بھارتی حکومت کی جانب سے اپنی فوج کو مزید قابل بنانے اور اس کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے ایک لاکھ 50 ہزار اہلکاروں کو ملازمتوں سے فارغ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج کے 2 افسران نے ملا جلا ردعمل دیتے ہوئے بتایا کہ فوج میں اس کٹوتی کا مقصد اس کی قابلیت میں مزید بہتری اور اسے مستقبل کی جنگوں کے لیے تیار کرنا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان اہلکاروں کو بتدریج 4 سے 5 سال تک کی مدت میں ملازمت سے فارغ کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: بھارت کی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری، مزید 6 پاکستانی جاں بحق

بھارتی فوج کا محکمانہ جائزہ جاری ہے جس میں فوج میں وسیع مسائل اور اس میں کٹوتی کے حوالے سے جائزہ لیا جائے گا۔

ملٹری سیکریٹری لیفٹننٹ جنرل جے ایس سندھو کی سربراہی میں 11 رکنی ٹیم یہ جائزہ لے رہی ہے جو اپنی پریزنٹیشن جلد ہی بھارتی آرمی چیف جنرل بپن روات کو پیش کرے گی، جبکہ اس کی حتمی رپورٹ نومبر کے مہینے میں پیش کی جائے گی۔

بھارتی فوج کے افسران کا کہنا تھا کہ عمودی انضمام کی وجہ سے 50 ہزار اہلکاروں کو آئندہ 2 سال میں فارغ کردیا جائے گا، جبکہ 23-2022 تک مزید ایک لاکھ اہلکاروں کو فارغ کردیا جائے گا، تاہم ابھی یہ معاملہ مطالعے کے مراحل میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج پر پتھر پھینکنے والی کشمیری لڑکی پر فلم بنے گی

اہلکاروں کو فوج سے نکالنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے لیفٹننٹ جنرل (ر) بی ایس جسوال کا کہنا ہے کہ جدید ہتھیاروں کے شامل ہونے سے تعداد میں توازن لانا ضروری ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک ادارے میں ایک کام کے لیے 2 افراد کے ہونے کا تعلق ہے تو اس میں ایک منظم تجزیہ کیا جائے گا اور اگر اس میں اس طرح کے شواہد ملے تو ایسے اہلکاورں کی تعداد کم کرنے کے لیے اقدامات کے امکانات ہیں۔