امریکا کا فلسطینی مشن کو بند کرنا خطرے کی گھنٹی ہے، ترکی

12 ستمبر 2018

ای میل

ترکی نے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے سفارتی مشن بند کیے جانے کے امریکی فیصلے کو خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واضح ہوگیا کہ امن کے قیام میں امریکا غیر جانب دار نہیں رہ سکتا۔

خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ترک وزارت خارجہ کے ترجمان حامی اکسوئے کا کہنا تھا کہ ’یہ فیصلہ پریشان کن ہے اور اس بات کا اشارہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام میں امریکا غیر جانب دار نہیں'۔

حامی اکسوئے کا مزید کہنا تھا کہ یہ اعلان صرف ان کے لیے حوصلہ افزا ہوگا جو دو ریاستی حل کے مخالف ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان ہیتھر نوریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘ہم نے پی ایل او کو اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پائیدار امن کے حصول کے لیے اپنا کام جاری رکھنے کی اجازت دی تھی’۔

فلدطینی تنطیم پر الزام عائد کرتے ہوئے امریکی انتظامیہ کے بیان میں کہا گیا تھا کہ ‘پی ایل او نے اسرائیل کے ساتھ معنی خیز اور براہ راست مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا’۔

مزید پڑھیں : امریکا کا فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن کے دفاتر کو بند کرنے کا اعلان

دوسری جانب پی ایل او حکام کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے اسرائیل سے مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے انہیں بلیک میل کیا جارہا ہے۔

خیال رہے کہ ترک صدر رجب طیب اردگان فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع میں امریکی انتظامیہ کے اقدامات پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

ترک صدر امریکا کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے فیصلے کو عالمی سطح پر مذمت کی گئی تھی۔

13 دسمبر کو او آئی سی اجلاس میں ترک صدر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور اخلاقی اقدار کے منافی ہے جبکہ امریکی فیصلہ انتہا پسندوں کے مفاد میں ہے اور فیصلے کو صرف اسرائیل کی حمایت حاصل ہے۔

دیگر مسلم ممالک کے برعکس ترکی کے اسرائیل سے اچھے تعلقات ہونے کے باوجود ترک صدر اسرائیلی حکومت پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ترک صدر نے فلسطینیوں پر مظالم کو نازی ظلم و ستم سے تشبیہ دے دی

خیال رہے کہ رواں سال مئی میں غزہ پٹی پر اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے نہتے فلسطینیوں کی ہلاکتوں اور بڑھنے والی کشیدگی کے بعد ترکی اور اسرائیل نے ایک دوسرے کے سفیروں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کی تھی۔

بعد ازاں ترک صدر نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی مظالم کو جنگ عظیم دوم میں یہودیوں کے ساتھ ہونے والے نازی ظلم و ستم سے تشبیہ بھی دی تھی۔

ترک صدر کے بیان پر ردعمل میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ رجب طیب اردگان کے دور اقتدار میں ترکی کو آمریت کاسامنا ہے۔