اگر گوگل نہ ہوتا تو زندگی کیسی ہوتی؟

11 ستمبر 2018

ای میل

— شٹر اسٹاک فوٹو
— شٹر اسٹاک فوٹو

گوگل سرچ کو اس ماہ 20 سال مکمل ہوگئے ہیں (باقاعدہ سالگرہ تو 27 ستمبر کو ہوگی مگر یہ سرچ سروس 4 ستمبر کو شروع ہوئی تھی)۔

گوگل سروسز پر لوگوں کا انحصار اتنا زیادہ ہے کہ 2013 میں گوگل ویب سائٹ ڈاﺅن ہونے پر عالمی سطح پر انٹرنیٹ ٹریفک میں 40 فیصد تک کمی آگئی تھی۔

انٹرنیٹ کی دنیا پر گوگل کے نام سے کون واقف نہیں مگر کیا آپ کو وہ زندگی یاد ہے جو اس سرچ انجن کی آمد سے قبل ہم گزارتے تھے؟ اس میں کتنی مشکلات تھی ہمیں کاغذی نقشے استعمال کرنا پڑتے تھے، زبانیں سیکھنا پڑتی تھیں اور اپنے پاس ایک ڈکشنری بھی رکھنا پڑتی تھی۔

مگر آج کیا ان کی ضرورت محسوس ہوتی ہے؟ نہیں ناں یہی تو دنیا کی سب سے مقبول ترین اس ویب سائٹ کا کمال ہے، تو یہ انوکھی فہرست دیکھیں جو بتاتی ہے کہ گوگل نہ ہوتا تو ہمارا کیا ہوتا۔

الفاظ کے ہجے یا اسپیلنگ ، چاہے آسان ہی کیوں نہ ہو

گوگل نہ ہوتا تو ہمیں اب بھی ہر لفظ کے اسپیلنگ یاد رکھنا پڑتے اور یہ کتنا مشکل ثابت ہوتا اس کا اندازہ پاکستان جیسے ممالک کے ان بچوں سے پوچھیں جو انگریزی کا نصاب رٹ کر امتحانات میں کامیاب ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

لوگوں کے بارے میں جاننا

جی ہاں ہم سب جانتے ہیں کہ فیس بک کئی بار اس حوالے سے بیکار ثابت ہوتی ہے، اور اگر گوگل نہ ہوتا تو آپ فیس بک ہی کیسے تلاش کرتے؟

راستوں کی معلومات

اب ہمیں کسی کا گھر یا دفتر وغیرہ تلاش کرنے کیلئے اپنی حسیات یا نظر پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں چاہے وہ چند قدم کے فاصلے پر ہی کیوں نہ واقع ہو، بلکہ گوگل میپ آخر کس لئے موجود ہے، کم از کم اسمارٹ فون صارفین میں تو یہ رجحان بہت عام ہے۔

کھانے پکانے کی تراکیب

آج کی نسل کو کھانا بنانے کی تراکیب یاد رکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی وہ تو کچھ نیا بنانے کیلئے سیدھا گوگل کا رخ کرتی ہے، اور اگر گھر میں پسند آنے والے پکوان کیلئے درکار اشیاء نہ ہو تو کوئی بات نہیں گوگل کہیں بھاگا تھوڑی جارہا ہے کچھ اور ڈھونڈ لینا کونسا مشکل ہے۔

دفاتر میں تفریح

ہم سب جانتے ہیں کہ ہماری توجہ کی صلاحیت کہیں گم ہوکر رہ گئی ہے مگر کوئی پروا نہیں، گوگل کی بدولت ہم ہر گھنٹے بعد یوٹیوب پر ایک نئی وڈیو سے لطف اندوز ہورہے ہوتے ہیں یا کئی بار تو تفریحاً اپنے گھر کا پتا ہی گوگل سرچ پر ڈال کر دیکھتے ہیں کہ ہمارے آس پاس کیا چل رہا ہے۔

