حیدرآباد 2007 دھماکے، 2 بھارتی شہریوں کو سزائے موت

اپ ڈیٹ 10 ستمبر 2018

ای میل

بھارت کی ریاست حیدرآباد میں 2007 میں ہونے والے دھماکوں کے الزام میں گرفتار انڈین مجاہدین نامی تنظیم سے تعلق رکھنے والے 2 مجرموں کو سزائے موت سنادی گئی۔

این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جن ملزمان کو سزائے موت سنائی گئی، ان میں انیق سعید اور اسمٰعیل چوہدری شامل ہیں جبکہ خصوصی نیشنل ایجنسی کورٹ نے تیسرے ملزم طارق انجم کو عمر قید کی سزا سنائی۔

خیال رہے کہ 25 اگست 2007 کو ہونے والے 2 دھماکوں میں 44 لوگ ہلاک اور 68 زخمی ہوگئے تھے۔

مزید پڑھیں: بھارت: بم دھماکے میں 5 سیکیورٹی اہلکار ہلاک

رواں سال 4 ستمبر کو عدالت نے پونے کے رہائشی اور کمپیوٹر دکان کے مالک 36 سالہ عنیق سعید اور موبائل ریپئرنگ کرنے والے اسماعیل چوہدری کو واقعہ کا مجرم قرار دیا تھا جبکہ اس سے روز قبل عدالت نے 2 افراد کو پناہ دینے پر طارق انجم کو مجرم قرار دیا تھا۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق عدالت نے گرفتار دیگر 2 ملزمان فاروق شرفدین ترکاش اور محمد صادق اسرار شیخ کو ناکافی ثبوتوں کی وجہ سے بری کردیا تھا تاہم انہیں رہا نہیں کیا گیا کیونکہ ملزمان مہاراشٹرا میں ایک اور کیس کا سامنا کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ پولیس کی جانب سے مقدمے میں نامزد کیے جانے والے دیگر 3 ملزمان ریاض بھکل، اقبال بھکل اور عامر رضا خان کو تاحال گرفتار نہیں کیا جاسکا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں بم دھماکا، 3 افراد ہلاک

سزا یافتہ مجرموں میں سے ایک کے وکیل کا کہنا تھا کہ مذکورہ سزاؤں کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا، ان کا اعتراض تھا کہ یہ انتہائی کمزور فیصلہ ہے اور اس کے خلاف اپیل کی جائے گی۔

یاد رہے کہ 25 اگست 2007 کو ایک معروف کھانے کی دکان 'گوکال چاٹ' میں ہونے والے دھماکے میں 32 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے جبکہ اسی روز اسٹیٹ سیکریٹریٹ کے قریب لمبینی پارک میں ہونے والے بم دھماکے میں 12 افراد ہلاک اور 21 زخمی ہوگئے تھے۔