امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی مصنوعات پر اضافی 2 سو 67 ارب ڈالر کے ٹیکس عائد کرنے کا عندیہ دے دیا۔

واضح رہے کہ چینی مصنوعات پہلے ہی 200 ارب ڈالر کے درآمدی ٹیکس کا شکار ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا: چینی مصنوعات کی درآمدات پر 60 ارب ڈالر کے محصولات عائد

اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے عندیہ کو حقیقی روپ دیتے ہیں تو چین کے ساتھ تجارتی جنگ میں شدت آجائے گی اورتقریباً تمام ہی چینی مصنوعات ٹیکس کے دائرکار میں شامل ہو جائیں گی۔

خیال رہے کہ امریکا نے رواں برس جولائی میں چین کی صنعتی مصنوعات پر 50 ارب ڈالر عائد کیے تھے جس کے ردعمل میں چین نے بھی امریکی درآمد اشیاء پر ٹیکس نافذ کیے۔

امریکی صدر نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہم نے چینی کی ٹیکنالوجی پر 50 ارب ڈالر کے ٹیکس عائد کیے اور بعدازں 200 ارب ڈالر کے مزید ٹیرف لگائے گئے اور مجھے یہ کہتے ہوئے تکلیف ہے کہ 2 سو 67 ارب ڈالر کے ٹیکس عائد کرنے کی تیاری پوری ہے اور مختصر سے نوٹس پر اس کا اطلاق ہوجائے گا جس کے بعد صورتحال یکسر مختلف ہو جائے گی‘۔

مزیدپڑھیں: امریکا اور چین میں سے 'حقیقی برتری' آخر کسے حاصل ہے؟

ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد اسٹاک ایکچینج میں مندی دیکھنے میں آئی، دی ڈاؤ جونز انڈسٹری ایوریج 77 پوائٹنس کے ساتھ بند ہوا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ٹیرف عائد کرنے کا مقصد چین کو امریکی ٹیکنالوجی چوری کرنے سے روکنا اور امریکی کمپنیوں کو چینی مارکیٹ سے اپنے کاروباری معاملات محدود کرنا ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاوس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر کوئی تبصرہ جاری نہیں کیا۔

رواں برس چین سے امریکی درآمدی اشیاء گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 8 فیصد مہنگی ہو چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چین کا جوابی اقدام: امریکی مصنوعات کی درآمد پر محصولات عائد

اگر صورتحال رواں برس اسی تناظر میں آگے بڑھی تو چینی درآمد 5 سو 48 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

واضح رہے کہ 22 مارچ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی مصنوعات کی درآمدات پر تقریباً 60 ارب ڈالر کے محصولات عائد کرنے کے حکم نامے پر دستخط کیے تھے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق صدارتی حکم نامے پر دستخط کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’محصولات عائد کرنے کے باوجود چین ہمارا دوست رہے گا۔‘

جس کے جواب میں چین نے پھل اور سور کے گوشت سمیت امریکا سے درآمد کی جانے والی 3 ارب ڈالر مالیت کی ایک سو 28 مصنوعات پر محصولات عائد کر دیے تھے۔