بھارت: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف پر تشدد مظاہرے

10 ستمبر 2018

ای میل

احتجاج کے دوران ٹائر نذر آتش اور توڑ پھوڑ بھی کی گئی — فوٹو: اے ایف پی
احتجاج کے دوران ٹائر نذر آتش اور توڑ پھوڑ بھی کی گئی — فوٹو: اے ایف پی

نئی دہلی: بھارت میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف گانگریس سمیت 22 اپوزیشن جماعتوں کی کال پر ملگ گیر پرتشدد احتجاج جاری ہے، جس کے باعث جلاؤ گھیراؤ سے نظام زندگی بری طرح متاثر ہے۔

بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات اور دیگر معاملات پر کانگریس کے صدر راہول گاندھی کی قیادت میں ’بھارت بند‘ تحریک جاری ہے، جس کے تحت ملک کے مختلف حصوں میں شہریوں نے حکومتی اقدام کے خلاف احتجاج کیا۔

احتجاج کے دوران مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے نہ صرف ٹریفک بلکہ ٹرینوں کی آمد و رفت میں بھی تعطل پیدا کیا اور ٹائر جلا کر حکومت مخالف نعرے بازی کی۔

مزید پڑھیں: بھارت: مودی سرکار کی پالیسز کے خلاف کسانوں، مزدوروں کا احتجاج

بھارت بند تحریک میں کانگریس سمیت 22 اپوزیشن جماعتیں شامل ہیں، تاہم دہلی کی حکمران جماعت عام آدمی پارٹی ( اے اے پی) اس احتجاجی تحریک میں شریک نہیں ہوئی۔

احتجاج کے دوران کاروباری مراکز بند رہے— فوٹو: اے پی
احتجاج کے دوران کاروباری مراکز بند رہے— فوٹو: اے پی

راہول گاندھی کے ساتھ ساتھ بڑے اپوزیشن رہنما شراد پوار، ایم کے اسٹیلن اور بائیں بازوں کے رہنما بھی بھارت بند تحریک میں شریک ہیں جبکہ ممتا بینرجی کی ترمنول کانگریس نے اس معاملے سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس تحریک کی قیادت کرنے والے راہول گاندھی نے اپنی والدہ سونیا گاندھی اور سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ کے ہمراہ دہلی کے رام لیلا گراؤنڈ کا دورہ کیا۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں کانگریس کے صدر کا کہنا تھا کہ ’نریندر مودی کی حکومت نے بہت سارے ایسے کام کیے جو عوام کے مفاد میں نہیں تھے، لہٰذا اس حکومت کی تبدیلی کا وقت قریب آگیا ہے‘۔

کچھ ریاستوں میں مظاہرے پرتشدد رنگ اختیار کرگئے— فوٹو: اے پی
کچھ ریاستوں میں مظاہرے پرتشدد رنگ اختیار کرگئے— فوٹو: اے پی

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا کہ ان کی حکومت نے جو کام 4 سال میں کیا ہے وہ 70 برس میں نہیں ہوا یہ اصل میں درست ہے کیونکہ ان کے دور میں ’ نفرت پھیلائی جارہی ہے، ایک بھارتی کو دوسرے سے لڑایا جارہا اور ملک کو تقسیم کیا جارہا ہے‘۔

دوسری جانب بھارتی جنتا پارٹی کے رہنما روی شنکر کا ایک پریس کانفرنس کے دوران کہنا تھا کہ ’ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتیں بڑھنا ہمارے ہاتھ میں نہیں کیونکہ تیل پیدا کرنے والے ممالک میں محدود پیداوار ہے، لہٰذا ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے‘۔

انہوں نے کہا کہ عوام جانتے ہیں کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے میں حکومت ملوث نہیں اور بی جے پی کو یقین ہے کہ کچھ وقت کی پریشانی کے باوجود بھارت کے عوام اس احتجاج میں شرکت نہیں کریں گے۔

احتجاج کی صورتحال

بھارت میں جاری ملک گیر احتجاج میں سب سے زیادہ متاثر کرناٹکا، مہاراشٹرا، کیرالہ اور بہار کے علاقے شامل ہیں، جہاں تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز بند ہیں اور عوام حکومتی اقدام کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔

کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے تحریک کی قیادت کی — فوٹو: اے ایف پی
کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے تحریک کی قیادت کی — فوٹو: اے ایف پی

کرناٹکا کے حکمران اور کانگریس کی حمایت یافتہ جنتا دل سیکیولر کے اعلان کے بعد بینگلور میں اسکول اور کالجز بند رہے جبکہ اودشہ میں بھی تعلیمی ادارے بند رہے، اگرچہ وہاں کے وزیر اعلیٰ نوین پٹ نایک کی جماعت نے اس احتجاج کی حمایت نہیں کی تھی۔

کرناٹکا میں بھارت بند تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے اوبر اور اولا کے ڈارئیوروں کے گروہوں، رکشہ ڈرائیورز ایسو سی ایشن اور دیگر ٹرانسپورٹ تنظمیں بھی ساتھ مل گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں کسانوں کا مظاہرہ، فائرنگ سے 6 ہلاک

ریاست بہار میں احتجاج کے باعث ٹرین اور ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے اور پٹنا، گایا اور دیگر مقام پر درجنوں ٹرینوں کو روک دیا گیا۔

اس معاملے پر کانگریس کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے کارکنوں پر زور دیا ہے کہ وہ پرتشدد احتجاج سے دور رہیں اور بھارت بند تحریک کو تشدد سے پاک رکھیں۔