بنگلہ دیش: اپوزیشن لیڈر کی رہائی کے لیے احتجاجی مظاہرے

اپ ڈیٹ 10 ستمبر 2018

ای میل

بنگلہ دیش میں 3 بار وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے والی خالدہ ضیا کی رہائی کے لیے ملک بھر میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی 73 سالہ رہنما خالدہ ضیا کو رواں سال فروری میں عدالت نے کرپشن کے الزام میں 5 سالہ قید کی سزا سنائی تھی جس کے بعد انہیں 19ویں صدی میں تعمیر کیے گئے قید خانے میں منتقل کردیا گیا تھا۔

خالدہ ضیا کے وکیل کے مطابق اس قید خانے میں وہ اکیلی قیدی ہیں اور ان کی طبیعت بھی دن بدن خراب ہورہی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق پولیس حکام کا کہنا تھا کہ بی این پی کے تقریباً 4 ہزار کارکنان نے بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں قائم قومی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: جیل میں موجود خالدہ ضیا کی صحت تشویش ناک ہے، ڈاکٹرز

اس کے علاوہ مزید ہزاروں افراد نے بنگلہ دیش کے دیگر شہروں و علاقوں میں اس ہی جیسے مظاہرے کیے۔

دوسری جانب اپوزیشن ترجمان فخر الاسلام عالمگیر کا کہنا تھا کہ ڈھاکہ کے جلسے میں 20 ہزار افراد نے خالدہ ضیا کو غیر قانونی طور پر جیل میں ڈالنے کے خلاف احتجاج کیا۔

بی این پی کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ خالدہ ضیا کے خلاف الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں، انہیں فوری طور پر رہا کرکے نجی ہسپتال میں ان کا علاج کرایا جائے۔

5 سال قید کی سزا پانے والی خالدہ ضیا کو گزشتہ ہفتے وہیل چیئر پر عدالت میں لایا گیا تھا، جہاں انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ بیمار ہیں اور ان کے ہاتھ اور پیر کام نہیں کر رہے۔

ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ خالدہ ضیا کو ترک کیے گئے قید خانے میں رکھنا غیر قانونی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش: خالدہ ضیاء کی رہائی کا فیصلہ معطل

خیال رہے کہ مئی میں خالدہ ضیا کو کرپشن کے الزامات میں ضمانت دے دی گئی تھی تاہم ان کو تشدد اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات میں حراست میں رکھا گیا ہے۔

ڈھاکہ سینٹرل جیل کو 19ویں صدی میں برطانوی دور حکومت میں تیار کیا گیا تھا جسے 2016 میں ترک کردیا گیا تھا۔

خالدہ ضیا کو رواں سال فروری کے مہینے میں کرپشن کے الزامات میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔

8 فروری کو خالدہ ضیاء کو سزا سنائے جانے کے بعد بنگلہ دیش کے کئی شہروں میں سیکیورٹی فورسز اور اپوزیشن رہنما کے حامیوں کے درمیان تصادم بھی دیکھنے میں آیا۔

خالدہ ضیا کے کارکنوں کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف تمام مقدمات سیاسی ہیں اور دسمبر میں ہونے والے انتخابات سے قبل حسینہ واجد کے سخت مخالف رہنما کو میدان سے ہٹانے کی غرض سے بنائے گئے ہیں۔

جرمنی کے ایک تھنک ٹینک بیرٹلزمان فاؤنڈیشن نے گزشتہ ہفتے بنگلہ دیش کو ایک نئی مطلق العنان ریاست کی جانب گامزن قرار دیتے ہوئے آنے والے انتخابات کی شفافیت پر شبہات کا اظہار کیا تھا۔