بلوچستان: سرکاری اسکولوں کے اساتذہ ریاضی میں ’فیل‘

اپ ڈیٹ 08 ستمبر 2018

ای میل

کوئٹہ: بلوچستان میں قابلیت چانچنے کے لیے منعقد امتحان میں سرکاری اسکولوں کے اساتذہ ریاضی کے مضمون میں 100 میں سے مجموعی طورپرصرف 23 فیصد نمبر حاصل کرسکے۔

اقوام متحدہ انٹرنیشنل چلڈرن ایمرجنسی فنڈ (یونیسیف) کے تحت صوبے کے 12 اضلاع میں امتحان منعقد کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: ‘بلوچستان میں تعلیمی نظام میں اصلاحات کی کوشش جاری ہے‘

یونیسیف کے نمائندوں نے گریڈ 1 سے گریڈ 8 تک کے اساتذہ کا انٹرویو بھی کیا۔

امتحانی نتائج کے مطابق سائنس کے مضمون میں اساتذہ صرف 25 فیصد ہی مارکس حاصل کرسکے۔

عالمی ادارے نے مجموعی طور پر 1 ایک ہزار 152 اساتذہ سے اردو، انگلش، ریاضی اور سائنس کے مضامین میں ٹیسٹ لیے جس میں سے 500 اساتذہ گریڈ 5 اور 652 اساتذہ گریڈ 8 میں پڑھاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اساتذہ کی قابلیت کا گراف مجموعی طور پر چاروں مضامین میں انتہائی کم رہا۔

مزیدپڑھیں: خواتین کا عالمی دن: بلوچستان کی لڑکیاں تعلیم میں پیچھے کیوں؟

بلوچستان کے سیکریٹری ایجوکیشن نور الحق بلوچ نے ڈان کو بتایا کہ ‘میں اعتراف کرتاہوں کہ اساتذہ کی قابلیت بہت کم ہے’۔

اس حوالےسے انہوں نے مزید بتایا کہ اساتذہ کی کمزورتعلیمی اور صلاحیت کے پیش نظر حکومت بلوچستان کے شعبہ تعلیم نے 3 سالہ منصوبہ شروع کیا ہے جس میں اساتذہ کو سیکھنے کے بہتر مواقع حاصل ہوں گے۔

نورالحق بلوچ کا کہنا تھا کہ حکومت نے 60 کروڑ روپے مختص کیے ہیں جو صوبے بھر کے 35 ہزار اساتذہ کی صلاحیت کو مزید بہتر بنانے کے لیے خرچ کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: نصف بلوچستان تعلیم سے محروم

رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا کہ اساتذہ نے اردو میں 60 فیصد اور انگریزی میں 50 فیصد نمبر حاصل کیے۔

اس بارے میں بھی انکشاف کیا گیا کہ پیشہ ورانہ تعلیم کے معاملے میں بھی متعدد اساتذہ تعلیمی تربیت سے ناواقف ہیں۔

محکمہ تعلیم کے ذرائع نے بتایا کہ سرکاری اساتذہ کی تعداد 60 ہزار سے زیادہ ہے۔

دوسری جانب ایجوکیشن سیکریٹری نورالحق بلوچ کے مطابق صوبائی ادارہ برائے اساتذہ تعلیم کے فروغ کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں گے۔