اسلام آباد: الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے آئی ووٹنگ کے نظام پر اٹھنے والے اعتراضات مسترد کردیے۔

الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز (ڈی جی پی آر) ندیم قاسم کا کہنا تھا کہ 14 اکتوبر کو ملک میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کا حق حاصل ہوگا۔

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ دینے کے لیے پہلے اپنی رجسٹریشن کروانی ہوگی جس کا عمل یکم ستمبر سے شروع کیا جاچکا ہے اور وہ 15 ستمبر تک جاری رہے گا۔

مزید پڑھیں: بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا ووٹ: ای ووٹنگ پر ٹاسک فورس کے تحفظات

ای سی پی کے ڈی جی پی آر ندیم قاسم نے مزید بتایا کہ اس حوالے سے وزارتِ خارجہ سے بات چیت ہوگئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے آگاہی پروگرام کا آغاز کیا جائے، جس میں ویڈیو پیغام تیار کرکے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) اور تحریری پیغامات کو اخبارات میں شائع کیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں میں سے جن کے پاس نائیکوپ اور مشین ریڈبل پاسپورٹ ہیں وہی رجسٹریشن کرواسکتے ہیں، جبکہ رجسٹریشن کے بعد ان لوگوں کو ان کی جانب سے دیے گئے ای میل پر 14 اکتوبر سے قبل پاس کوڈ ارسال کردیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن کے ڈی جی پی آر کا کہنا تھا کہ یہ پاس کوڈ پاکستانی وقت کے مطابق صبح آٹھ بجے سے شام 6 بجے تک جاری ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: ضمنی انتخابات: اوورسیز پاکستانی کیسے ووٹ ڈالیں گے؟

پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک تجرباتی منصوبہ ہے جس کی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کی جائے، جبکہ الیکشن کمیشن اسے کامیاب بنانے اور اس کی مکمل آگاہی کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک 10 لاکھ افراد الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کو وزٹ کر چکے ہیں اور امید ہے آخری دنوں میں زیادہ سے زیادہ ووٹ رجسٹرڈ ہوں گے۔

الیکشن کمیشن کے حکام کا بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے پر اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ای سی پی عجلت میں کام نہیں کر رہا بلکہ اپنی ذمہ داری کو پورا کر رہا ہے، تاہم سیاسی جماعتوں کو اس عمل کو سراہانہ چاہیے۔

یاد رہے کہ 17 اگست کو سپریم کورٹ نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹ ڈالنے سے متعلق حق کو تسلیم کرتے ہوئے آئندہ ضمنی انتخابات میں انہیں ووٹ ڈالنے کی اجازت دے دی تھی۔