اقوامِ متحدہ کے ماہر نے ریاستی نگرانی اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کی کمی کی وجہ سے رازداری کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات پر تحفظات کا اظہار کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اینکرپشن کے حوالے سے جرائم کو روکنے کے لیے بنائے گئے قوانین میں ابہام ہے۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے 39ویں سیشن کے دوران پیش کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا کہ ادارے کے مندوبِ خاص نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ پاکستان، چین، روس، ایران اور ترکی سمیت متعدد ممالک اینکرپشن کے خلاف اور آزادی اظہارِ رائے کے لیے انٹرنیٹ صارفین کی حفاظت کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں کوتاہی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: ’انٹرنیٹ پر منفی چیزیں بہت تیزی سے وائرل ہوتی ہیں‘

رپورٹ میں یہ نمایاں کیا گیا کہ رازداری ایک بنیادی انسانی حق ہے جو یونیورسل ڈکلیئریشن آف ہیومن رائٹس کے آرٹیکل 12، انٹرنیشنل کوویننٹ سول اینڈ پولیٹکل رائٹس کے آرٹیل 17 اور دیگر بین الاقوامی اور علاقائی قواعد و ضوابط میں وضع کیا گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی اس رپورٹ میں کہا گیا کہ کچھ حکومتوں کی جانب سے ایسے قوانین بنائے گئے ہیں جو انہیں کسی کی جاسوسی کرنے میں مزید طاقت ور بنادیتے ہیں۔

مذکورہ رپورٹ میں ڈیجیٹل دور میں پوری دنیا کو رازداری حقوق کے حوالے سے پیش آنے والے مسائل پر روشنی ڈالی گئی اور بتایا گیا کہ کئی ممالک نے انٹرنیٹ کے ذریعے جاسوسی اور اس کے طریقہ کار کے عدم پھیلاؤ کے لیے قوانین نافذ کردیے ہیں۔

پاکستان کے حوالے سے بتایا گیا کہ پاکستان میں الیکٹرنک جرائم سے روکنے کے لیے ایکٹ (پیکا) 2016 میں لایا گیا تھا تاہم اس میں صارفین کے حقوق کے حوالے سے ابہام پایا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 68 فیصد پاکستانی صحافی انٹرنیٹ پر خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں، رپورٹ

رپورٹ میں کہا گیا کہ آزاردی اظہارِ رائے کی عزت اور ان کی رازداری کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ 2015 میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے پیکا کی دفعات پر تحفظات کا اظہار کیا گیا تھا اور بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں عوام آزادی اظہارِ رائے اور بالخصوص صحافیوں کو آزادانہ کام کرنے سے خطرات لاحق ہوسکتے تھے۔

اپنا نام ظاہر نہ کرنا اور انکرپشن دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے ٹولز ہیں جنہیں انسانی حقوق کے محافظ، سول سوسائٹی، صحافی اور سیاسی حریف استعمال کرتے ہیں تاہم انہیں اب قوانین کے بعد سزاؤں اور ہراساں کرنے کا سامنا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ نے واضح کیا کہ اگر انہیں کمزور کیا جائے گا تو ان کی رازداری خطرے میں پڑ جائے گی، جس کی وجہ سے انہیں قانونی مداخلت کے مسائل کے ساتھ ساتھ غیر ریاستی عناصر سے بھی خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