پاناما ریفرنسز منتقلی: ہائیکورٹ کو ایک ہفتے میں تفیصلی فیصلہ جاری کرنے کا حکم

11 ستمبر 2018

ای میل

سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاناما ریفرنسز کی منتقلی کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ کو 7 روز میں تفصیلی فیصلہ جاری کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے پاناما ریفرنسز کی دوسری عدالت میں منتقلی کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔

دوران سماعت پراسیکیوٹر جنرل نیب نے کہا کہ اس معاملے پر ہمیں وقت چاہیے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کو وقت کیوں چاہیے۔

مزید پڑھیں: پاناما ریفرنسز منتقلی کے خلاف نیب کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

اس پر انہوں نے عدالت کو بتایا گیا کہ شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز کی منتقلی کے بارے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے کا انتظار ہے اور عدالت کی جانب سے تفصیلی فیصلہ جاری نہیں کیا گیا۔

عدالت کی جانب سے حکم دیا گیا اسلام آباد ہائیکورٹ ایک ہفتے میں ریفرنسز کی دوسری عدالت میں منتقلی کے بارے میں تفیصلی فیصلہ جاری کرے، اگر ایک ہفتے میں تفصیلی فیصلہ جاری نہیں کیا جاتا تو بتایا جائے کہ مزید کتنا وقت درکار ہوگا۔

بعد ازاں عدالت نے پاناما ریفرنسز کی منتقلی سے متعلق درخواست پر سماعت 25 ستمبر تک ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے العزیزیہ اسٹیل مل اور فلیگ شپ ریفرنس کی دوسری عدالت میں منتقلی کی درخواست دائر کی تھی، جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسے احتساب عدالت نمبر 2 میں منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔

تاہم چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کردیا تھا۔

نیب کی جانب سے دائر اپیل میں سپریم کورٹ سے درخواست کی گئی تھی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کو ہی ریفرنسز کی سماعت کرنے کی اجازت دی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: احتساب عدالت: العزیزیہ، فلیگ شپ ریفرنس ایک ساتھ آگے بڑھانے کا فیصلہ

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے 28 جولائی 2017 کو پاناما پیپرز کیس کے فیصلے میں سابق وزیراعظم نوازشریف کو وزارت عظمیٰ کے عہدے سے نااہل قرار دیا تھا اور قومی احتساب بیورو کو 3 ریفرنس کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

نیب نے گزشتہ برس ستمبر میں سابق وزیر اعظم کے خلاف 3 ریفرنسز ایون فیلڈ پراپرٹی، العزیزیہ اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ دائر کیے تھے۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 6 جولائی کو ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کو 10 سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 سال جبکہ داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی تھی۔