لاہور ہائی کورٹ نے مبینہ بغاوت کے خلاف کارروائی کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں ہائی کورٹ کے 3 رکنی فل بینچ نے سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف بغاوت کی کارروائی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی۔

دورانِ سماعت جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ شاہد خاقان عباسی عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوئے۔

عدالت نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے انہیں 10 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے کا بھی حکم دیا۔

یہ بھی پڑھیں: سابق اور موجودہ وزراء اعظم کے خلاف بغاوت کی کارروائی کیلئے درخواست

عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے ذریعے نوٹس جاری کر دیا، جبکہ انٹرویو لینے والے صحافی سرل المیڈا کو بھی بذریعہ ایس ایس پی اسلام آباد نوٹس جاری کیا گیا۔

خیال رہے کہ مذکورہ درخواست سابق وزیر اعظم نواز شریف کے متنازع بیان کو بنیاد بناکر دائر کی گئی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ نواز شریف نے متنازع انٹرویو دے کر ملک و قوم سے غداری کی۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ نواز شریف کے خلاف بغاوت کے الزام کے تحت کارروائی کی جائے۔

مزید پڑھیں: قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس: ممبئی حملے سے متعلق بیان گمراہ کن قرار

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان عباسی نے قومی سلامتی کمیٹی کی کارروائی سابق وزیر اعظم کو بتا کر حلف کی پاسداری نہیں کی، اس لیے ان کے اور نواز شریف کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی جائے۔

یاد رہے کہ نواز شریف نے ایک انٹرویو میں ممبئی حملوں پر راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں دائر مقدمے کے حوالے سے کہا تھا کہ اس مقدمے کی کارروائی ابھی تک مکمل کیوں نہیں ہوسکی؟

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کا سیاسی مستقبل اب کیا موڑ اختیار کرنے جارہا ہے؟

ان کا مزید کہنا تھا کہ عسکری تنظیمیں اب تک متحرک ہیں جنہیں غیر ریاستی عناصر کہا جاتا ہے، مجھے سمجھائیں کہ کیا ہمیں ان کو اس بات کی اجازت دینی چاہیے کہ سرحد پار جا کر ممبئی میں 150 لوگوں کو قتل کردیں۔