چین اور روس تجارت میں امریکی ڈالر کا استعمال کم کردیں، پیوٹن

11 ستمبر 2018

ای میل

روسی صدر  پیوٹن اور ان کے 
چینی  ہم منصب  نے اقتصادی فورم میں شرکت کی— فوٹو : اے ایف پی
روسی صدر پیوٹن اور ان کے چینی ہم منصب نے اقتصادی فورم میں شرکت کی— فوٹو : اے ایف پی

روس اور مغرب کے درمیان جاری کشیدگی کی وجہ سے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا کہنا ہے کہ روس اور چین تجارتی معاملات میں اپنی کرنسی کا استعمال بڑھائیں۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ہمراہ مشترکہ پریس بریفنگ میں روسی صدر کا کہنا تھا کہ ’ تجارتی مقاصد کے لیے امریکی ڈالر کا استعمال کم کرتے ہوئے دونوں ممالک کو اپنی قومی کرنسی کا استعمال بڑھانا ہوگا ۔‘

مشترکہ پریس بریفنگ سے قبل صدر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ نے روسی شہر ولادی ووسٹوک میں اقتصادی فورم میں شرکت کی تھی۔

پیوٹن کا کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب عالمی مارکیٹ مشکلات کا شکار ہے، اس اقدام سے ان بینکوں کے استحکام میں اضافہ ہوگا جو درآمدات اور برآمدات کی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں : امریکا کی روس پر نئی معاشی پابندیاں

خیال رہے کہ سال 2014 میں یوکرائن کے علاقوں کرائیمیا پر قبضہ کرنے پر روس کو امریکا کی جانب سنگین ترین معاشی پابندیوں کا سامنا ہے۔

چند ماہ قبل امریکا نے صدارتی انتخاب میں روس کی مبینہ مداخلت اور برطانیہ میں سابق ڈبل ایجنٹ سرگئی اسکرپال اور اس کی بیٹی کو زہر دیے جانے کے الزامات پر روس پر مزید پابندیاں عائد کی تھیں۔

امریکا کی جانب سے عائد حالیہ پابندیوں اور مزید خطرناک اقدامات کی دھمکیوں کے بعد سے روسی کرنسی روبل کی قدر میں ڈالر اور یورو کے مقابلے میں تیزی سے کمی آئی ہے۔

علاوہ ازیں چند مہینوں میں ڈالر کے مقابلے میں چینی کرنسی یوآن کی قدر میں تیزی سے کمی آئی ہے۔

رواں برس جولائی میں پیوٹن کا کہنا تھا کہ سیاسی تنازعات ڈالر کے بطور گلوبل ریزرو کرنسی ڈالر کے استعمال کو نقصان پہنچارہے ہیں، انہوں نے کہا تھا کہ چینی کرنسی یوآن اب ریزرو کرنسی کی خصوصیات حاصل کررہی ہے۔

خیال رہے کہ روس نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی جنگی مشقوں کا آغاز بھی کیا ہے جس میں ہزاروں روسی اور چینی فوجی اپنی قوت کا مظاہرہ کریں گے۔

اس حوالے سے روسی وزیر دفاع سرگئی شوگو کا کہنا تھا کہ مشقوں میں 3 لاکھ سپاہی، 36 ہزار فوجی گاڑیاں ، ایک ہزار جہاز اور 80 جنگی بحری جہاز حصہ لے رہے ہیں۔