پاکستانی اداکار کا امریکی فلم میں ہندو پنڈت کا کردار

ای میل

فلم کی ریلیز کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا—اسکرین شاٹ
فلم کی ریلیز کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا—اسکرین شاٹ

پاکستان کی معروف فلموں ‘خدا کے لیے، آپریشن 021 اور مور’ میں اداکاری کے جوہر دکھانے والے اداکار 48 سالہ حمید شیخ جلد ہی ایک امریکن-نیپالی فلم میں ہندو پنڈت کا کردار ادا کرتے نظر آئیں گے۔

ڈان امیجز سے بات کرتے ہوئے حمید شیخ نے بتایا کہ وہ جلد ہی امریکی نژاد نیپالی فلم ساز پیما دھوندپ کی فلم ‘دی مین فرام کھٹمنڈو’ میں بااثر ہندو پنڈت کا کردار ادا کرتے نظر آئیں گے، جن کا سیاست میں بھی اہم کردار ہوتا ہے۔

حمید شیخ کے مطابق فلم کی کہانی ایک ہندو-مسلم لڑکے کے گرد گھومتی ہے، جو امریکا سے نیپال اپنے والد کو تلاش کرنے پہنچتا ہے، جہاں اسے اپنے ہی والد کی تلاش کے دوران کئی حیران کن حقائق سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔

اپنے کردار کے حوالے سے حمید شیخ کا کہنا تھا کہ فلم میں وہ ایک بااثر مذہبی ہندو پنڈت کا کردار ادا کرتے نظر آئیں گے، جن کا وہاں کی سیاست میں بھی اہم کردار ہوتا ہے۔

پاکستانی اداکار نے بتایا کہ فلم انگریزی زبان میں ریلیز کی جائے گی، جس کی شوٹنگ امریکا سمیت نیپال میں کی گئی۔

ان کے مطابق امریکی نژاد نیپالی فلم ساز نے ان کی کچھ فلمیں دیکھیں، جن میں وہ ان کی اداکاری سے متاثر ہوئے، جس کے بعد انہوں نے حمید شیخ کو فلم میں کام کرنے کی پیش کش کی۔

حمید شیخ نے بتایا کہ فلم میں ان کے ساتھ بولی وڈ کے معروف اداکار گلشن گروور بھی اہم کردار ادا کرتے نظر آئیں گے۔

فلم کا ٹریلر بھی جاری کردیا گیا—اسکرین شاٹ
فلم کا ٹریلر بھی جاری کردیا گیا—اسکرین شاٹ

فلم کی دیگر کاسٹ میں کچھ بھارتی، کچھ نیپالی اور امریکی اداکار بھی شامل ہیں۔

فلم کے تین منٹ سے کم دورانیے کے ٹریلر کو دیکھ کر فلم کی کہانی کو سمجھنا مشکل ہے۔

کیوں کہ ٹریلر میں فلم کے مرکزی ہیرو کو پہلے امریکا اور بعد ازاں نیپال میں لوگوں سے الجھتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

مرکزی ہیرو امریکا سے نیپال کیسے پہنچتا اور اسے وہاں کن حقائق اور حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے یہ فلم دیکھ کر پتا چلے گا۔

فلم کی ٹیم نے اس کی ریلیز کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا، تاہم امکان ہے کہ اسے رواں برس کے آخر تک ریلیز کردیا جائے گا۔

حمید شیخ کا کہنا ہے کہ اگرچہ پاکستان میں سنجیدہ فلمیں ناکام ہوتی ہیں، کیوں کہ یہاں زیادہ تر کمرشل اور مصالحہ فلمیں دیکھی جاتی ہیں، تاہم وہ کوشش کریں گے اس فلم کو پاکستان میں بھی ریلیز کیا جائے۔