سپریم کورٹ میں عدالتی سال مکمل ہوگیا اور 10 ستمبر سے نئے سال کا آغاز ہوگا جہاں اس وقت 40 ہزار 540 مقدمات میں درخواست گزار فیصلوں کے منتظر ہیں۔

سپریم کورٹ میں عدالتی سال کے اختتام کے ساتھ زیرسماعت مقدمات کے اعداد و شمار کے مطابق سپریم کور ٹ اسلام آباد سمیت کراچی، لاہور، پشاور اور کوئٹہ رجسٹری میں دیوانی نوعیت کے 9 ہزار 368 مقدمات زیرسماعت ہیں۔

سپریم کورٹ اسلام آباد اور دیگر رجسٹریوں میں مزید 19 ہزار 374 آئینی درخواستیں، 2 ہزار249 جیل پٹیشنز اور سپریم کورٹ کی جانب سے لیے گئے ازخود نوٹس کے 39 مقدمات زیر سماعت ہیں۔

عدالت عظمیٰ میں اس وقت بنیادی انسانی حقوق کے 274 مقدمات بھی زیر التواء ہیں۔

تازہ اعداد وشمار کے مطابق سپریم کوٹ میں یکم اگست سے 15 اگست 2018 کے دوران 682 نئے مقدمات درج ہوئے جن میں اسلام آباد میں 375، کراچی رجسٹری میں 49، لاہور رجسٹری میں 181، پشاور رجسٹری میں 60 اور سپریم کورٹ کوئٹہ رجسٹری میں درج 17 مقدمات شامل ہیں۔

مزید پڑھیں:قانون سازی عدالتوں کا نہیں پارلیمان کا کام ہے، چیف جسٹس

سپریم کورٹ نے اس دوران مجموعی طور پر 526 مقدمات نمٹائے جبکہ پشاور اور کوئٹہ رجسٹری میں ان 15 دنوں میں کوئی مقدمہ نمٹایا نہیں جا سکا ۔

یکم سے 15 اگست 2018 کے دوران درج ہونے والے بنیادی انسانی حقوق کے 17 مقدمات میں سے 3 مقدمات کو پایہ تکیمل تک پہنچایا گیا۔

یاد رہے کہ 7 جولائی 2018 کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس ہوا تھا جس کا مقصد انصاف کی فراہمی اور سپریم کورٹ میں زیرالتوا مقدمات کا جائزہ لینا تھا۔

سپریم کورٹ سے جاری اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ اجلاس میں ستمبر 2017 سے جون 2018 تک کے مقدمات کا جائزہ لیا گیا اور اس دوران 16 ہزار 897 مقدمات نمٹائے گئے جبکہ اس دوران مجموعی طور پر 19 ہزار 98مقدمات دائر ہوئے۔

اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ اس وقت سپریم کورٹ میں مجموعی طور پر 39 ہزار 317 مقدمات زیر التوا ہیں کیونکہ مقدمات دائر ہونے کی شرح میں بڑی حد تک اضافہ ہوا جو عدالت پر عوامی اعتماد کا اظہار ہے۔

قبل ازیں 13 جنوری 2018 کو چیف جسٹس نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ فیصلوں میں تاخیر کے ذمہ دار صرف ہم نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے خلاف اوپن ٹرائل کی درخواست منظور

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ ہی قانون بنا سکتی ہے اور اصلاحات لاسکتی ہے ہم صرف اس کی تشریح کرسکتے ہیں آپ قوانین میں ترمیم کردیں، جج کوتاہی کرے تومیں ذمہ دارہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ سپریم ہے، قانون بنانا اس کی ذمہ داری ہے، سہولتوں کی کمی کی وجہ سے جج پوراان پٹ نہیں دے پاتے۔

انھوں نے کہا تھا کہ جس جج کے پاس مقدمات 3 ماہ سے زیادہ عرصے تک زیرالتوا ہیں وہ ایک ماہ میں نمٹا دیں۔

چیف جسٹس نے کہا تھا کہ بدقسمتی سے اس وقت عدالتی نظام تنقید کی زد میں ہے جبکہ آئین کےآرٹیکل 212 میں تبدیلی کی ضرورت ہے، انصاف کی فراہمی اپنی مرضی سے نہیں بلکہ قانون کےمطابق ہونی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر اہم مسئلہ ہے جبکہ تمام شہری قانون کی پاسداری کے پابند ہیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 4 کے تحت انصاف ہر شہری کابنیادی حق ہے، انصاف وقت پراورقانون کےمطابق کرنا ہماری ذمہ داری ہے کیونکہ لوگوں کی شکایت ہے کہ ان کو انصاف وقت پرمیسرنہیں۔