معروف شخصیات کے نام یاد رکھنا

گوگل امیج کے ذریعے اب ہمیں یاد رہتا ہے کہ آخر ایمی ایڈمز یا جنیفر لارنس کون ہے، ورنہ کیا اس سے پہلے چند ایک کے سوا ہولی وڈ فنکاروں کی شکلیں اور نام کسی کو یاد رہتے تھے؟

ڈرائیونگ کرنے کی مشکل سے نجات

ٹھیک ہے ابھی گوگل کی خود ڈرائیونگ کرنے والی گاڑیاں دستیاب نہیں، مگر امریکا میں تو انہیں شاہراﺅں پر چلانے کی اجازت ملنا شروع ہوگئی ہے اور وہ وقت دور نہیں جب ہم جیسے اناڑیوں کو گاڑی پارک کرنے کی مشکل سے نجات مل جائے گی۔

فلموں کی ریلیز کا وقت جاننا

اب ہر ایک جب چاہے گوگل پر سرچ کرکے جان سکتا ہے کہ اس کی پسندیدہ فلم کب ریلیز ہورہی ہے بلکہ وہ تو سینماء کی ٹائمنگ اور بکنگ تک کراسکتے ہیں، کیا اخبارات سے ایسی سہولت ملتی تھی؟

انگریزی سے ہٹ کر دیگر زبانوں کو سمجھنا

اب یہ جملہ دیکھ لیں Solíamos ser capaces de aprender idiomas, pero ahora sólo tiene que utilizar سمجھ نہیں آرہا ناں؟ گوگل ٹرانسلٹ میں جاکر اسے باآسانی انگریزی میں پڑھا جاسکتا ہے۔

باہمی تکرار سے نجات

کیا آپ کو یاد ہے کہ قائداعظم کا پہلا اسکول کونسا تھا ؟ اگر آپ کے جواب کو کوئی دوست غلط بھی قرار دے تو بھی اس سے بحث کی ضرورت نہیں بس سیدھا گوگل کھول کر سرچ ہی کرکے جواب حاصل کرلیں۔

معروف اقوال یاد رکھنا

اگر کسی شخصیت کا قول پورا یاد نہیں آرہا تو گوگل کے آٹو کمپلیٹ فیچر کے ذریعے چند سیکنڈوں میں جانا جاسکتا ہے۔

الفاظ کے معنی یاد رکھنا

کئی بار لوگ گفتگو کے دوران ایسے الفاظ بول دیتے ہیں جو سمجھ نہیں آتے، تو بس اسمارٹ فون نکالیں اور گوگل سے اس کے معنی جان لیں۔

انٹرنیٹ ایکسپلورر زندہ ہوتا

اگر تو آپ کو کبھی (یعنی حال ہی میں) انٹرنیٹ ایکسپلورر کو استعمال کرنے کا موقع ملا ہوگا تو اندازہ لگاسکتے ہیں کہ گوگل کروم اس کے مقابلے میں کتنا تیز اور قابل قدر ہے، اگر گوگل نہ ہوتا تو ہم اب بھی انٹرنیٹ ایکسپلورر کو استعمال کرنے پر مجبور ہوتے۔

اینڈرائیڈ فونز کبھی سامنے نہ آتے

اب تو ہر روز ہی کوئی نہ کوئی نیا اسمارٹ فون سامنے آتا ہے جو کہ گوگل کے تیار کردہ اینڈرائیڈ سسٹم پر کام کرتا ہے، مگر گوگل نہ ہوتا تو یہ سسٹم بھی نہ ہوتا اور لوگوں کو مہنگے آئی فونز یا سست ونڈوز فونز پر ہی گزارا کرنا پڑتا۔

ای میل کرنا

جی ہاں گوگل سے پہلے ہاٹ میل یا یاہو میل کا راج تھا اور اگر گوگل نہ ہوتا تو لوگوں کو کبھی جی میل جیسی آسان ای میل سروس میسر نہ آتی جو اب پروفیشنل افراد کی اولین ترجیح ہے۔