے ساتھ جنگ بندی کے عمل میں شامل ہوجائے تو عوامی جانوں کے نقصان سے بچنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی’۔

تینوں ممالک کے سربراہان نے اگلا سربراہی اجلاس روس میں منعقد کرنے پر بھی اتفاق کیا۔